شہباز شریف سمیت سانحہ ماڈل ٹاون کے تمام ملزموں کو ای سی ایل میں ڈالا جائے: ڈاکٹر طاہرالقادری کی پریس کانفرنس

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کو شائع کرنے کے حکم کے بعد قائد عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری نے 21 ستمبر 2017ء کو مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ فوری طور پر پبلک کرتے ہوئے شہداء کے ورثاء کے حوالے کی جائے۔ اگر وہ رپورٹ شائع نہیں کرتے تو یہ توہین عدالت ہوگی۔ شہباز شریف سمیت سانحہ ماڈل ٹاون کے تمام ملزموں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے فوری طور پر ان کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نے آج بہت اہم فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے انصاف کی مضبوطی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک مثبت قدم بڑھایا ہے۔ لواحقین کی طرف سے دائر درخواست پر ماڈل ٹاون کیس پر آج کا فیصلہ ٹھنڈی ہوا کا جونکا ہے۔ آج مظلوموں کی پکار سنی گئی ہے۔ انتہائی جرات مندانہ اور دیانتداری پر فیصلہ دینے پر جسٹس مظاہر علی اکبر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج کا فیصلہ سازشیں کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

آج کے فیصلہ نے ماڈل ٹاون کے اذیت ناک واقعہ میں شہیدوں کے لواحقین کو انصاف کی امید دلائی ہے تاہم مکمل انصاف کی فراہمی کے لیے ابھی بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ اس کیس میں سوا تین سال گزرنے کے باوجود ابھی انصاف کی فراہمی میں اہم پیش رفت نہیں ہوئی لیکن ہم نے عدالت کو مذاق نہیں بنایا۔ سوا تین سال میں ابھی تک ایک شخص بھی قانون کے شکنجے میں نہیں آیا۔

دوسری جانب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے صرف ایک معاملہ میں نااہل کیا ہے کہ وہ اس دن سے لے کر آج تک انہوں نے عدلیہ اور عدالت عظمی کے خلاف پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ وہ قوم کو بدگمانی اور بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ نواز شریف سے اپنی نااہلی کا فیصلہ برداشت نہیں ہو سکا۔ نواز شریف کے وزراء دشمن کی بولیاں بول رہے ہیں۔ پاکستان دشمنی نواز شریف اور ان کی نسل کے ایک ایک فرد کی زبان پر آگئی ہے۔ ماڈل ٹاون کیس میں ہم نے ایک دفعہ بھی انصاف، قانون اور عدالت کا دامن نہیں چھوڑا۔

ماڈل ٹاون کے سانحہ میں صرف 14 شہید نہیں ہوئے بلکہ شہید زیادہ ہوئے تھے، کئی شہداء کی فیملیز کو موقع پر ڈرا دھمکا کر ان کے پیاروں کی لاشیں بھی غائب کروا دیں۔ ہمارے ہاتھ میں صرف ثبوت تھے، ان کی تعداد 14 ہے اور ہم وہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ آج کسی فرعون کی طاقت اور قارون کی دولت انہیں خرید نہیں سکی۔ شہداء کے لواحقین ایمان اور غیرت کا پیکر بن کر آج کے دن تک ڈٹے رہے۔ ہمارے کارکنوں کی جرات و بہادری کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

شہباز شریف نے باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ پر خود کو ذمہ دار قرار دینے پر استععفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا، ان سے کوئی پوچھنے والا ہے کہ اب وہ استعفیٰ کیوں نہیں دیتے۔ شہباز شریف میں رتی برابر شرم و حیا نہیں کہ آج 3 سال سے وہ انکوائری رپورٹ دبا کر بیٹھے ہیں۔ اگر جسٹس باقر نجفی کمیشن نے ماڈل ٹاون میں قتل عام کا شہباز شریف کو ذمہ دار قرار نہیں دیا تو پھر رپورٹ دبا کر کیوں بیٹھے ہیں، اسے شائع کیوں نہیں کر دیتے؟ خود کو خادم اعلیٰ کہنے والے قاتل اعلیٰ نے بھی اللہ کو جواب دینا ہے۔ شہباز شریف اور نواز شریف دونوں فرعونوں نے آخر ایک دن مرنا ہے، یہ آج اپنی تقریروں میں فلمی ڈائیلاگ بول کر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔ مرنے کے بعد قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کا فیصلہ ہوگا، جو قاتل ثابت ہو گیا تو اس کا کوئی اور عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔

تبصرہ

Top