قرآن قیادت کے خادمانہ پہلو پر زور دیتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری
سائنس آف مینجمنٹ کا تصور نیا نہیں نہ ہی مغرب سے آیا، کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کے زیراہتمام اہم فکری نشست سے خطاب

لاہور:چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ کے موضوع پر لیکچرز کی سیریز کے آخری لیکچر میں کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی، فکری نشست میں خصوصی شرکت کی اور انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کے حقیقی اوصاف سے متصف ہونے کے لئے قرآن اور سیرت مصطفیؐ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں۔ ابتدائے آفرینش سے ہی " سائنس آف لیڈر شپ " اور " سائنس آف مینجمنٹ " انسان کی ضرورت بن گئی تھی، لیڈرشپ اور مینجمنٹ کا تصور مغربی یا نیا نہیں ہے، اس مضمون کو قرآن مجید نے بطور خاص اپنا موضوع بنایا ہے، قرآن مجید کی ہر آیت لیڈر شپ اور مینجمنٹ کی تعلیم دیتی ہے، ہر آیت خدا کے حسن انتظام کی شاہد ہے، بگڑی ہوئی چیزوں کو ٹھیک کرنے کا عمل مینجمنٹ کہلاتا ہے، قرآن نے قیادت کے خادمانہ پہلو پر زور دیا ہے، لیڈر حکم نہیں چلاتا بلکہ اس کا کردار شفیقانہ، ذمہ دارانہ، ہمدردانہ اور منصفانہ ہوتا ہے، لیڈر اپنی ذات کے لئے ایک مثالی منتظم ہوتا ہے جو خود منتشر اور ڈس آرگنائز ہو وہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں آرگنائز نہیں ہو سکتا، لیڈر منزل اور منزل کی طرف جانے والے راستوں سے آگاہ ہوتا ہے، جب قوم خواب غفلت میں ہو تو لیڈر بیدار ہوتا ہے، لیڈر کی یہ صفت ہے کہ وہ برینڈ کو فالو نہیں کرتا وہ اپنے عمل میں خود ایک برینڈ ہوتا ہے۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ دوسروں کی تہذیب و ثقافت کو کاپی کرنے کی بجائے عادات و اطوار میں مصطفوی سیرت و کردار کا پرتو اور برینڈ بنیں، حقیقی لیڈر اپنا جہان خود تعمیر کرتا ہے، وہ کاپی رائٹ کا قانون توڑتا ہے اور نہ ہی plagiarism کا شکار ہوتا ہے۔ لیڈر تخت نہیں دلوں کا سلطان ہوتا ہے، لیڈر دوسروں کی تکلیف کو اپنے جسم کے اندر محسوس کرتا ہے، کوئی کم ظرف لیڈر نہیں ہو سکتا، لیڈر وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے لبوں کی مسکراہٹ دیکھ کر خود بھی متبسم ہو جاتا ہے، لیڈر کا وجود شفاء بخش ہوتا ہے، وہ Healing Nature والا ہوتا ہے۔ لیڈر اپنے اخلاص، بصیرت اور گہرے مشاہدہ سے چہرہ دیکھ کر دل کا حال جان لیتا ہے، فقط حال ہی نہیں جانتا تکلیف کے مداوا کی سعی بھی کرتا ہے، اللہ نے ہر شخص کو اس کے حلقہ اثر میں لیڈر بنایا ہے، لیڈر شپ کی یہ ذمہ داری گھر سے لے کر معاشرہ تک پھیلی ہوئی ہے، اگر آپ کے زیر اثر چند ایک افراد بھی ہیں تو آپ ان کے لیڈر ہیں اور بطور لیڈر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ان کی بات کو توجہ سے سنیں، ان سے مشاورت کریں اور ہمیشہ منصفانہ اور ہمدردانہ رویہ اپنائیں،اپنے تخلیقی جوہر کو پہچانیں اور پھر اسے نکھاریں، قائدانہ صلاحیت کے جوہر کو نکھارنے کے لئے انسانیت،علم سے محبت اور اہل علم کی صحبت اختیار کریں، لیڈر شپ کوالٹیز کا حامل شخص ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر خدمت اور تربیت کرتاہے، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی زندگی ہمارے سامنے نمونے کے طور پر موجود ہے۔ آپ نے خاتم الانبیا حضور نبی اکرم ؐ کی مبارک سیرت کو رول ماڈل بنایا۔ آپ بھی سیرت و کردار میں نکھار کے لئے سیرت مصطفی ﷺ کو فالو کریں۔
قبل ازیں پرنسپل کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منہاج القرآن اور شیخ الاسلام نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا ماحول فراہم کیا ہے، ڈگری سے معلومات اور اچھا روزگار تو ملتا ہے مگر علم کا فہم تربیت اور تدبر سے حاصل ہوتا ہے، انہوں نے لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ کے موضوع پر بے مثال لیکچرز کی سیریز کے لئے وقت دینے پر چیئرمین سپریم کونسل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی فراہم کی گئی یہ پرتاثیر اور بصیرت انگیز گفتگو ان شااللہ تعالیٰ طلبہ کے لئے فکری زاد راہ بنے گی اور چراغ سے چراغ روشن ہوں گے۔
سیشن میں ناظمِ اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرم نواز گنڈاپور، الحاج عبدالغفور قادری، ڈاکٹر محمد رفیق نجم، شیخ الحدیث پروفیسر محمد نواز ظفر چشتی، محمد آفتاب خان، راجہ زاہد محمود قادری، میاں زاہد اسلام، بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد عمر حیات، کرنل ریٹائرڈ خالد جاوید، ونگ کمانڈر محمد غفار، نوراللہ صدیقی، محمد جواد حامد، علامہ رانا محمد ادریس قادری، مظہر محمود علوی، عین الحق بغدادی، صوفی مقصود حسین قادری، قاری ریاست علی چدھڑ، شیخ فرحان عزیز، علامہ غلام مرتضیٰ علوی، شکیل احمد طاہر، علامہ محمد منہاج الدین قادری، رانا محمد اکرم، علامہ شبیر احمد جامی، ڈاکٹر سید افتخار بخاری، علامہ محب اللہ اظہر، صابر حسین نقشبندی، قاضی فیض الاسلام، سید محمود الحسن جعفری، شہزاد رسول، حسین نواز، لبنیٰ مشتاق، درۃ الزہرا، عائشہ مبشر، قائدینِ تحریک منہاج القرآن و ذمہ داران، منہاج کالج فار ویمن کی طالبات سمیت علماء و مشائخ، اساتذہ اور طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔


































تبصرہ