پاکستان میں بد حالی اور بد امنی کا عذاب ہمارے طرز عمل کا نتیجہ
ہے
جس دور میں اسلام کو مسخ اور داغدار کیا جا رہا ہو اس دور میں اسلام کا صحیح چہرہ سامنے
لانا بہت بڑا جہاد ہے
معاشرے سے برائی ختم کرنے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق جدوجہد کرنا مسلمانوں پر فرض ہے
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا ماہانہ مجلس ختم الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے روحانی اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب
معاشرے سے برائی ختم کرنے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق جدوجہد کرنا مسلمانوں پر فرض
ہے۔ برائی کو برائی نہ سمجھنا ایمان کی کمزوری ہے۔ وہی معاشرہ بامراد ہو گا جس کے افراد
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے داعی ہونگے۔ مسلمانوں کو نیکی کا آغاز اپنی ذات
سے کرنا ہو گا۔ پاکستا ن میں بد حالی اور بد امنی کا عذاب ہمارے طرز عمل کا نتیجہ ہے۔
ان باتوں کا اظہار بانی و سرپرست اعلی تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر
القادری نے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ گوشہ درود کی ماہانہ مجلس
ختم الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روحانی اجتماع سے لندن سے ٹیلی فونک
خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات
کو چھوڑ دیا ہے۔ خیر اور نیکی کے کام کی دعوت کو نظر انداز کردیا ہے۔ جس وجہ سے عذاب
الٰہی کا شکار ہیں۔۔۔ پاکستانی معاشرے میں برائی بڑھ رہی ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے
ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس ووٹ کی طاقت ہے مگر ہم اس کا صحیح استعمال نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ کا صحیح استعمال کریں تو برائی کا جڑ سے خاتمہ کیا جاسکتا
ہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ اگر آج بھی پاکستانی قوم اپنے آپ کو بدلنا چاہتی
ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتی ہے تو ووٹ کا صحیح استعمال کرے۔ یہی
وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے سے نیک اور صالح قیادت مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی
تعلیمات کا مسلمہ اصول ہے کہ چند افراد برائی میں مبتلا ہوں تو اللہ تعالی عذاب نہیں
دیتا لیکن برائی عام ہو رہی ہو اور اسے روکنے کی طاقت کے باوجود معاشرے کے افراد ردعمل
کا اظہار نہ کریں تو اللہ تعالی کی طرف سے عذاب آتے ہیں۔ اس کا ظہور بد کردار، بد دیانت
اور بد اخلاق حکمرانوں کی صورت میں بھی ہوتا ہے۔ قوم سے ان کی غلطیوں کا شعور اور احساس
بھی چھن جاتا ہے۔ اور قوم دعاؤں کے قبول نہ ہونے کا رونا روتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں دین پر عمل کرنے والے لوگ اجنبی بن گے ہیں۔ انہیں
بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ سب دین سے دوری کی علامتیں ہیں۔ انہوں نے کہا دین کے
لیے جدوجہد اور سفر کرنے والے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ جس دور میں اسلام کو مسخ اور داغدار
کیا جارہا ہو اس دور میں اسلام کا صحیح چہرہ سامنے لانا بہت بڑا جہاد ہے۔ تحریک منہاج
القرآن یہی فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔