minhaj.org  
 
سرورق   |   فلاح عامہ   |   سمندرپار   |   نوجوانان   |   طلبہ   |   خواتین   |   بین المذاہب   |   درود   |   القرآن   |   تصانیف   |   خطابات   |   مجلہ جات   |   خريداري   |   العربیۃ   |   English
سرورق
شيخ الاسلام
مشاہیر کے تبصرے
منہاج انسائیکلوپیڈیا
ممبرشپ فارم
مرکزي شعبہ جات
اہم سرگرمياں
تمام سرگرمياں
ماہانہ نیوز لیٹر
ٹی وی پروگرام
سرکلرز
پريس ريليز
اخباري تراشے
کالم / ادارتی صفحات
آرٹيکلز
انٹرويوز
ويب سائٹس
ہمارا رابطہ
آئیں دین سیکھیں
تاريخ وار سرگرمياں
پچھلا مہينہ مئي 2012 ء اگلا مہينہ
پ م ب ج ج ہ ا
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      
تلاش براے تاریخ
ويب سہولتيں
minhaj.org

minhaj.org
متن بڑا کريں متن چھوٹا کريں
ای ميل گروپ
نقشہ جات

Hits: 22,825,813

تحريک منہاج القرآن - اسلام ایک قابل عمل، پرامن اور روشن خیال دین ہے : محمد طاہرالقادری
تفصيل
اسلام ایک قابل عمل، پرامن اور روشن خیال دین ہے : محمد طاہرالقادری
01 فروری 2010 ء
MQI on FB

اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ علم و عمل، تحقیق اور استقامت سے کیا جا سکتا ہے
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی منہاج یونیورسٹی کے پروفیسرز سے گفتگو

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ پہلی صدی ہجری کے اختتام سے قبل اسلامی ریاست یورپ، افریقہ اور ایشیاء تک پھیل چکی تھی۔ پوری دنیا میں اسلامی کلچر غالب تھا اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک صحابہ فلاسفرز، قانون دان، سائنس دان، محدث، مفسر، سکالرز اور فوجی کمانڈر بن کر پوری دنیا میں پہنچ چکے تھے۔ علم و معرفت کے ان سرچشموں سے سارا عالم پیاس بجھا رہا تھا مگر غیر مسلم مستشرقین اس عظیم الشان مثالی دور کو Dark ages کہہ کر کھلی اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ منہاج یونیورسٹی کے پروفیسرز سے کینڈا سے ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 15 ,16 ہجری میں صحابہ کرام خضدار، ایران، بلوچستان اور سندھ تک پہنچ گئے جبکہ عہد عثمانی میں سپین میں مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی بھی قائم ہو چکی تھی۔ نصابی کتب میں درست نہیں لکھا کہ اسلام93 ,94 ہجری میں محمد بن قاسم کے سندھ اور طارق بن زیاد کی سپین آمد سے وہاں پہنچا۔ محمد بن قاسم نے سندھ اور طارق بن زیاد نے سپین میں اسلامی ریاست قائم کی۔ اس سے تقریباً 80 سال قبل اسلامی تہذیب و ثقافت صحابہ کرام کے ذریعے وہاں پہنچ چکی تھی۔ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ اسلام کی خدمات، عظمت اور خوبیوں کا انکار کرنا اکثرغیر مسلم مستشرقین کا بنیادی ہدف ہے۔ وہ متعصبانہ ذہنیت کے باعث اسلام کے کمالات کو نظر انداز کر کے اس کاچہرہ مسخ کر کے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ غیر مسلم مستشرقین کا مشن ہے کہ اسلام کی ایسی تصویر دنیا کو دکھائی جائے جس میں اس کے کمالات، عظمت اور انسانیت کے لئے تاریخی خدمات کی کلیتاً نفی ہو اور اسلام ایک قابل عمل، پرامن اور روشن خیال دین کے طور پر نہ جانا جاسکے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اسلام کے خلاف ہونے والی ان سازشوں کا مقابلہ علم، عمل اور تحقیق کو استقامت کے ساتھ جاری رکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں اساتذہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر قائمقام ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، جی ایم ملک، ڈاکٹر ظہوراللہ الازہری، عباس نقشبندی اور جواد حامد بھی موجود تھے۔

Your Comments

سرگرمیاں از:   آسٹریا | آسٹریلیا | آئرلینڈ | اٹلی | امریکہ | ایران | بحرین | برطانیہ | بنگلہ دیش | بھارت | بیلجیئم | پاکستان | ترکی | جاپان | جرمنی | ڈنمارک | سپین | صومالیہ | کوریا | فرانس | فن لینڈ | متحدہ عرب امارات | مصر | ناروے | ہانگ کانگ | ہالینڈ | یونان
Top Copyright © 1994 - 2012 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved.
Website Traffic