آل پاکستان مشائخ کانفرنس میں ملک بھر سے تین سو سے زائد مشائخ عظام اور پیران کرام کی شرکت، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا خصوصی خطاب

مورخہ: 03 مارچ 2009ء

تحریک منہاج القرآن کی آل پاکستان مشائخ کانفرنس میں ملک بھر سے 300 سے زائد مشائخ عظام اور پیران کرام نے شرکت کی، اسلامی عقائد کے تحفظ، دینی و روحانی اقدار کی بحالی اسلامی تصوف اور صوفیاء کی تعلیمات کی حفاظت و ترویج، انتہاء پسندانہ اور دہشت گردانہ رویوں کے تدارک کیلئے کانفرنس میں شریک مشائخ کرام اور پیران کرام نے اس کانفرنس کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ مشائخ کرام نے متفقہ طور لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کے بڑے واقعہ کی شدید مذمت کی اور اسے پاکستان پر حملہ قرار دیا۔ کانفرنس میں پاکپتن شریف سے دیوان بختیار سید محمد چشتی، صاحبزاد ہ امین الحسنات، معین الدین کوریجہ، پیر سید خلیل الرحمن چشتی، پیر محی الدین محبوب، صاحبزادہ حبیب نواز، پیر غلام رضوانی جیلانی، پیر مخدوم ندیم ہاشمی، پیر منیر ذاکری، مخدوم ولی محمد، حاجی غلام رسول نقشبندی قادری سیفی، پیر فیض شاہد فیضی، مخدوم محمد احسن، غلام مجتبیٰ نوری، سید ضیاء الحق گیلانی سہروردی، خان ولی قادری، پیر غلام دستگیر توگیروی، بدر محی الدین گیلانی، پیر ثناء اللہ طیبی بخاری، صاحبزادہ پیر سید سجاد شاہ بخاری، پیر فیض الحسن شاہ سمیت 300 سے زائد مشائخ عظام اور پیران کرام نے شرکت کی۔

مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ اسلام دین امن و سلامتی ہے۔ تنگ نظری، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ آج کی مشائخ کانفرنس ایسے منفی رویوں کی ہر سطح پر سختی سے مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء نے محبت، امن اور سلامتی کے رویے عام کرکے اپنے کردار سے لاکھوں لوگوں کی تقدیر بدل دی اور مختلف معاشروں کو امن سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشائخ اور پیران کرام معاشرے میں پر امن رویوں کے فروغ کیلئے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں اس حوالے سے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وطن عزیز بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشائخ کرام کا یہ بڑا اجتماع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کے روحانی مراکز ملک میں امن و سلامتی چاہتے ہیں تحریک منہاج القرآن مشائخ کرام کی مشاورت اور رہنمائی سے ایسا تربیتی نظام تشکیل دے گی جس سے تصوف و روحانیت کی قدروں کو معاشرے میں جلا ملے گی اور پاکستان میں دائمی قیام امن میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا کہ روحانی تربیت کیلئے ایک سال کا ایسا جامع نصاب مرتب کیا جائے گا جس میں اخلاقی، علمی و روحانی خانقاہوں پر دروس قرآن و حدیث دیں گے، اس کے معاشرے پر گہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بدعات و خرافات کا خاتمہ کرکے حقیقی تصوف و روحانیت کی ترویج و اشاعت کی جائے گی اور اس میں ملک بھر کے مشائخ عظام اور پیران کرام اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ خواتین کی روحانی تعلیم اور تربیت بھی اس طرح ضروری ہے جیسے مردوں کی۔

انہوں نے کہا کہ مشائخ کانفرنس اس امر پر بھی اتفاق کرتی ہے کہ اخلاقی لگاؤ کی درستگی کیلئے روحانی قدروں کو معاشرے میں فروغ دینا ہوگا اور اس کیلئے مشائخ عظام اور پیران کرام خانقاہی نظام کے فروغ اور ترویج کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مادیت کی دلدل میں دھنسے معاشرے کو روحانی خانوادے ہی درست راستے پر لاسکتے ہیں اور آج کی مشائخ کانفرنس اس بات کی گواہ ہے کہ روحانی شخصیات اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشائخ کانفرنس اس امر پر بھی اتفاق کرتی ہے کہ معاشرے کو دینی، روحانی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے تاکہ مذہبی سکالرز اسلام کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں۔

تحریک منہاج القرآن کے زیرانتظام منعقدہ کل پاکستان مشائخ کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام کل پاکستان مشائخ کانفرنس میں شریک جملہ مشائخ طریقت اور پیران عظام نے مشترکہ و متفقہ طور پر طے کیا کہ موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر تصوف مخالف نظریات و افکار کے فروغ اور صوفیاء کرام کے امن وآشتی پر مبنی پیغام کو مسخ کرنے کی مذموم کوششوں کا سدباب کرنے کے لئے باہم مشاورت سے عملی اقدامات کئے جائیں۔

شرکاء کانفرنس نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں مندرجہ ذیل نکات پر مکمل اتفاق کیا۔

1۔ پاکستان اور دنیابھر میں ہونے والی دہشت گردی اور انتہاپسندی کی ہرشکل کی بھرپور مذمت کی گئی اور اسلام کے محبت وامن پر مبنی پیغام  کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لئے صوفیاء ومشائخ اپنا بھرپور کردارادا کریں گے۔

2۔ خانقاہی نظام کے احیاء اور سلاسل تصوف کے لئے ضابطہ اصلاح تیار کرنا۔

3۔ تصوف ریسرچ سنٹر کا قیام جس کا مقصد سلف صالحین اور اکابر صوفیاء پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینا اور تعلیمات تصوف کو  متقدمین صوفیاء کی آراء و افکار کی روشنی میں پیش کرنا ہو گا۔

4۔ مزارات اور خانقاہوں میں باقاعدہ دینی اداروں کا قیام اور جو ادارے تحریک منہاج القرآن سے منسلک ہوں وہاں صاحبزادگان  اور پیرزادگان گرامی کیلئے خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

5۔ خانقاہوں میں رائج منکرات و خرافات کے خاتمہ و اصلاح کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں بعض خواص اور با اثر  مشائخ پر مشتمل نگران کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

6۔ علماء و مشائخ پر مشتمل رابطہ کمیٹی کا قیام جو مذکورہ بالا اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے اپنا فریضہ منصبی ادا کریں گے۔

7۔ جو مراکز اہل سنت انفرادی سطح پر تعلیم و تربیت کا بہتر اور مؤثر کام سرانجام دے رہے ہیں، انہیں اس اجتماعی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔

8۔ خانقاہی نظام کے احیاء و تجدید کیلئے ایسا جامع نصاب مرتب کرنا جس کی روشنی میں عرفاء و صلحاء کے نقش قدم پر چلنا آسان تر بنایا جا سکے۔

9۔ خانقاہوں، درگاہوں اور درباروں سے منسلک مصلحین اور خلفاء کی تعلیم و تربیت کے لئے ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔

10۔ علم و تحقیق کی حوالہ جاتی و مطالعاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے معیاری لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

11۔ تمام سلاسل کے نظام سلوک کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حلقہ ہائے ذکر و درود کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

12۔ مزارات اور درباروں پر صوفیاء کرام کے طریقہ تبلیغ و اصلاح پر مبنی انداز میں دعوت و ارشاد کے کام کو فروغ دیا جائے گا، خواتین کی  تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا اور خلق خدا کی داد رسی اور حاجت روائی کو ترجیحی بنیادوں پر اختیار کیا جائے گا۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top