زلزلے میں زندہ بچنے والے حکومتی بے حسی اور کرپشن کی زد پر ہیں: ڈاکٹر طاہرالقادری

پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے منہاج ویلفیئر کے زیراہتمام 8 اکتوبر 2005 ء کے قیامت خیز زلزلہ کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے میں زندہ بچنے والے ہزاروں خاندان حکومتی بے حسی اور کرپشن کی زد پر ہیں اور 10 سال بعد بھی کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے امداد اور حکومتی وعدوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ میں شہید ہونے والے والدین کے سینکڑوں یتیم بچوں کی آج بھی کفالت کررہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے جس نے متاثرہ بچوں کے سر پر دست شفقت رکھنے کی توفیق دی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا سے امداد کے نام پر ملنے والے اربوں ڈالر کا پچاس فیصد بھی حق داروں تک پہنچ جاتا تو آزاد کشمیر کے متاثرہ اضلاع کے ہزاروں خاندان اور طلبہ و طالبات ٹینٹوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے نظر نہ آتے۔ تقریب سے ایم ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر سید امجدعلی شاہ، آغوش کے کوآرڈینیٹر طیب اسلم، طاہر شکیل اور تنویر نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں جی ایم ملک، سیکرٹری انفارمیشن نوراللہ صدیقی، ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا عین الحق بغدادی، ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالحفیظ چودھری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

تقریب میں شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں اور ادارہ آغوش میں رہائش پذیر اور زیر تعلیم طالب علموں فیاض ملک، شفیق الرحمن، خالد احمد، جنید اقبال، احمد نعیم، محمد افضل، علی رضا اور زبیر سلطان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ والدین سے بڑھ کر نگہداشت کرنے اور ہماری تعلیم کا بندوبست کرنے پر ہم ڈاکٹر طاہرالقادری اور تحریک منہاج القرآن کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے ہمیں پھر سے صحت مند زندگی کے دھارے میں شامل کیا اور ہمیں ان خوابوں کو تعبیر دینے میں مدد دی جو ہمارے ماں باپ نے دیکھے تھے۔

ایم ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر سید امجد علی شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر کے زلزلہ کے بعد قائدتحریک ڈاکٹر طاہرالقادری نے زیادہ سے زیادہ متاثرہ اور یتیم بچوں کی کفالت کا منصوبہ تشکیل دیا اور انتہائی مختصر عرصہ میں ہم نے متاثرہ بچوں کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ ادارہ آغوش کے نام سے تعمیر کی اور کشمیر کے زلزلہ سے متاثرہ 400 سے زائد بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کا بندوبست کیا۔ انہوں نے کہا کہ الحمداللہ زلزلہ سے متاثرہ بچے جو کسمپرسی کے عالم میں آئے تھے ان میں سے بچوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سول سوسائٹی، سماجی تنظیموں کے عہدیداروں اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ یتیم بچوں کی کفالت او ر اعلیٰ تعلیم و تربیت کے ماحول کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کیلئے ادارہ آغوش میں آئیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منہاج فارن افیئر کے ڈائریکٹر جی ایم ملک نے کہا کہ حکومت نے کشمیر کے زلزلہ سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کیلئے جو وعدے کیے تھے انہیں پورا کیا جائے ۔زلزلہ سے متاثرہ خاندانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی صاف پانی، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور عارضی گھروں میں مقیم ہے۔ حکمران بے حسی ترک کریں اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے کہا کہ زلزلہ میں 6 ہزار سے زائد سکول تبا ہ ہوئے اور ان سکولوں کی اکثریت آج بھی ملبے کا ڈھیر ہے ۔حکمرانوں کے پاس میٹرو بسیں چلانے کیلئے اگر اربوں، کھربوں ہیں تو تعلیم و تربیت کے اداروں کی تعمیر نو کیلئے کیوں نہیں؟۔انہوں نے یتیم بچوں کی کفالت کے حوالے سے ڈاکٹر طاہرالقادری کی خصوصی سرپرستی اور انسان دوست کردار پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

تبصرہ

Top