منہاج ماڈل سکول وادی نیلم زیر تعمیر

مورخہ: 07 مئی 2012ء

8 اکتوبر 2005ء کو مظفر آباد سمیت پورے کشمیر میں شدید زلزلے سے ہزاروں افراد شہید ہوئے، لاتعداد مکانات مسمار ہوئے، بچوں کے سکولز بھی بڑی تعداد میں گر گئے اور بچوں کے مستقبل کو بھی اس زلزلے نے منوں مٹی تلے دبا دیا۔

وادی نیلم کے ایک گاؤں چیلیانہ میں بھی اس زلزلے نے اتنی شدید تباہی مچائی کہ پورے گاؤں کے گھر زمین بوس ہوگئے اور ایک سکول جس میں بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے اس کی پوری عمارت زمین بوس ہوئی اور درجنوں بچے ملبے تلے دب گئے۔ اس کے بعد آج تک وہ گاؤں سکول سے محروم ہے۔

2006ء میں چیلیانہ گاؤں میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ورکز نے ایک ٹینٹ سکول قائم کیا جو ابھی تک چل رہا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر افتخار شاہ بخاری 6 مئی سے 10 مئی تک کشمیر کے وزٹ پر تھے تو چیلیانہ تنظیم کے ذمہ داران نے ان سے رابطہ کیا اور مرکزی ٹیم سمیت انہیں اس ٹینٹ سکول کا وزٹ کروایا۔ انہوں نے سکول میں پڑھانے والے اساتذہ سے ملاقات کی اور بچوں سے انٹرویو ز بھی لیے۔ پہاڑوں کے اندر سے 10 سے 20 کلومیٹر کا سفر کر کے طلبہ و طالبات دور دور سے اس ٹینٹ سکول میں دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں۔ MWF کے ڈائریکٹر نے ان طلبہ و طالبات کے ساتھ سکول چھٹی کے بعد انکے گھر وں تک سفر کیا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر MWF نے کہا کہ ہماری یہ کوشش اور پہلی ترجیح ہوگی کہ ٹینٹ سکول کی جگہ ایک عمارت قائم کی جائے۔ اس کے لیے انہوں نے مخیر حضرات سے سکول تعمیر کرانے کیلئے تعاون کی بھی اپیل کی۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top