پاکستان عوامی تحریک کی ہونے والی ریلی کو روکنے اور سبوتاژ کرنے کے لئے حکمران اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ شیخ زاہد فیاض

مورخہ: 10 مئی 2014ء

پاکستان عوامی تحریک کی ہونے والی ریلی کو روکنے اور سبوتاژ کرنے کے لئے حکمران اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے ریلی کی باقاعدہ اجازت دی اور دوسری جانب راولپنڈی شہر کے عوام کو اور مضافات سے آنے والے کارکنان اور عوام کو ریلی میں شرکت سے روکنے کے لئے بس اڈوں کو سیل کردیا گیا، بک کی گئی بسوںکو ا ڈوں کے اندر بند کردیا گیا، بکنگ واپس کروادی گئی اور ٹرانسپورٹرز کو گاڑی دینے کی صورت میں سخت نتائج کی دھمکیا ںدی جارہی ہیں۔ تاکہ ریلی کو ناکام بنایا جا سکے۔ ان خیالات کااظہار عوامی تحریک کے مرکزی صدر شیخ زاہد فیاض نے ضلعی آفس چاندنی چوک میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر احمد نوازانجم، ساجد بھٹی، ملک افضل، چوہدری عرفان یوسف، شعیب طاہر، غلام علی خان، حیدر علوی، ملک طاہر جاوید، اور دیگر قائدئن بھی موجود تھے۔ انہوںنے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن ہے اسے پر امن ہی رہنے دیا جائے۔ حکمران ڈاکٹر طاہرالقادری کے نام سے خوف زدہ ہوکر ہواس باختہ ہوچکے ہیں۔ اگر کارکنان کو روکا گیا ان کے راستے سے رکاوٹیں نہ ہٹائی گئیں تو نتائج کی تمام تر ذمہ دار حکومت اور راولپنڈی کی انتظامیہ ہوگی۔ آج ریلی میں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا تو اس کے ذمہ دار وفاقی وزیر داخلہ اورصوبائی وزیر داخلہ ہوں گے۔ انہوںنے کہاکہ حکمران عوام کو اپناغلام سمجھتے ہیں اور ملک کو اتفاق فونڈری کی طرز پر چلانا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے کارکنوں نے چوڑیا نہیں پہن رکھیں۔ وہ تمام تر حالات کامقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں، وہ نہ پیچھے ہٹیںگے، نہ رکیں گے، نہ جھکیں گے۔ عوام ڈاکٹر طاہرالقادری کی کال پر اس ظلم کے نظام سے ٹکرانے کے لئے نکل رہے ہیں، کرپشن کے نظام کو زمین بوس کرنے کے لئے نکل رہے ہیں۔ پولیس عوامی تحریک کی ریلی میں رکاوٹ نہ بنے، عوامی تحریک ان کے بچوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ حکمران ملک میں فرعون کانظام چاہتے ہیں عوام ثابت کردیں گے کہ وہ اس ملک میں عدل کا نظام چاہتے ہیں، ملک میں خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Admissions Open Minhaj University Lahore
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top