شریف حکومت دباؤ میں آتی ہے ملک میں دھماکے شروع ہو جاتے ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری

میری شرکت کے اعلان پر راولپنڈی کو سیل کر دیا گیا، میرا نام سن کر حکمرانوں کی ٹانگیں کانپتی ہیں
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں اور پانامہ لیکس کے ڈاکوؤں سے قصاص اور حساب لے کر رہیں گے، لاہور و اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو

لاہور/ اسلام آباد (03 ستمبر 2016) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام روانگی سے قبل دوپہر ڈیڑھ بجے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میری راولپنڈی قصاص و سا لمیت پاکستان مارچ میں شرکت کے اعلان کے بعد حکمرانوں نے راولپنڈی کو کنٹینروں سے سیل کر دیا۔ وزیر اعظم نواز شریف جلسے کرتے پھر رہے ہیں، جس شہر میں وہ جاتے ہیں وہاں کنٹینر کھڑے کر کے راستے بند کیوں نہیں کئے جاتے، ملک میں دوہرے قانون اور دوہری جمہوریت کو نہیں مانتے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل اور پانامہ لیکس کے لٹیروں سے انصاف لئے بغیریہ تحریک ختم نہیں ہو گی۔ انہوں نے وارننگ دی کہ حکمران میرے راولپنڈی پہنچنے سے قبل کنٹینر ہٹا دیں اور راستے کھول دیں ورنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پونے دو سو شہروں میں احتجاج کیا کہیں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، میری شرکت کے اعلان کے بعد حکمرانوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، سربراہ عوامی تحریک کا لاہور سے اسلام آباد جگہ جگہ کارکنوں نے پر تپاک استقبال کیا، ڈاکٹر طاہرالقادری نے نماز عصر کلر کہار اور نماز مغرب پرانے ٹول پلازہ پر ادا کی۔ اسلام آباد پہنچنے پر انہوں نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قصاص مارچ کی کامیابی سے پاکستان کے تمام مظلوموں کو انصاف ملے گا، انہوں نے کہاکہ جب بھی حکومت دباؤ میں آتی ہے ملک میں دھماکے شروع ہو جاتے ہیں سانحہ اے پی ایس کے بعد سانحہ کوئٹہ اور اب مردان دہشتگردی جس کے نا قابل تردید ثبوت ہیں۔ غیر ملکی قوتوں نے نواز شریف کو اقتدار میں لانے کیلئے اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ کی ہے۔ یہ خاندان پاکستان کا محب وطن نہیں قوم کو شریف برادران کے اقتدار اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ جلسہ گاہ پہنچنے پر سربراہ عوامی تحریک کا ہزاروں کارکنان نے والہانہ استقبال کیا اور گو نواز گو کے نعرے لگائے۔ کارکنوں کے نعرے تھے خون رنگ لائے گا انقلاب آئے گا۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top