کینیڈا: مراکش کے عظیم روحانی بزرگ شیخ عبد ﷲ الحداد کی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے ملاقات

مورخہ: 13 مئی 2018ء

گزشتہ روز مراکش کے عظیم روحانی بزرگ اور پیشوا شیخ عبد اللہ الحداد نے کینیڈا میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں امت مسلمہ کی زبوں حالی اور زوال کے اسباب پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آج ملت اسلامیہ کے زوال کو عروج میں بدلنے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تین چیزوں کی اشد ضرورت ہے: علم و ہنر، سلوک و تصوف اور صالح و اہل قیادت۔ شیخ عبد اللہ الحداد نے کہا کہ یہ تینوں چیزیں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اس وقت آپ ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو امت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی صحیح تشخیص اور درست علاج تجویز کرسکتے ہیں۔ شیخ الاسلام کی فکر اور نظریہ پر عمل پیرا ہوکر امت مسلمہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو پھر سے عروج میں بدل سکتی ہے۔

ملاقات میں تصوف کے مطالب و مفاہیم اور اسرار و رموز پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی۔ دین اسلام کے تین درجات میں سے احسان یعنی سلوک و تصوف تیسرا درجہ ہے۔ دین اسلام کا مقصود ایک بندہ مومن کو اسلام اور ایمان سے گزار کر اس درجۂ احسان پر فائز کرنا ہوتا ہے۔ جب افرادِ معاشرہ سلوک و تصوف کی منازل طے کرتے ہوئے درجۂ احسان پر فائز ہوتے ہیں تو پھر ایسا مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس کی بنیاد ایثار و قربانی کے جذبے پر ہوتی ہے اور اس میں طلبِ حقوق کی بجاے ایتاے حقوق پر عمل کیا جاتا ہے۔ آج تصوف ایک رسم بن کر رہ گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تصوف کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ زندگیوں میں نافذ کیا جائے۔ تبھی اس سے کما حقہ فوائد اٹھا کر اصلاح ملت کا فریضہ سرانجام دیا جاسکتا ہے۔

شیخ عبد اللہ الحداد کا شمار مراکش کی عظیم صوفی شخصیات میں ہوتا ہے۔ شیخ عبد ﷲ الحداد شیخ الاسلام سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ انہوں نے شیخ الاسلام سے تمام علمی و روحانی اسانید اور اجازات بھی لی ہوئی ہیں۔ وہ خود کو عقیدتاً شیخ الاسلام کا شاگرد کہتے ہیں۔ انہوں نے مراکش میں ’زاویۃ السلام‘ کے نام سے ایک خانقاہ قائم کی ہوئی ہے جس میں وہ سالکین کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ 2016ء میں جب شیخ الاسلام ان کی دعوت پر وہاں پہنچے تو فاس کے علماء، طلبا اور مستفیدین کی قابلِ ذکر تعداد جمع تھی۔ شیخ عبد اﷲ الحداد نے شیخ الاسلام کا تعارف کرواتے ہوئے گفتگو کرنے کی استدعا کی۔ شیخ الاسلام نے عقیدۂ رسالت پر ایمان افروز خطاب کیا تو وہاں پر موجود حاضرین کی آنکھوں سے چھما چھم آنسو برسنے لگے۔ فاس اور مراکش میں علمی گہرائی اور استدلال و استنباط کرنے والے علماء نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، جس کی بنا پر وہ تشنہ تھے۔ جب شیخ الاسلام کا خطاب ختم ہوا تو سب نے بے پناہ عقیدت کا اظہار کیا، کوئی ہاتھ چوم رہا تھا اور کوئی معانقہ کر رہا تھا۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
AL-HIDAYAH, Quran Festival, Quran Art Work, al-Hidayah Research Institute, al-Hidayah eLearning Institute
Dr Tahir-ul-Qadri's books App Islamic Library by MQI
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top