شیخ الاسلام کا پیغام --- روزانہ تلاوت قرآن اور فہم قرآن

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 19 فروری کو قائد ڈے کی مرکزی تقریب کے موقع پر تحریک منہاج القرآن کے کارکنان، وابستگان اور عوام الناس کو روزانہ تلاوت قرآن اور فہم قرآن کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مجید سے محبت کرنا، اس سے جُڑنا، اس کو بڑی چاہت سے سننا، اسے گہرائی کے ساتھ سمجھنا اور اہتمام کے ساتھ اپنی زندگی میں اتارنا، اس پر عمل کرنا، اس کے پیغام کو سمجھ کر آگے دوسروں تک پہنچانا اوراس کے نور کو اطراف و اکنافِ عالم میں پھیلانا بہت بڑی برکت اور سعادت کا باعث ہے۔ اس پہلو کی عظمت کا ایک گوشہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی قرات مخلوق ہے مگر مقروہ (جس کی قرات کی گئی) وہ مخلوق نہیں ہے، وہ اللہ کی صفت ہے۔ قرآنِ مجید کی تلاوت مخلوق ہے مگر متلو (جس کی تلاوت کی گئی) وہ مخلوق نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی صفت ہے۔ قرآنِ مجید کی سماعت، الفاظ، حروف، آواز اور لہجہ یہ مخلوق ہے مگر مسموع (جو سنا گیا) وہ مخلوق نہیں وہ اللہ کی صفت ہے۔ یہ بڑا عظیم برزخی رشتہ ہے اپنے ظاہر کے کئی پہلوؤں کے اعتبار سے مخلوق سے جڑا ہوا ہے مگر اپنی اصل اور حقیقت کے بےشمار پہلوؤں سے یہ خالق کی یعنی اللہ رب العزت کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اُسی طرح غیرمخلوق اور قدیم ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم اور غیرمخلوق ہے۔ اس ذاتِ قدیم کا فیض اور نور قرآنِ مجید کی صورت میں انسانوں کو منتقل ہوا ہے۔ جب کوئی شخص قرآنِ مجید کو اپنے اندر اتارتا ہے، روزانہ پڑھتا ہے، اس کو سمجھتا ہے، اس کے اندر تدبر کرتا ہے، اس کے اندر تفکر کرتا ہے، اس کی گہرائیوں میں اترتا ہے، اس کی پنہائیوں میں اترتا ہے، اس کے معارف کی وادیوں میں جاتا ہے، اس کے معانی کے باغات کی سیر کرتا ہے، اس کے پیغامات کی وادیوں میں چلتا ہے، اس کے اندر اترتا ہے، اس کے سمندروں میں غوطہ زن ہوتا ہے، اس کی لہروں میں بہتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ قرآنِ مجید کے انوار و تجلیات سے انسان کا ذہن و قلب، روح اور سارا باطن منور سے منور تر ہو جاتا ہے۔

میں تحریک منہاج القرآن کی پوری قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں اور میرے نزدیک اس تقریب کی اہمیت کو چاند اس طرح لگا ہے کہ عالمِ اسلام کے ایک عظیم قارئ قرآن سے ہم نے تلاوت قرآن سنی ہے۔ دنیا میں خوبصورت آواز کے ساتھ کوئی نغمہ پڑھنے والا، کوئی کلام پڑھنے والا، غزل پڑھنے والا، جس کے معانی پاک صاف اور ستھرے ہوں مگر اس کے آہنگ، ترنم، تغنم اور نغمگی سے اور اس کی صوتی لذت سے انسان کے باطن کو کس قدر سیرابی ہوتی ہے۔ کس قدر کیفیت پیدا ہوتی ہے، کتنا سرور ملتا ہے۔ یہ سرور، یہ لذت، یہ کیفیت اور یہ حلاوت دراصل اُس کلام کا اثر ہوتا ہے جو ایک انسان نے لکھا ہے اور انسان نے پڑھا اور گایا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کلمات کے ظاہری اور باطنی اثرات کا عالم کیا ہوگا جو اللہ رب العزت نے فرمائے ہیں۔ اللہ کا وہ کلام جو اس نے لوحِ محفوظ پر محفوظ رکھا تھا، پھر اسے جبریل علیہ السلام کے ذریعے لوحِ محفوظ سے بیت العزت (آسمانِ دنیا پر) منتقل کیا تھا، پھر اسے جبریل امین کے ذریعے قلبِ محمدی ﷺ پر منتقل کیا اور قلبِ اطہر سے آقا علیہ السلام کی زبانِ مبارک کے ذریعے امت اور انسانیت کو ملا تھا۔ اب ان ساری نسبتوں پر غور کریں، یہ کلام محفوظ کہاں رہا؟ منتقل کس کے ذریعے ہوا؟ اسے رکھا کہاں گیا؟ اتار کس مقدس قلب پر گیا؟ وہ قلبِ مصطفیٰ جو لوحِ محفوظ سے بھی عظیم تر ہے۔ عرشِ معلیٰ سے اعلیٰ تر ہے۔ پھرآپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوا۔ مصاحف میں لکھا ہوا کلام جو کتابی صورت میں موجود ہے وہ مخلوق ہے مگر اپنے لفظ اور معنیٰ میں مخلوق نہیں وہ اللہ کی صفت ہے۔ جب کوئی شخص قرآن کے ساتھ جڑتا ہے تو مِن وجہ اللہ کی صفت کے ساتھ جڑتا ہے۔ اور جب کوئی شخص اللہ کی صفت کے ساتھ جڑتا ہے تو صفات انسان کو ذات کے ساتھ جوڑ دیتی ہیں۔

آپ تصور میں کوئی حسین شکل لائیں، جس کے حسن و جمال سے آپ متاثر ہوتے ہیں، حسن و جمال انسان کو اس ذات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ وہ خوبصورتی اس ذات کے حسن سے جوڑ دیتی ہے۔ اسی طرح جتنا خوبصورت پڑھنے والا قاری ہوگا اور جتنے انہماک، لذت اور خوبصورتی کے ساتھ انسان اس کلام کو سنے گا، اس سے جڑے گا اور مَن میں اتارے گا اور اس صفتِ الٰہی سے جو تعلق پیدا ہوگا یہ انسان کو ذاتِ الٰہی سے جوڑے گا، مالائے اعلیٰ کے نور انسان کے سینے پر اتریں گے۔ قرآن ایسی چیز ہے جو فرشی کو عرشی بنا دیتی ہے، خاکی کو عرش کے نور سے جوڑ دیتی ہے اور اللہ رب العزت کے انوار و تجلیات کے سمندروں میں غوطہ زن کر دیتی ہے۔ اسی لیے تحریک منہاج القرآن کے عظیم تر اہداف میں سے ایک ہدف یہ ہے کہ قرآن سے امت کے ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنا اور طبیعتوں کو قرآن کی طرف پھر سے رجوع پر آمادہ کرنا، قرآن کی دعوت پر، تلاوت و تفہیم اور عمل پر لوگوں کو ابھارنا تاکہ اس کے نور سے ہماری انفرادی زندگیاں بھی منور ہوں اور ہمارے معاشرے کی اجتماعی زندگی بھی منور ہوں۔

شیخ الاسلام نے فرمایا آج 19 فروری کی رات میرا پیغام یہ ہے کہ ہر شخص روزانہ ایک رکوع، دس آیتیں، سات آیتیں یا جس قدر فرصت میسر ہو قرآنِ مجید کو یکسوئی کے ساتھ تنہائی میں بیٹھ کر تلاوت کریں، ترجمہ کے ساتھ پڑھیں۔ اگر آج کے دن کو آپ یومِ تشکر مانتے ہیں تو آج کے دن کا میرا آپ کو یہ تحفہ ہے، اس تحفہ کو مرتے دم تک ضائع نہ کریں۔ قرآنِ مجید سے جڑ جائیں، ہر روز قرآن کی تلاوت کریں، یہ آج کی خوشی کے دن کا تحفہ ہے۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top