کمیشن برائے بین المذاہب مکالمہ کے زیراہتمام ’’مسلم مسیحی تعلقات کے فروغ‘‘کے عنوان سے سیمینار

Muslim Christian Relations

کمیشن برائے بین المذاہب مکالمہ کے زیراہتمام ’’مسلم مسیحی تعلقات کے فروغ‘‘کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ قرآن مشترکات پر ایک دوسرے کے ساتھ محبت اورامن کا پیغام دیتا ہے، انسانیت کی بقا اور تحفظ کیلئے بین المذاہب رواداری اور مکالمہ ضروری ہے۔ دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان خوبصورت ملک ہے جہاں بین المذاہب ہم آہنگی کا خوبصورت تصور پایا جاتا ہے۔

سیکرڈ ہارٹ کیتھولک کتھیڈرل چرچ میں انٹرفیتھ ریلیشنز منہاج القرآن اور کل مسالک علماء بورڈ کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، آرچ ڈائسز کیتھولک چرچ آف لاہور آرچ بشپ سبیسٹین فرانسس شاء، کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا محمد عاصم مخدوم، انٹر فیتھ ریلیشنز منہاج القرآن کے ڈائریکٹر سہیل احمد رضا، ماڈیریٹر پریسبٹیرین چرچ آف پاکستان ریونڈ ڈاکٹر مجید ایبل، ریونڈ عمانویل کھوکھر، جمعیت اہلحدیث کے علامہ عبدالوہاب روپڑی، حافظ کاظم رضا، علامہ ضیاء الحسن نجفی سمیت مختلف جید علماء کرام اور بشپ حضرات نے خطاب کیا۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں میثاق مدینہ، حضور اکرم ﷺکے مختلف مکتوب اور قرآن وحدیث کے مختلف حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ، لٹریچر اہل کتاب بلخصوص مسلم مسیحی تعلقات کو فروغ دینے کا بتاتی ہے آج پھر اصل دور سے مثالیں لینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دینے سے تعلقات فروغ پاتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب ہمیں قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ کمیونٹی (مسیحی) مسلمانوں کے قریب ہے تو کون ہے جو ہمیں دور کرتا ہے؟

آج اگر مسلم مسیحی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک خاندان ہے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو فیملی قرار دیا انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نے بھی ہمیں تنگی نہیں بلکہ وسعت کا پیغام دیا ہے انہوں نے کہا کہ جہاں مذہب کی آزادی کے مطابق زندگی گذارنے کی اجازت ہوگی وہ انصاف اور حق کی سرزمین کہلائے گی۔ حضور اکرم ﷺنے مسلمانوں کو مشکل وقت میں نجاشی بادشاہ کے پاس حبشہ میں ہجرت کرنے کی ہدایت دی تھی کیونکہ وہاں مسیحی بادشاہ انصاف قائم کرتا تھا۔ آج ایک بار پھر قرآن وحدیث کے بنیادی اصولوں کو پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔

آرچ بشپ سبیسٹین فرانسس شاء نے کہا کہ 14 سو سال قبل والے مسلم مسیحی تعلقات کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام مذاہب ایک دوسرے کے احترام کا درس دیتے ہیں۔ ہمیں تربیت کے عمل کو جاری رکھنا ہے۔ یہی چیزیں معاشرے کو مضبوط بناتی اور خاندانوں کو قریب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک دوسرے مذاہب کو قریب لانے کی باتیں درسی کتب میں شامل تھی لیکن آج ان باتوں کو نصاب سے نکال دیا گیا ہے۔

چیئرمین کل مسالک علماء بورڈ مولانا محمد عاصم مخدوم نے کہا کہ مکالمہ کے ذریعے مذاہب کے مابین دوریاں ختم کی جاسکتی ہیں۔ ہمیں مشترکات کے ذریعے مذاہب کو قریب کرنا ہو گا۔ مکالمہ بین المذاہب اور رواداری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تمام مذاہب کی اہمیت کے حوالے سے نئی نسل کو آگاہی فراہم کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے۔ پاکستان کے تمام مذاہب کے لوگوں میں بین المذاہب رواداری بے مثال ہے۔

ماڈیریٹر پریسبٹیرین چرچ آف پاکستان ریونڈ ڈاکٹر مجید ایبل نے کہا کہ ہمیں مثبت باتوں کو پھیلانا ہوگا پاکستان خوبصورت ملک ہے، جہاں بین المذاہب ہم آہنگی کا خوبصورت تصور پایا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک پاکستان جیسا نہیں ہے۔

ریونڈ عمانویل کھوکھر نے کہا کہ مسیحی تعلیمات دوسروں سے محبت، امن، بھائی چارے کا درس دیتی ہے۔ ہمارے بزرگ اکٹھے رہتے ہیں لیکن آج نفرت کہاں سے آگئی ہے؟ اس نفرت کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Top