قیامت کے خوف ناک دن میں بھی اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا پہلا پیغام ’’سلام‘‘ ہوگا، جو ہر خوف اور وحشت کو امن و اطمینان میں بدل دے گا: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

مورخہ: 06 جون 2026ء

سلام محض ایک لفظ نہیں بلکہ اسلام کی وہ عملی علامت ہے جو اجنبی کو بھی سلامتی کا احساس دلاتی ہے: شیخ الاسلام کا خطاب

اسلام محض عقائد و عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ امن، محبت، رحمت اور خیر خواہی کا عالمگیر پیغام ہے۔ اسی لیے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ’’السلام علیکم‘‘ کہنے کی تعلیم دی، تاکہ انسانوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد سلامتی، احترام اور محبت پر قائم ہو۔ سلام محض ایک لفظ یا رسمی اظہار نہیں بلکہ ایک دعا، ایک پیغام اور ایک عملی اعلان ہے کہ میری طرف سے تمہارے لیے امن، خیر اور اطمینان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کی زندگی کا آغاز سلام سے ہوتا ہے، اس کی عبادت سلام کے پیغام پر مکمل ہوتی ہے، جنت کا نام بھی ’’دارُ السلام‘‘ رکھا گیا ہے، اور قیامت کے خوف ناک دن میں بھی اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا پہلا تحفۂ ملاقات ’’سلام‘‘ ہوگا، جو ہر خوف، اضطراب اور وحشت کو سکون اور اطمینان میں بدل دے گا۔ پس سلام اسلام کی وہ عظیم علامت ہے جو دلوں کو جوڑتی، فاصلے مٹاتی اور انسانیت کو امن و رحمت کے رشتے میں پرو دیتی ہے۔

اسلام کا آفاقی پیغامِ اَمن و سلامتی ہے:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: کسی شخص کے مسلمان ہونے کی پہلی نمایاں علامت یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے امن، سلامتی اور خیر خواہی کا پیغام بن جائے۔ اس کی زبان سے امن کی بات نکلے، اس کے رویّے سے سکون ملے اور اس کے دل میں دوسروں کے لیے بھلائی کی خواہش ہو۔ اسی لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے سلام کو اسلامی معاشرے کی بنیادی شناخت قرار دیا۔ نماز کے اختتام پر پڑھی جانے والی مسنون دعاؤں میں بھی سلامتی کی تعلیم دی گئی ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام سراسر امن و رحمت کا دین ہے۔

اسلام نے اپنے ماننے والوں کی کچھ نمایاں علامات مقرر کی ہیں جن سے ان کی شناخت ہوتی ہے۔ ہر شخص سے یہ پوچھنا ممکن نہیں کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں، اس لیے اسلام نے ایسے عملی شعار عطا کیے ہیں جو مسلمان کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ’’سلام‘‘ ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

تَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

’’تم جسے جانتے ہو اسے بھی سلام کرو اور جسے نہیں جانتے اسے بھی سلام کرو۔‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد1، ص 19، رقم: 28)

گویا سلام صرف تعارف رکھنے والوں کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے خیر، محبت اور امن کا پیغام ہے، اور یہی ایک سچے مسلمان کے کردار کی پہلی جھلک ہے۔

اسلام میں سلام محض ایک رسم یا تعارفی کلمہ نہیں بلکہ مسلمان کی شناخت اور اس کے کردار کا ایک نمایاں شعار ہے۔ جب ہم ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ’’السلام علیکم‘‘ کہتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے بھائی کے لیے سلامتی، خیر اور امن کی دعا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ’’تم پر اسلام ہو‘‘ بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘۔ گویا ملاقات کے پہلے ہی لمحے میں ایک مسلمان دوسرے کے لیے امن، خیر خواہی اور بھلائی کی دعا کرتا ہے۔ یہی امن جوئی، امن گوئی اور امن طلبی اسلام اور مسلمان کی پہلی علامت ہے۔

اسی لیے اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو سلامتی کا تحفہ دو اور سلامتی کا تحفہ قبول کرو۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ’’السلام‘‘ بھی ہے۔ نماز، جو بندے اور رب کے درمیان سب سے عظیم عبادت ہے، اس کا اختتام بھی سلامتی کی دعا پر ہوتا ہے۔ جب نمازی دائیں اور بائیں رخ پھیر کر ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کہتا ہے تو وہ اپنے اردگرد موجود تمام مخلوقات کے لیے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتا ہے، خواہ وہ انسان ہوں، فرشتے ہوں یا دیگر مخلوقات۔ یوں نماز کا اختتام بھی امن، رحمت اور سلامتی کے پیغام کے ساتھ ہوتا ہے، جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام ابتدا سے انتہا تک سلامتی، محبت اور خیر خواہی کا دین ہے۔

سلامتی؛ اللہ تعالیٰ کا ابدی پیغام:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: نماز کے اختتام پر حضور نبی اکرم ﷺ نے امت کو ایک عظیم دعا سکھائی: اَللّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ السَّلَامُ؛ اس دعا میں بندہ اللہ تعالیٰ کو اُس کے اسمِ مبارک ’’السلام‘‘ کے ساتھ پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ حقیقی سلامتی کا سر چشمہ صرف تیری ذات ہے۔ ہر امن، ہر سکون اور ہر خیر تیری بارگاہ سے عطا ہوتی ہے، اور بالآخر ہر سلامتی تیری ہی طرف لوٹتی ہے۔ گویا سلامتی کا آغاز بھی اللہ کی ذات ہے اور اس کا انجام بھی اللہ ہی کی بارگاہ ہے۔ سلامتی کا مصدر بھی وہی ہے، مرجع بھی وہی؛ مبدأ بھی وہی ہے اور منتہیٰ بھی وہی۔

پھر بندہ اللہ تعالیٰ سے جنت میں داخلے کی دعا کرتا ہے، اور جنت کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے ’’دارُ السَّلام‘‘ یعنی سلامتی کا گھر رکھا ہے۔ یوں انسان کی زندگی سلام کے تحفے سے شروع ہوتی ہے، عبادت سلام کے پیغام پر ختم ہوتی ہے اور آخرت میں اس کا ٹھکانہ بھی سلامتی کا گھر بنتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کی پوری زندگی کو ابتداء سے انتہاء تک امن، رحمت اور سلامتی کے تصور سے وابستہ کر دیا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کے بارے میں فرماتا ہے:

﴿تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ﴾ [الأحزاب : 44]

یعنی جس دن مومن اپنے رب سے ملاقات کریں گے، اُس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے لیے تحفۂ ملاقات بھی ’’سلام‘‘ ہوگا۔ جب اہلِ ایمان قیامت کے دن اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ خود انہیں سلامتی کا پیغام عطا فرمائے گا۔ یہ سلام صرف ایک لفظ نہیں ہوگا بلکہ خوف، وحشت اور اضطراب کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔ یوں قیامت کے ہولناک دن میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں کو سلامتی، اطمینان اور رحمت کے پیغام سے سکون بخشے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا پیغام ابتداء سے انتہاء تک سلامتی، امن اور رحمت کا پیغام ہے، اور مومن کی زندگی سلام سے شروع ہو کر سلام پر ہی مکمل ہوتی ہے۔

آخر میں شیخ الاسلام نے کہا کہ: آپ نے ملاحظہ کیا کہ اسلام کی تمام تعلیمات کا مرکز امن، محبت، رحمت اور سلامتی ہے۔ محبت اور رحمت انسان کے دل میں امن کو جنم دیتی ہیں، اور امن کا ماحول محبت و رحمت کے پھول کھلاتا ہے۔ کبھی محبت اور رحمت اصل ہوتی ہیں اور امن اِن کا ثمر بنتا ہے، اور کبھی امن بنیاد بنتا ہے تو اس کے نتیجے میں محبت، شفقت اور خیر خواہی پروان چڑھتی ہے۔ اس طرح یہ تمام اقدار ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے سے جدا نہیں کی جا سکتیں۔

جب ہم قرآنِ مجید کا مطالعہ کرتے ہیں اور احادیثِ نبویہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ہر سمت رحمت، محبت اور سلامتی کا پیغام دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس سے لے کر حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ تک، قرآن کی تعلیمات سے لے کر سنتِ نبوی ﷺ تک، اور کتاب و سنت کے احکام سے لے کر شریعت کے قوانین تک ہر جگہ رحمت، شفقت، عفو، درگزر، نرمی، بخشش، خیر خواہی اور امن و سلامتی کے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی روح ہے جو اسلام کو سراپا رحمت اور انسانیت کے لیے امن و سکون کا پیغام بناتی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top