دین کی دعوت کا دروازہ آسانی، محبت اور حُسنِ اخلاق سے کھلتا ہے، سختی اور نفرت سے نہیں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
دینِ اسلام کو اس کے حُسن، رحمت اور آسانی کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت جاگزیں ہو: شیخ الاسلام کا خطاب
مساجد اسلام کی پہلی اور بنیادی تربیت گاہیں ہیں، جہاں صرف عبادت ہی نہیں بلکہ اخلاق، کردار، محبت، اخوت اور انسان سازی کا درس بھی دیا جاتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں بتاتی ہے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کی اصلاح سختی، تحقیر اور ڈانٹ ڈپٹ سے نہیں بلکہ شفقت، حکمت اور حُسنِ اخلاق سے فرمائی۔ آج یہ سوال ہمارے لیے غور طلب ہے کہ کیا ہماری مساجد میں بھی تربیت کا یہی ماحول موجود ہے؟ کیا وہاں آنے والا ہر شخص، خواہ وہ دین سے ناواقف ہو یا کسی غلطی کا مرتکب ہو، محبت، رہنمائی اور خیر خواہی پاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دین کی دعوت کا دروازہ آسانی، محبت اور حُسنِ اخلاق سے کھلتا ہے، سختی اور نفرت سے نہیں۔ جب ہماری مساجد نبوی ﷺ اسلوبِ تربیت کا آئینہ بن جائیں گی تو وہ صرف نمازی ہی نہیں بلکہ باکردار، مہذب اور دین سے محبت کرنے والے انسان بھی پیدا کریں گی۔
دعوت و تربیت کا نبوی منہج: حکمت، شفقت اور آسانی:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ایک دیہاتی شخص رسولِ اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ ﷺ مسجدِ نبوی میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ وہ شخص ابھی اسلام کی تعلیمات اور مسجد کے آداب سے پوری طرح واقف نہیں تھا۔ جاہلیت اور کفر کے ماحول سے نکل کر ابھی تازہ تازہ اسلام میں داخل ہوا تھا، اس لیے اُسے دینی احکام اور اسلامی تہذیب سیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔
مسجدِ نبوی میں داخل ہونے کے بعد اس نے لاعلمی کی بنا پر وہیں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم یہ منظر دیکھ کر فورًا اسے روکنے کے لیے آگے بڑھے، لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے انہیں روک دیا اور فرمایا:
لَا تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ
اسے (درمیان میں) مت روکو، اسے چھوڑ دو۔ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے اُسے چھوڑ دیا (حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا)
(بخاری، الصحیح، جلد5، ص 2242، رقم: 5679)
(مسلم، الصحیح، جلد1، ص 236، رقم: 284)
چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خاموش ہو گئے اور اس شخص کو پیشاب مکمل کرنے دیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے فرمایا کہ اگر اسے اچانک ڈانٹ کر روکا جاتا تو پیشاب رک جانے کی وجہ سے اسے جسمانی تکلیف پہنچ سکتی تھی۔
جب وہ شخص فارغ ہو گیا تو آپ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ پانی کے ایک دو ڈول لا کر اس جگہ بہا دو اور اسے دھو دو۔ پھر آپ ﷺ نے تربیت کا ایک عظیم اصول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ
’’کہ بے شک تمہیں آسانیاں پیدا کرنے والا بنایا گیا ہے تنگی اور سختی پیدا کرنے والا نہیں بنایا گیا‘‘ (بخاري، الصحيح، جلد1، ص 89، رقم: 217)
رسولِ اکرم ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دی کہ تم لوگوں کے لیے آسانی، سہولت اور رحمت کا ذریعہ بنو۔ تمہارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ محبت اور رغبت کے ساتھ اسلام کے قریب آئیں، نہ کہ تمہارے رویے سے خوف زدہ ہو کر دین سے دور بھاگ جائیں۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کو خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ؛ آسانی پیدا کرو، دشواری نہ پیدا کرو۔
اسلام کو اس انداز میں پیش کرو کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوں، اس کی خوبصورتی اور رحمت کو محسوس کریں۔ دین کو اس قدر سخت اور پیچیدہ بنا کر پیش نہ کرو کہ لوگ گھبرا جائیں اور اس سے دوری اختیار کر لیں۔
پھر جب وہ دیہاتی شخص پیشاب سے فارغ ہو گیا تو رسولِ اکرم ﷺ نے اسے اپنے پاس بلایا۔ نہ اسے ڈانٹا، نہ سرزنش کی اور نہ ہی اس کی تحقیر فرمائی، بلکہ نہایت محبت، شفقت اور نرمی کے ساتھ اُسے مسجد کے آداب سکھائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلَا الْقَذَرِ إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّلَاةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ
’’یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں‘‘ (مسلم، الصحیح، جلد1، ص 236، رقم: 284)
یوں نبی اکرم ﷺ نے اپنے حُسنِ اخلاق، حکمت اور شفقت سے ایک لاعلم شخص کی اصلاح فرمائی اور امت کو یہ عظیم اصول سکھا دیا کہ تربیت اور دعوت کا سب سے مؤثر راستہ محبت، نرمی اور حکمت ہے، نہ کہ سختی، تحقیر اور نفرت۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ