رحمت صرف دنیاوی نعمتوں کے حصول کا نام نہیں، بلکہ شعور کی بیداری، حق کی پہچان اور ظلم کے خلاف استقامت بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
سیدنا امام حسین علیہ السلام کی شہادتِ عظمیٰ نے حق و باطل کے درمیان وہ روشن لکیر کھینچ دی جسے قیامت تک کوئی مٹا نہیں سکتا: صدر منہاج القرآن
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا محض ایک باب نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا ایسا آفاقی پیغام ہے جس کی روشنی مذہب، نسل، زبان اور زمانے کی تمام حدود سے بلند ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف دنیاوی نعمتوں، آسائشوں اور خوش حالی کا نام نہیں، بلکہ حق کی پہچان، ظلم کے خلاف استقامت، حریتِ فکر، بیدارئ شعور اور انسانی وقار کا تحفظ بھی اسی رحمتِ الٰہی کے عظیم مظاہر ہیں۔ اسی لیے آپ علیہ السلام کی شہادتِ عظمیٰ نے حق و باطل کے درمیان ایسی روشن اور ابدی لکیر کھینچ دی جو قیامت تک انسانیت کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ عزت کے ساتھ جینا اور حق پر قائم رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے، خواہ اس کے لیے جان ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے جو عدل، آزادی، غیرت اور انسانی اقدار پر ایمان رکھتا ہے۔
آیتِ رحمت کی روشنی میں سیدنا امام حسین علیہ السلام کی عظمت:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾
’’اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر‘‘ [الأنبياء : 107]
عام طور پر یہ آیتِ مبارکہ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت، شانِ رسالت اور رفعتِ ذکر کے بیان میں پڑھی جاتی ہے، لیکن آج ہم اسی آیت کی روشنی میں امامِ عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظمت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ’’رحمۃً للعالمین‘‘ قرار دیا ہے۔ اس آیت کا مرکزی لفظ ’’رحمت‘‘ ہے، جس کے مفہوم کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ لغت کے اعتبار سے رحمت کے معنی نرمی، شفقت، مہربانی، معاف کر دینا، رحم کرنا اور دوسروں کے دکھ درد دور کرنا کے ہیں۔ یعنی رحمت وہ صفت ہے جو انسان کے دل میں محبت، خیرخواہی اور ہمدردی پیدا کرتی ہے۔
علمائے لغت نے لفظِ ’’رحمت‘‘ کے مزید معانی بھی بیان کیے ہیں۔ ان کے مطابق رحمت سے مراد دل کی نرمی، مخلوق کے لیے خیرخواہی، اور ایسا پاکیزہ جذبہ ہے جو انسان کو دوسروں پر احسان و انعام کرنے پر آمادہ کرے۔ گویا جس شخص کے دل میں رحمت ہوتی ہے، وہ دوسروں کے لیے آسانی، محبت اور خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے دل میں لوگوں کی بھلائی کا جذبہ موجزن رہتا ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے ان کے دکھ درد بانٹنے اور ان پر احسان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ رحمت ہے جس کا کامل اور جامع مظہر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس کو بنایا اور آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔
اسی رحمت کی تفسیر تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث کے ذریعے ہمیں عطا فرما دی جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ.
’’اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس اُن میں سے ننانوے حصے رکھے، صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی/گھوڑا بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس کے بچہ کو تکلیف نہ پہنچے۔‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد5، ص 2236، رقم: 5654)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جتنی محبت، شفقت، ہمدردی اور رحمدلی نظر آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے صرف ایک حصے کا اثر ہے، جبکہ رحمت کے ننانوے حصے اس نے اپنے پاس محفوظ رکھے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ’’رحمۃً للعالمین‘‘ بنا کر بھیجا، تو آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس اس الٰہی رحمت کا سب سے کامل مظہر بن گئی۔ یہی رحمت آگے چل کر آپ ﷺ کے اہلِ بیتِ اطہار، بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت، کردار اور عظیم قربانی میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے، جہاں انسانیت کے لیے محبت، ہدایت، ایثار اور خیرخواہی کا بے مثال نمونہ دکھائی دیتا ہے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: عام طور پر جب ہم ’’رحمت‘‘ کا لفظ سنتے ہیں تو فورًا ہماری نظر دنیاوی نعمتوں کی طرف جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص خوشحال ہو، صحت مند ہو، اچھا روزگار رکھتا ہو، اس کے گھر میں خیر و برکت ہو، اللہ تعالیٰ اسے رزقِ حلال کی فراوانی، نیک اولاد یا سازگار حالات عطا فرمائے، یا قحط کے بعد بارش نازل ہو جائے، تو ہم ان تمام نعمتوں کو اللہ کی رحمت قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب رحمتِ الٰہی کی روشن مثالیں ہیں، لیکن رحمت کا مفہوم صرف انہی نعمتوں تک محدود نہیں۔
قرآنِ مجید ہمیں رحمت کا کہیں زیادہ وسیع اور گہرا تصور عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف مادی آسائشوں کا نام نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کا نزول، تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور بعثتِ مبارکہ، اور انسانیت کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کی تشریف آوری بھی رحمتِ الٰہی کے عظیم مظاہر ہیں۔
اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ظلم، جبر اور آزمائشوں سے نجات عطا فرماتا ہے، تو یہ بھی اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور جب وہ کسی ایسی عظیم ہستی کو مبعوث یا پیدا فرماتا ہے جس کے کردار، پیغام اور قربانی سے قوموں کے ضمیر بیدار ہو جائیں، لوگوں میں حق و باطل کی پہچان پیدا ہو جائے، اور وہ ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حوصلہ حاصل کر لیں، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بے مثال رحمت ہے۔ اس لیے رحمت صرف کھانے، پینے اور دنیاوی آسائشوں کا نام نہیں، بلکہ غلامی سے آزادی، شعور کی بیداری، حق کی شناخت اور ظلم کے خلاف استقامت بھی رحمتِ الٰہی کے عظیم ترین مظاہر ہیں۔ ایسی رحمت کے اثرات صرف ایک زمانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسل در نسل انسانیت کی رہنمائی کرتے اور قوموں کی تقدیر بدلتے رہتے ہیں۔
رحمتِ الہی کے مختلف مظاہر:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ؛ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾
’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسعت رکھتی ہے‘‘ [الأعراف : 156]
اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی ایک پہلو یا ایک طبقے تک محدود نہیں، بلکہ اس نے پوری کائنات کو اپنے دامنِ رحمت میں سمیٹ رکھا ہے۔ کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس کی رحمت نہ پہنچتی ہو۔ خواہ انسان کی مادی ضروریات ہوں یا اس کے دل و دماغ کی اصلاح، ضمیر کی بیداری ہو یا غیرت و حریت کا فروغ، مظلوم قوموں کی آزادی ہو یا بکھری ہوئی امتوں کا دوبارہ متحد ہو جانا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مختلف مظاہر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں میں سب سے عظیم رحمت وہ ہے جس کے اثرات زمانوں تک باقی رہیں اور پوری انسانیت کو مسلسل فیض پہنچاتے رہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رحمۃً للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کے ذریعے ہمیں قرآنِ مجید جیسی ابدی ہدایت ملی، توحید کا روشن پیغام ملا، اور ایک ایسا کامل نظامِ حیات ملا جس نے انسانیت کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم، عدل اور اخلاق کی روشنی عطا کی۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی شانِ رحمت ہی کا فیض تھا کہ عورتوں کو اُن کے حقوق ملے، یتیموں کو کفالت اور شفقت نصیب ہوئی، غلام ظلم و استبداد کی زنجیروں سے آزاد ہوئے، بھوکوں کو رزق ملا، اور علم و حکمت کی وہ شمع روشن ہوئی جس نے پوری دنیا کو منور کر دیا۔ یہ سب اس رحمتِ مصطفوی ﷺ کے آثار ہیں جو قیامت تک انسانیت کے لیے سرچشمۂ خیر بنی رہے گی۔
جب رسولِ اکرم ﷺ رحمۃً للعالمین ہیں، تو آپ ﷺ کی رحمت کا فیض ہر اُس انسان تک پہنچتا ہے جس کے دل میں حق کی محبت، غیرتِ ایمانی، آزادی کا جذبہ اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ زندہ ہو۔ جو شخص حق و صداقت کے لیے قربانی دینے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے پیغام پر ثابت قدم رہنے اور ہر حال میں اصولوں کا پرچم بلند رکھنے کا عزم رکھتا ہے، وہ درحقیقت اسی رحمتِ مصطفوی ﷺ کے فیضان سے بہرہ مند ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کا امتیازی وصف بنایا۔
آخر میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و جبر سے نجات عطا فرمائی تو یہ اس کی رحمت کا عظیم مظہر تھا۔ اسی طرح جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے باطل نظام کے مقابلے میں توحید کا پرچم بلند کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کے ذریعے انسانوں کو شرک و گمراہی سے نجات بخشی، تو یہ بھی رحمتِ الٰہی کا ہی جلوہ تھا۔ پھر جب تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو فتحِ مکہ کی عظیم نعمت عطا ہوئی اور آپ ﷺ نے انتقام کی بجائے عفو و درگزر کا بے مثال نمونہ پیش فرمایا، تو وہ بھی سراسر رحمت تھی۔
اسی تسلسل میں میدانِ کربلا کا عظیم واقعہ کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزیدی ظلم و استبداد کے سامنے حق، حریت اور عزتِ انسانیت کا عَلَم بلند کیا، تو آپ علیہ السلام کی یہ جدوجہد محض ایک تاریخی واقعہ نہ رہی، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو بیدار کرنے والی ابدی رحمت بن گئی۔ کربلا نے یہ واضح کر دیا کہ ظلم کے سامنے خاموشی ذلت ہے، جبکہ حق کے لیے ڈٹ جانا ہی حقیقی عزت اور کامیابی ہے۔
رحمت ہمیشہ مادی نعمتوں کی صورت میں نہیں آتی۔ کبھی وہ رزق، صحت اور آسائش کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، کبھی غلامی کی زنجیروں سے آزادی بن کر آتی ہے، کبھی سوئے ہوئے ضمیر کو جگا دیتی ہے، اور کبھی ایک عظیم شہادت کی صورت میں حق و باطل کے درمیان ایسا واضح امتیاز قائم کر دیتی ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادتِ عظمیٰ بھی ایسی ہی رحمتِ الٰہی ہے، جس نے باضمیر اور بے ضمیر، حق اور باطل، وفاداری اور مصلحت پرستی کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک روشن لکیر کھینچ دی۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ