جو شخص اپنی خوشی کا معیار دوسروں کی دولت بنا لیتا ہے، وہ زندگی بھر کسی نہ کسی سے خود کو محروم ہی محسوس کرتا رہتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
آج کے نوجوان کی سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اندر صبر کم اور جلد بازی زیادہ ہو گئی ہے: صدر منہاج القرآن
آج کا انسان وسائل کی کمی سے زیادہ ذہنی بے سکونی، اضطراب اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ ڈپریشن اور انزائٹی کی بنیادی وجہ معاشی تنگی ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ انسان کی بے چینی کا سب سے بڑا سبب دوسروں سے مسلسل موازنہ (Comparison)، مصنوعی کامیابیوں کی اندھی دوڑ اور ہر منزل کو فوری حاصل کرنے کی خواہش بن چکی ہے۔ جب انسان اپنی خوشی کا معیار اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے بجائے دوسروں کی دولت، شہرت اور آسائشوں کو بنا لیتا ہے تو اس کے دل سے قناعت، صبر اور شکر کی دولت رخصت ہو جاتی ہے۔ یہی احساسِ محرومی رفتہ رفتہ ڈپریشن، انزائٹی اور روحانی بے سکونی کو جنم دیتا ہے۔ اس لیے آج کی نوجوان نسل کو صرف معاشی وسائل کی نہیں بلکہ درست فکر، روحانی شعور، صبر، قناعت اور اپنی زندگی کو دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے تناظر میں دیکھنے کی تربیت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
جدید دور کے فتنوں میں نوجوانوں کی فکری و روحانی آزمائش:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: آج کی نوجوان نسل جن حالات اور چیلنجز سے دوچار ہے، انہیں بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: اندرونی عوامل (Internal Elements) اور بیرونی عوامل (External Elements)۔ اندرونی عوامل میں اَنا، بغض، کینہ، غصہ، قناعت کا فقدان، بے صبری، بے چینی اور جلد بازی نمایاں ہیں۔ آج کا نوجوان ہر کامیابی کو فورًا حاصل کرنا چاہتا ہے، حالانکہ ہر منزل اپنے ساتھ وقت، محنت اور صبر کا تقاضا کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی کامیابیاں، خواہ حقیقی ہوں یا مصنوعی، نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ تأثر پیدا کر دیتی ہیں کہ ہر شخص کو کم عمری ہی میں غیر معمولی کامیابی حاصل کر لینی چاہیے۔ یہی عجلت انہیں صحیح اقدار، مسلسل جدوجہد اور متوازن طرزِ زندگی سے دور کر دیتی ہے، یہاں تک کہ زندگی اپنی حقیقی مقصدیت کھونے لگتی ہے۔
دوسری طرف بیرونی عوامل میں میڈیا، خصوصًا سوشل میڈیا، اور اس کا الگورتھم (Algorithm) نہایت گہرا کردار ادا کر رہے ہیں۔ الگورتھم بذاتِ خود ایک سائنسی نظام ہے، لیکن جب یہ انسان کی نفسیات اور خواہشات کو مسلسل ایک ہی سمت میں دھکیلنے لگے تو وہ خاموش قاتل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایک مرتبہ عیش و عشرت، مہنگی گاڑیوں، عالی شان گھروں، قیمتی گھڑیوں، زیورات یا دنیاوی کامیابی کی ویڈیوز دیکھ لے تو الگورتھم اسی نوعیت کا مواد بار بار اس کے سامنے پیش کرتا رہتا ہے۔ یوں وہ مسلسل اس کی نفسیات، سوچ اور روحانی شعور پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان خود کو مادی خواہشات کے حصار میں مقیّد محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ بیرونی یلغار ہے جس نے آج کے معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور روحانی زندگی کو شدید متأثر کر دیا ہے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اسی طرح نوجوان نسل کو متأثر کرنے والے بیرونی عوامل میں مادّی حیثیت (Material Status) اور کنزیومر کلچر (Consumer Culture) بھی نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج معاشرے میں دولت کی فراوانی، آسائشوں کی چمک دمک اور ظاہری شان و شوکت کو کامیابی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔ نتیجتاً لوگ حقیقی خوشی اور روحانی سکون کے بجائے مادّی حیثیت کے حصول کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔ ہر شخص دوسروں سے بڑھ کر نظر آنے اور زیادہ سے زیادہ دنیاوی آسائشیں سمیٹنے کی خواہش میں اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا نظامِ تعلیم اور نصاب بھی اخلاقی و فکری تربیت کے بنیادی مقاصد سے کافی حد تک دور ہو چکا ہے۔ نصاب سے اعلیٰ اخلاق، کردار سازی اور انسانی اقدار بتدریج کم ہوتی جا رہی ہیں، جس کے باعث نئی نسل متوازن شخصیت کی تعمیر سے محروم رہتی ہے۔ طلبہ کو تنقید (Criticism) تو سکھائی جاتی ہے، لیکن تنقیدی و تعمیری سوچ (Critical Thinking) پیدا نہیں کی جاتی؛ وہ اعتراض کرنا تو جانتے ہیں مگر مسائل کا مثبت اور قابلِ عمل حل پیش کرنے کی صلاحیت سے محروم رہتے ہیں۔
اسی طرح اخلاقی استدلال (Ethical Reasoning) بھی ہماری تعلیمی اور سماجی زندگی سے تقریبًا غائب ہو چکا ہے۔ اختلافِ رائے کس تہذیب، کس اخلاق اور کن اصولوں کے تحت کیا جائے، دلیل کیسے پیش کی جائے، اور مخالف کی عزت کو برقرار رکھتے ہوئے مکالمہ کیسے کیا جائے، یہ اوصاف ہماری تربیت کا حصہ نہیں رہے۔
مزید برآں، کنزیومر کلچر نے ہماری اجتماعی نفسیات کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ہر طرف اشتہارات، بڑے بڑے بل بورڈز، معروف برانڈز کی دلکش تشہیر اور نت نئی مصنوعات انسان کو مسلسل یہ احساس دلاتی رہتی ہیں کہ اس کی خوشی مزید خریدنے اور زیادہ حاصل کرنے میں ہے۔ یوں انسان اپنی حقیقی ضروریات کے بجائے دوسروں کی نظر میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے نئی گاڑی خرید لی، بڑا گھر بنا لیا یا موبائل کا نیا ماڈل لے لیا تو دوسرا بھی اسی دوڑ میں شامل ہونے کو اپنی کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔ اس اندھی مسابقت نے قناعت، سادگی اور روحانی اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب معاشرہ مادہ پرستی، بے مقصد مقابلہ آرائی اور صارفیت کو کامیابی کا معیار بنا لے تو دینی، اخلاقی اور روحانی اقدار کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ یہی وہ خاموش یلغار ہے جو آج ہمارے معاشرے، خصوصًا نوجوان نسل کی فکر، کردار اور روحانیت کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔
غربت کی اَقسام اور اسلامی تعلیمات:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: غربت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی دو بنیادی اقسام میں فرق کیا جائے: مطلق غربت (Absolute Poverty) اور (Relative Poverty)۔ مطلق غربت سے مراد وہ حالت ہے جس میں انسان زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو، مثلاً صاف پانی، رہائش، مناسب لباس، خوراک، علاج اور بنیادی تعلیم جیسی سہولتیں بھی میسر نہ ہوں۔ اسلام ایسی غربت کو صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں لوگ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہوں تو اس کے خاتمے کی ذمہ داری حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ہر صاحبِ استطاعت فرد پر بھی عائد ہوتی ہے۔
اس کے برعکس (Relative Poverty) وہ احساس ہے جس میں انسان اپنی ضروریات پوری ہونے کے باوجود خود کو دوسروں سے کم تر سمجھتا ہے۔ وہ اپنے کسی رشتہ دار، دوست یا پڑوسی کے زیادہ مال، بہتر گھر، قیمتی گاڑی یا اعلیٰ معیارِ زندگی کو دیکھ کر خود کو محروم محسوس کرتا ہے۔ یہ محرومی حقیقی نہیں بلکہ نفسیاتی اور باطنی کیفیت ہوتی ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اگر انسان اپنی خوشی کا معیار دوسروں کی دولت اور حیثیت کو بنا لے تو وہ ہمیشہ کسی نہ کسی سے خود کو کمتر ہی سمجھے گا، خواہ اس کے پاس کتنی ہی نعمتیں کیوں نہ ہوں۔
اسی احساسِ محرومی نے آج کے معاشرے میں بے چینی، اضطراب، ڈپریشن اور ناشکری کو جنم دیا ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے بجائے دوسروں کی آسائشوں کو دیکھ کر غمزدہ رہتا ہے۔ اس کا نقصان صرف اسی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی گفتگو، شکایات اور مایوسی کا اثر اس کی اولاد کی شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔ بچے بھی یہی سوچ اپنا لیتے ہیں کہ خوشی اپنی نعمتوں میں نہیں بلکہ دوسروں سے زیادہ حاصل کرنے میں ہے، اور یوں ایک پوری نسل احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہے۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مطلق غربت کے خاتمے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی جائے، جبکہ نسبتی غربت کا علاج روحانی تربیت، قناعت، شکر گزاری، صبر اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر رضا میں ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ رزق، صلاحیت، مواقع اور آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق تقسیم ہوتی ہیں، تو اس کے دل سے دوسروں سے موازنہ کرنے کی بیماری ختم ہونے لگتی ہے۔ یہی فکر انسان کو سکونِ قلب عطا کرتی ہے اور خاندان و معاشرے کو حسد، ناشکری اور دائمی بے چینی سے محفوظ رکھتی ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ