محبتِ اہلِ بیت ایمان کی روشن علامت ہے، جبکہ اُن سے بغض و عداوت منافقت کی واضح نشانی ہے؛ اس لیے ایمان اور بغضِ اہلِ بیت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
جس دل میں اہلِ بیتِ نبوت علیہم السلام کی محبت ہو، وہ دل ایمان کی خوشبو سے معطّر ہوتا ہے، اور جس دل میں اُن سے دشمنی ہو، وہ نورِ ایمان سے محروم رہ جاتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام ایمان کی پہچان ہے۔ یہ محض ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان کی صداقت، اخلاصِ قلب اور محبتِ رسول ﷺ کا روشن مظہر ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت دل کو نورِ ایمان سے منوّر کرتی ہے، جبکہ اُن سے بغض و عداوت انسان کو منافقت کی تاریکیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی محبت، نصرت اور وفاداری کا معیار اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت کو قرار دیا، تاکہ ہر دور کا مسلمان جان لے کہ ایمان کی تکمیل، محبتِ مصطفیٰ ﷺ اور محبتِ اہلِ بیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جس دل میں اہلِ بیتِ نبوت علیہم السلام کی محبت جاگزیں ہو، وہ ایمان کی خوشبو سے معطّر رہتا ہے، اور جو اس نعمت سے محروم ہو جائے، وہ نورِ ایمان کی حقیقی لذت سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت عین ایمان ہے:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَليٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ علیھم السلام: أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ۔
’’بے شک رسول اللہ ﷺ نے مولا علی، سیدہ زہراء، امام حسن و حسین علیہم السلام کو فرمایا: میں لڑنے والا ہوں اُس سے جس سے تم لڑو، اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو۔‘‘ (ترمذی، السنن، جلد5، ص 699، رقم: 3870)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آقا علیہ السلام نے اپنی دوستی اور دشمنی کا معیار اہلِ بیت کے مبارک ومطہر اَفراد کو بنا دیا۔ پھر آقا علیہ السلام نے اس پر دوسرے رُخ سے زجر و توبیخ کے انداز میں فرمایا؛ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں، حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَبْغَضَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَهُوَ مُنَافِقٌ.
’’(اے اہل بیت) جو ہم سے بغض رکھے گا وہ منافق ہے۔‘‘ (احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، جلد2، ص 661، رقم: 1162)
مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
لَا يُحِبُّنَا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُنَا مُؤْمِنٌ
’’ہم اہل بیت کے ساتھ منافق محبت نہیں کرے گا اور ہمارے ساتھ مؤمن بغض نہیں رکھے گا۔‘‘ (ابن أبی شیبۃ، المصنف، جلد6، ص 372، رقم: 32116)
یعنی منافقت اور محبتِ اہل بیت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اور فرمایا ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص ہو مؤمن اور ہم سے بغض رکھے، ایمان اور بغضِ اہل بیت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ آقا علیہ السلام نے ایک دن ہمیں خطاب فرمایا اور کہا:
يا أيها الناس من أبغضنا اهل البيت حشره الله يوم القيامة يهوديا فقلت يا رسول الله وإن صام وصلى قال وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم
’’اے لوگو! جو میری اہل بیت کے ساتھ بغض رکھے گا قیامت کے دن اس کا حشر و نشر یہودی بنا کر کیا جائے گا، (حضرت جابر بن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا میں نے ایک سوال کر دیا) میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ، إن صَامَ وَصَلَّی، خواہ وہ ساری زندگی روزے بھی رکھے اور ساری زندگی نماز بھی پڑھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نَعَمْ، إِنْ صَامَ وَصَلَّی۔ وہ روزے رکھے، نماز پڑھے مگر میری اہل بیت سے بغض کے باعث قیامت کے دن یہودی بن کے اٹھے گا۔‘‘ (طبرانی، المعجم الأوسط، جلد4، ص 212، رقم: 4002)
شیخ الاسلام نے کہا کہ: جس شخص کے دل میں اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا بغض ہو، اس کے بارے میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ ربِ کعبہ، ربِ مصطفیٰ ﷺ اور ربِ انبیاء علیہم السلام کی قسم! اہلِ بیت سے عداوت انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: إِنْ صَامَ وَصَلَّى، إِنْ صَامَ وَصَلَّى؛ یعنی اگرچہ وہ روزے رکھے اور نمازیں پڑھے، پھر بھی اہلِ بیت سے بغض اس کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ محض نمازیں، روزے یا دیگر عبادات اہلِ بیت کی عداوت کے اثرات کو مٹا دیں گی۔ مؤمن کا دل محبتِ اہلِ بیت سے منور ہونا چاہیے، کیونکہ یہی محبت ایمان کی روح اور قربِ رسولِ اکرم ﷺ کا تقاضا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہےکہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَبْغَضُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ.
’’اس رب کی عزت کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جو شخص میری اہل بیت سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اُس کو دوزخ کا ایندھن بنا دے گا۔‘‘ (حاکم، المستدرک، جلد3، ص 162، رقم: 4717)
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں آقا علیہ السلام نے فرمایا:
فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا صَفَنَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَصَلَّى، وَصَامَ ثُمَّ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ مُبْغِضٌ لِأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ دَخَلَ النَّارَ.
’’اگر کوئی شخص رکنِ یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان صحنِ کعبہ میں کھڑا ہو، اور (ساری زندگی) نماز بھی پڑھے اور روزے بھی رکھے، (فرمایا خدا کی قسم) اگر وہ اہل بیتِ محمد سے بغض رکھنے والا ہے وہ دوزخ کا ایندھن ہو گا۔‘‘ (حاکم، المستدرک، جلد3، ص 161، رقم: 4712)
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ