جس دن پاکستان مصنوعات کے ساتھ ان کی تیاری میں استعمال ہونے والی جدید مشینری بھی خود تیار کرنے لگے گا، اُس دن ہماری صنعتی ترقی صحیح سمت میں ہوگی: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

جب نظام تعلیم، صنعت، تحقیق اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کا معاون بن جائیں تو چند باصلاحیت افراد نہیں، ہزاروں اور لاکھوں اہل لوگ پیدا ہوتے ہیں: صدر منہاج القرآن

پاکستان کا ایجوکیشن سسٹم ناکام کیوں ہو رہا ہے؟ یہ سوال صرف تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل، معیشت اور قومی ترقی کا سوال ہے۔ آج پاکستان کے مختلف ادارے ڈگریاں تو دے رہے ہیں، لیکن کیا وہ ایسے نوجوان بھی تیار کر رہے ہیں جو تحقیق، ٹیکنالوجی، صنعت اور عالمی مسابقت کے میدان میں ملک کی قیادت کر سکیں؟ دنیا علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اپنی معیشتیں مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ جس دن پاکستان اپنی مصنوعات کے ساتھ ان کی تیاری میں استعمال ہونے والی جدید مشینری بھی خود تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا، اُس دن ہماری صنعتی ترقی حقیقی معنوں میں درست سمت اختیار کرے گی۔ اور جب ہمارا نظامِ تعلیم، صنعت، تحقیق اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے معاون بن جائیں گے تو صرف چند باصلاحیت افراد نہیں، بلکہ ہزاروں اور لاکھوں ایسے اہل نوجوان پیدا ہوں گے جو پاکستان کو ایک مضبوط، خود کفیل اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

پاکستان میں ایجوکیشن سسٹم ناکام ہونے کی وجہ؟

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اگر ہم پاکستان میں ٹیکنالوجی اور صنعت کی ترقی کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم نے کئی دہائیاں روایتی صنعتوں کی ترقی میں صَرف کی ہیں، لیکن ان صنعتوں کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی زیادہ تر جدید مشینری آج بھی پاکستان میں تیار نہیں ہوتی۔ کسی بھی ملک کی معاشی سمت کا اندازہ لگانے کے لیے یہ ایک نہایت اہم indicator ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، لیکن ٹیکسٹائل کی مصنوعات تیار کرنے والی مشینری جاپان، جرمنی، کوریا اور چین جیسے ممالک سے درآمد کی جاتی ہے۔ جب ہم اپنے ملک میں نہ صرف کپڑا تیار کریں گے بلکہ کپڑا بنانے والی مشینری بھی خود تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے، تب ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہماری صنعتی ترقی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہی صورتِ حال فوڈ مینوفیکچرنگ سمیت دیگر شعبوں میں بھی نظر آتی ہے۔ ہم مختلف اشیاء تیار تو کر رہے ہیں، لیکن ان کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری اور ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کی صلاحیت ابھی محدود ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنے میں شرمانا نہیں چاہیے، بلکہ اسے تسلیم کرکے اپنی ترجیحات طے کرنی چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے مقابلے میں سروسز سیکٹر زیادہ نمایاں ہے۔

اسی طرح ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں بھی ہمیں اپنی کارکردگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ تعداد گننا کافی نہیں کہ ہم نے کتنے بیچلرز، ماسٹرز یا پی ایچ ڈیز پیدا کیے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی اور تکنیکی ادارے ایسے معیاری گریجوایٹس تیار کر رہے ہیں جو عالمی مسابقت کا سامنا کر سکیں؟ اگر نظام معاون اور معیاری نہ ہو تو چند غیر معمولی افراد اپنی ذاتی صلاحیت اور محنت سے ضرور آگے آ سکتے ہیں، لیکن وہ ایک مستقل اور مضبوط قومی نظام کی علامت نہیں ہوتے۔ جب نظامِ تعلیم، صنعت، تحقیق اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کا ساتھ دینے لگیں تو یہی ملک ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں باصلاحیت اور عالمی معیار کے افراد پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت ایسے ہی معاون، معیاری اور مستقبل شناس نظام کی ہے جو صلاحیتوں کو صرف پیدا نہ کرے بلکہ انہیں عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنائے۔

پاکستان کی اعلیٰ تعلیم اور صنعت کی ضروریات؛ گریجویٹس کی مہارتوں کا چیلنج:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: حاضرینِ گرامی! پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا بنیادی مقصد ایک ایسی علم پر مبنی معیشت (Knowledge-Based Economy) کے لیے باصلاحیت انسانی وسائل (Human Resource) تیار کرنا ہے جو ملک کی صنعتی اور معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ آئیے، اس حوالے سے ذرا اپنی اعلیٰ تعلیم کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں۔

ایک بین الاقوامی سروے میں پاکستان کی مختلف صنعتوں سے وابستہ افراد سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ مختلف جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجوایٹس کی صلاحیتوں سے وہ کس حد تک مطمئن ہیں اور ان میں کن بنیادی کمزوریوں کو محسوس کرتے ہیں۔ اس سروے میں صنعتوں نے واضح کیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے انسانی وسائل میں متعدد اہم مہارتوں کا فقدان پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں عملی زندگی اور صنعتی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سروے کے مطابق 83 فیصد صنعتوں نے گریجوایٹس کی زبانی ابلاغ (Verbal Communication) کی صلاحیت سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ 71 فیصد نے کہا کہ بہت سے گریجوایٹس میں مطلوبہ پیشہ ورانہ رویہ (Professional Attitude) موجود نہیں ہوتا۔ 64 فیصد صنعتوں کے مطابق طلبہ میں ٹیم ورک (Teamwork) کی صلاحیت مناسب طور پر پیدا نہیں کی جاتی، جبکہ 59 فیصد نے کہا کہ گریجوایٹس میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کی کمی پائی جاتی ہے اور ان کی تعلیم ان کے اندر تخلیقی اور تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر سکی۔

اسی طرح 57 فیصد صنعتوں نے تحریری ابلاغ (Writing Communication) کی کمزوری، 59 فیصد نے اعتمادِ نفس (Self-Confidence) کی کمی، 47 فیصد نے دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت (Stress Tolerance) کی کمی اور 46 فیصد نے نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت (Adaptability) کے فقدان کی نشاندہی کی۔ مزید برآں، 45 فیصد صنعتوں نے گریجویٹس میں وقت کے مؤثر انتظام (Time Management)، خود آگاہی (Self-Awareness) اور منصوبہ بندی و تنظیم (Planning and Organization) کی کمی کی نشاندہی کی، جبکہ 43 فیصد نے دیانت داری اور پیشہ ورانہ سالمیت (Integrity) سے متعلق مسائل کی بھی نشاندہی کی۔

یہ اعداد و شمار اِس اَمر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کا مقصد صرف ڈگریاں فراہم کرنا نہیں، بلکہ ایسے باصلاحیت، با اعتماد، تخلیقی، ذمہ دار اور عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ افراد تیار کرنا ہے جو ملک کی صنعت، معیشت اور معاشرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

آخر میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: یہ ہے اُس علمی اور انسانی سرمائے کی صورتِ حال جس پر ہم نے اپنی معیشت کی بنیاد رکھنی ہے۔ اس لیے ہم سب کو، ہمارے تعلیمی و معاشی نظام کو اور حکومت کو سنجیدگی سے اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ایسا مؤثر انتظام کر رہے ہیں جس کے ذریعے پاکستان کو ایسا معیاری انسانی سرمایہ فراہم کیا جا سکے جو علم اور تحقیق کی بنیاد پر ملکی معیشت کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔

ہمیں سافٹ ویئر اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنی صنعتی پیداوار اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر ہم گاڑیاں تیار کرتے ہیں تو صرف پرزے بیرونِ ملک سے منگوا کر انہیں یہاں جوڑ دینا کافی نہیں؛ ہمیں ملک کے اندر ایک مکمل اور مضبوط سپلائی چین قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی اصول دیگر مصنوعات اور صنعتی شعبوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ آپ نے اسی ملک کے ایسے باصلاحیت نوجوان بھی دیکھے ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور ذاتی کاوش سے غیر معمولی ٹیکنالوجی تیار کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت موجود ہے، ضرورت صرف اِس اَمر کی ہے کہ صحیح لوگوں کو صحیح مواقع فراہم کیے جائیں۔

یہ مواقع فراہم کرنے میں حکومت، نجی شعبے اور صاحبِ وسائل افراد سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے وسائل عطا کیے ہیں، اسے چاہیے کہ وہ اہل اور باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے، ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے اور تحقیق و ترقی کے مراکز کو فروغ دے۔ کیونکہ علم پر مبنی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر تحقیق اور ترقی (Research and Development) پر ہوتا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ پاکستان میں تحقیق و ترقی کا شعبہ اس وقت جس کمزور صورتِ حال سے دوچار ہے، اسے بہتر بنانے کے لیے حکومت اور نجی شعبے دونوں کو سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس پورے عمل کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں ہوتی، بلکہ حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، صنعت کار اور معاشرے کے صاحبِ صلاحیت افراد سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر ہم پاکستان کو ایک مضبوط، خود کفیل اور علم پر مبنی معیشت بنانا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور دنیا کی بدلتی ہوئی معاشی سمت کا گہری نظر سے جائزہ لینا ہوگا۔ ہمیں واضح طور پر طے کرنا ہوگا کہ ہم نے کس سمت میں آگے بڑھنا ہے، پھر اسی مقصد کے لیے ایک جامع پانچ یا دس سالہ منصوبہ تشکیل دے کر اس پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔ جب ایک قوم ایک واضح پالیسی بنا کر اسے تسلسل کے ساتھ کئی سال تک جاری رکھتی ہے تو پھر اس کے نتائج بھی ضرور سامنے آتے ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی مستقل مزاجی، واضح سمت اور مسلسل پالیسی کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اپنی انسانی صلاحیت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور صنعت کو بروئے کار لا کر ایک مضبوط اور علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ سکیں۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top