اِجماع ایک ایسی قطعی علمی اصطلاح ہے جسے ہر شخص کی رائے کے ساتھ جوڑ دینا نہ صرف علمی احتیاط کے خلاف ہے بلکہ اِس سے اجماع کی حقیقی حیثیت بھی مجروح ہوتی ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں اجماع ثابت نہ ہو وہاں اسے اجماع نہ کہا جائے، بلکہ اسے رائے، قول، دلیل یا جمہور کا موقف کہہ کر پیش کیا جائے: شیخ الاسلام کا خطاب
ہمارے اکابر بیگانوں کو بھی اپنا بناتے تھے، جبکہ ہم اختلاف کی بنیاد پر اپنوں کو بھی بیگانہ بنا دیتے ہیں؛ ہمیں لوگوں کو اسلام سے خارج کرنے کے بجائے امت کے دائرے میں جوڑنے کی فکر کرنی چاہیے: شیخ الاسلام کا خطاب

فتویٰ دینا ایک نہایت حسّاس، ذمہ دارانہ اور امانت پر مبنی منصب ہے، اس لیے اس میں جلد بازی نہ صرف علمی نقصان کا باعث بن سکتی ہے بلکہ افراد اور معاشرے کے درمیان فاصلے بھی پیدا کر سکتی ہے۔ بالخصوص ’’اجماع‘‘ جیسی قطعی علمی اصطلاح کو ہر رائے یا موقف کے ساتھ منسوب کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے، کیونکہ کسی شخص یا گروہ کی رائے کو اجماع قرار دے کر اس سے اختلاف کرنے والوں کو گمراہ، بدعتی یا دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا امت میں انتشار اور باہمی نفرت کو جنم دیتا ہے۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں قطعی اجماع ثابت نہ ہو وہاں کسی موقف کو محض رائے، قول، دلیل یا جمہور کا موقف قرار دیا جائے، اور اختلافِ رائے کو اختلافِ دین نہ بنایا جائے۔ ہمارے اکابر کا مزاج لوگوں کو جوڑنے، دائرۂ امت کو وسیع رکھنے اور بیگانوں کو بھی اپنا بنانے کا تھا؛ آج ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ہم اسی علمی احتیاط، وسعتِ قلبی اور حکمت کو اپنائیں اور فتویٰ کو اخراج کا ذریعہ بنانے کے بجائے اصلاح، خیر خواہی اور اتحادِ امت کا وسیلہ بنائیں۔

اجماع کے دعوے میں علمی احتیاط کیوں ضروری ہے؟

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اب یہاں میں ایک لمحے کے لیے رُک کر علماءِ کرام کی خدمت میں ایک طالب علمانہ گزارش پیش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مشرق سے مغرب تک، متقدمین سے متاخرین تک، جس بھی عالم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا، اس نے یہی لکھا کہ:

اَلتُّرْبَةُ الَّتِي ضَمَّتْ أَعْضَاءَ سَيِّدِنَا رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَفْضَلُ مِنْ جَمِيْعِ مَا مَرَّ حَتَّى مِنَ الْعَرْشِ.

1 - مناوی، فیض القدیر، جلد6، ص 264
2 - ابن حجر ہیتمی، الفتاوی الفقہیہ الکبری، جلد2، ص 119
3 - أحمد بن غنیم بن سالم، الفواکہ الدوانی، جلد 1، ص 45
4 - ابن القیم الجوزیہ، بدائع الفوائد، جلد 3، ص 135
5 - حصفكي، الدر المختار، جلد2، ص 626
6 - أبو عبد الله محمد بن أحمد بن محمد عليش المالكي، منح الجلیل، جلد3، ص 133)

’’مٹی کا وہ ٹکڑا جو رسول اللہ ﷺ کے اعضائے مبارک کے ساتھ لگا ہوا ہے وہ دنیا کی تمام اشیاء یہاں تک کہ عرشِ مُعلَّی سے بھی افضل ہے۔‘‘

علمائے دیوبند کے جتنے اکابر گزرے ہیں، اُن میں سے بہت سے اہلِ علم نے اس مسئلے کے بارے میں لکھا ہے کہ اس پر اجماع ہے۔ تاہم یہاں میں علمی احتیاط کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اگر مجھ سے پوچھیں تو میرا علمی رجحان، ذوق اور مسلکی فہم بھی یہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے، لیکن اس کے باوجود میں اسے قطعی طور پر ’’اجماع‘‘ کہنے سے گریز کروں گا، کیونکہ ’’اجماع‘‘ کا لفظ ایک ایسی قطعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں مخالفت کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔

یہ درست ہے کہ مجھے اس موقف کے خلاف کوئی واضح قول نہیں ملا، لیکن علمی اصطلاح میں اگر کچھ اہلِ علم کسی موقف کا اظہار کریں اور دوسرے اس پر خاموش رہیں تو اسے اجماعِ سکوتی کہا جاتا ہے، اور اس نوعیت کے اجماع میں ظن کا پہلو باقی رہتا ہے؛ اس لیے اسے قطعی اور یقینی اجماع قرار دینا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر شخص اپنی رائے کے ساتھ ’’اجماعِ امت‘‘ کا لفظ لگا دیتا ہے۔ ہر مدرسے کے مفتی کا قول اجماعِ امت، ہر عالم کی رائے اجماعِ امت اور ہر شخص کا موقف اجماعِ امت قرار پانے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اجماع آپس میں ہی ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں اور امت تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ’’اجماع‘‘ کی اصطلاح کے حقیقی مفہوم اور اس کے علمی تقاضوں کو سمجھنے میں احتیاط سے کام لینا چھوڑ دیا ہے۔

پہلے اہلِ علم علمی اصطلاحات کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتتے تھے۔ اگر سمرقند کے علماء کسی مسئلے پر متفق ہوتے تو وہ صرف یہ کہتے کہ ’’اہلِ سمرقند کا اجماع ہے‘‘۔ وہ محض چند میل کے فاصلے پر واقع بخارا کے علماء کو بھی اس اجماع میں شامل نہیں کرتے تھے، جب تک ان کے اتفاق کا علم نہ ہو۔ اسی طرح اگر بلخ کے علماء کسی مسئلے پر متفق ہوتے تو وہ اسے ’’اہلِ بلخ کا اجماع‘‘ کہتے، پورے عالمِ اسلام کا اجماع قرار نہیں دیتے تھے۔ اس زمانے میں علم کی قدر تھی، فتویٰ کی ذمہ داری کا احساس تھا اور علمی اصطلاحات کے استعمال میں حیاء اور احتیاط پائی جاتی تھی۔ یہی علمی دیانت امت کے باہمی احترام اور اتحاد کا سبب بھی بنتی تھی۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہم اپنے محدود علمی دائرے سے باہر نکل کر دنیا کے علمی ذخیرے، مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ علم اور شرق و غرب کی تحقیقات سے پوری طرح واقف ہوئے بغیر اپنی رائے کو ’’اجماعِ امت‘‘ کے عنوان سے پیش کرنے لگتے ہیں۔ نہ ہم نے مختلف خطوں کے علماء کی تحقیقات کا مطالعہ کیا، نہ ان کے علمی ذخیرے سے واقفیت حاصل کی، لیکن پھر بھی اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر پورے عالمِ اسلام کی نمائندگی کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں۔

یہ رویہ علم کی قدر، فتویٰ کے وقار اور اجماع کی حقیقی حیثیت، تینوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں اجماع ثابت نہ ہو وہاں اسے اجماع نہ کہا جائے، بلکہ واضح کیا جائے کہ یہ میری رائے ہے، یہ فلاں عالم کی رائے ہے، یہ فلاں دلیل کی بنیاد پر قائم موقف ہے، یہ علماء کا ایک قول ہے یا یہ جمہور علماء کا موقف ہے۔ اس طرح علمی اختلاف بھی اپنی حدود میں رہتا ہے، اہلِ علم کا احترام بھی برقرار رہتا ہے اور ’’اجماع‘‘ جیسی عظیم علمی اصطلاح کی حرمت بھی محفوظ رہتی ہے۔

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: میں نے جن اہلِ علم کے اقوال کا مطالعہ کیا ہے، ان میں سے کسی ایک کا بھی اس موقف سے واضح انکار مجھے نہیں ملا۔ سب نے یہی موقف بیان کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے قطعی اجماع قرار دینا ایک بہت بڑی بات ہے، کیونکہ ’’اجماع‘‘ ایک نہایت اہم اور قطعی علمی اصطلاح ہے۔ میرا اپنا علمی رجحان، تحقیق اور ذوق بھی اسی موقف کے موافق ہے، لیکن علمی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اسے تحقیق، قول یا اہلِ علم کا متفقہ موقف کہا جائے، ہر حال میں قطعی اجماع قرار نہ دیا جائے۔

کیونکہ جب کسی مسئلے کو قطعی اجماع قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر جو شخص اس سے اختلاف کرے، اسے فورًا گمراہ، اہلِ سنت سے خارج، سوادِ اعظم سے خارج، بلکہ اسلام اور امت سے خارج قرار دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گویا ہر شخص نے اسلام میں داخل کرنے اور خارج کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس اسلام میں داخلے اور اخراج کا ایک رجسٹر موجود ہے؛ ہر روز کچھ لوگوں کو اس میں داخل کیا جاتا ہے اور کچھ کو خارج کر دیا جاتا ہے۔

حالانکہ ہمارے اکابر اور ائمہ کا طرزِ عمل اس کے برعکس تھا۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام ابو الحسن اشعریؒ جیسے جلیل القدر ائمہ نے لوگوں کو اسلام سے خارج نہیں کیا۔ ان کا مزاج لوگوں کو جوڑنے، امت کو متحد رکھنے اور دائرۂ اسلام کو وسیع کرنے کا تھا۔ افسوس کہ آج ہماری گفتگو کا ایک بڑا حصہ لوگوں کو اسلام سے خارج کرنے میں صرف ہو رہا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو بھی بیگانہ بنا دیتے ہیں، جبکہ ہمارے اکابر کا طریقہ یہ تھا کہ وہ بیگانوں کو بھی اپنا بناتے تھے۔ ہمیں بھی اسی روش کو اپنانا چاہیے کہ اختلاف کے باوجود لوگوں کو جوڑیں، نفرت کی بجائے محبت پیدا کریں اور ہر اختلاف کو کفر و ضلالت کا عنوان نہ بنائیں۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top