اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی وسائل استعمال کرنے کا حق دیا ہے، انہیں ختم کرنے کا اختیار نہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

شکار اپنی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن تفریح کے نام پر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی جان لینا اور نسلیں ختم کرنا اسلامی مزاج کے مطابق نہیں: صدر منہاج القرآن

آج دنیا ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کی حفاظت، جنگلی حیات کی بقاء اور ماحول کے توازن کی بات کر رہی ہے، لیکن حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ جس دنیا نے یہ تصورات بہت دیر سے دریافت کیے، رسولِ اکرم ﷺ نے چودہ سو سال پہلے ہی انسان کو یہ شعور عطا فرما دیا تھا کہ زمین صرف ہمارے استعمال کی چیز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ آپ ﷺ نے انسان کو وسائل کے استعمال کی اجازت تو دی، مگر ان کے بے دریغ استحصال کی اجازت نہیں دی؛ شکار کو ضرورت کے لیے جائز رکھا، مگر تفریح اور کھیل کے نام پر اللہ کی مخلوق کی جان لینے سے روکا؛ درخت، گھاس، جانور اور پرندے سب کو انسانی اختیار کی بے لگام زد سے محفوظ رکھنے کا تصور دیا۔ گویا مصطفوی تعلیمات کا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی وسائل استعمال کرنے کا حق دیا ہے، انہیں ختم کرنے کا اختیار نہیں۔ اور یہی وہ شعور ہے جو انسان کو محض صارف نہیں بلکہ زمین کا ذمہ دار، مخلوق کا محافظ اور آنے والی نسلوں کے حقوق کا امین بناتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شکار کرنا کیسا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ:

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُنَاسٍ وَهُمْ يَرْمُونَ كَبْشًا بِالنَّبْلِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، وَقَالَ: لَا تَمْثُلُوا بِالْبَهَائِمِ.

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے، آپ ﷺ نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا: جانوروں کا مثلہ نہ کرو.‘‘ (نسائی، السنن، جلد7، ص 238، رقم: 4440)

یعنی بعض نوجوان جانوروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور کھیل ہی کھیل میں انہیں نشانہ بنا کر ہلاک کر رہے تھے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے یہ منظر دیکھا تو سخت ناراضی کا اظہار فرمایا اور اس طرزِ عمل سے منع فرمایا۔ اس واقعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ محض تفریح اور کھیل کے لیے ایسا سلوک کرنا درست نہیں جس میں کسی جاندار کی جان ضائع ہو۔ یہی اصول شکار کے معاملے میں بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ بلاشبہ شکار اپنی اصل کے اعتبار سے حلال ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر قسم کا شکار اور ہر مقصد کے لیے کیا جانے والا شکار حلال اور پسندیدہ ہے؟ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’شکار حلال ہے‘‘؛ بلکہ اس کے پیچھے موجود حکمت، مقصد اور حدود کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

اسلام نے انسان کو قدرتی وسائل کے استعمال کی اجازت دی ہے، لیکن انہیں بے دریغ ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ قدیم زمانے میں انسان کی خوراک کا ایک ذریعہ شکار تھا۔ جہاں دکانیں، بازار اور خوراک کے موجودہ ذرائع میسر نہیں تھے، وہاں انسان اپنی ضرورت کے مطابق جانوروں کا شکار کرتا، ان کا گوشت استعمال کرتا اور اپنی زندگی کی ضرورت پوری کرتا تھا۔ یہ ایک فطری اور ناگزیر ضرورت تھی۔ لیکن آج صورتِ حال بہت مختلف ہے۔ خوراک کے بے شمار ذرائع انسان کو میسر ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص محض شوق، تفریح یا کھیل کے لیے جنگلوں میں جائے اور درجنوں پرندوں یا جانوروں کو ہلاک کرے، حالانکہ اسے ان کی ضرورت بھی نہ ہو، تو یہاں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اسلام کے مزاج اور اس کی تعلیمات کے مطابق ہے؟

اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ شکار کیا گیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ شکار کس مقصد کے لیے کیا گیا، کتنی مقدار میں کیا گیا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور قدرتی نظام پر کیا اثر پڑا؟ اگر انسان اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ شکار کرے، صرف اپنی تفریح کے لیے جانوروں اور پرندوں کو ہلاک کرے اور اس عمل کے نتیجے میں کسی نسل کی بقاء خطرے میں پڑ جائے، تو یہ محض ایک ذاتی شوق نہیں رہتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قدرتی وسائل کے ساتھ زیادتی بن جاتا ہے۔

دنیا میں بہت سے پرندوں اور جانوروں کی نسلیں انسانی سرگرمیوں، بے تحاشا شکار اور قدرتی وسائل کے غلط استعمال کے باعث ناپید ہو چکی ہیں یا ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے انسان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ’’حلال‘‘ کے نام پر اللہ کی مخلوق کی نسلیں ختم کرتا چلا جائے؟ ہرگز نہیں۔ حلال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بے حساب اور بے مقصد استعمال کا مجاز بھی ہو گیا۔

اسلام کا اصول ضرورت، اعتدال اور ذمہ داری ہے۔ جیسے پانی کے بارے میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ وسائل کی فراوانی بھی انسان کو اسراف کی اجازت نہیں دیتی، اسی طرح شکار کے معاملے میں بھی یہی اصول سامنے رہنا چاہیے کہ جتنی ضرورت ہو، اتنا ہی لیا جائے؛ اور جہاں ضرورت کسی دوسرے ذریعے سے پوری ہو رہی ہو، وہاں محض تفریح کے لیے کسی جاندار کی جان لینا انسان کے شایانِ شان نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے زمین کے وسائل انسان کے لیے مسخر ضرور کیے ہیں، لیکن انہیں تباہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے۔ انسان زمین کا مالکِ مطلق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا ذمہ دار اور امین ہے۔ اس لیے شکار کا اسلامی تصور صرف ’’حلال یا حرام‘‘ کی بحث تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں ضرورت، نیت، اعتدال، رحمت، ماحول کے تحفظ اور اللہ کی مخلوق کے احترام کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔

چنانچہ ضرورت کے تحت کیا جانے والا شکار ایک الگ معاملہ ہے، لیکن محض کھیل اور تفریح کے لیے بے شمار جانوروں اور پرندوں کو ہلاک کرنا اسلام کے اس مزاج سے ہم آہنگ نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحمت، اعتدال اور ذمہ داری کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی وسائل استعمال کرنے کا حق دیا ہے، انہیں ختم کرنے کا اختیار نہیں۔

ڈاکٹر حسین محی الدین نے مزید کہا کہ: یہی وہ تصور ہے جسے شعوری کوشش کہا جاتا ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں حقیقی معنوں میں بندگی اختیار کرتا ہے، اپنے شعور اور فکر کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے تابع کر لیتا ہے، تو اس کی زندگی کا ہر فیصلہ ایک نئی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ حلال و حرام کی تمیز کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھتا ہے کہ میرے کسی عمل سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا؟ کہیں میں کسی جاندار کے لیے تکلیف یا اذیت کا سبب تو نہیں بن رہا؟

بزرگانِ دین کے احوال میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ان کے کردار اور رویے میں رحمت اس قدر نمایاں تھی کہ جنگل کے جانور بھی ان سے خوف محسوس نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے منسوب ایک قول میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ دیکھتے تھے کہ ایک ہرنی ان کے سامنے چر رہی ہوتی ہے، مگر ان کے وجود یا کسی عمل سے وہ خوف زدہ نہیں ہوتی تھی۔ یہ ایک ایسے شعور کی علامت ہے جس میں انسان صرف اپنے حق کو نہیں دیکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حق کو بھی محسوس کرتا ہے۔

آج اگر کسی شخص کو شکار کا شوق ہو تو ممکن ہے کہ وہ ہرن کو سامنے دیکھ کر فورًا یہ سوچے کہ اسے نشانہ بنایا جائے، لیکن ایک صاحبِ شعور اور صاحبِ رحمت انسان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ میرے وجود سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو خوف کیوں محسوس ہو؟ وہ اپنے رویے سے یہ پیغام دیتا ہے کہ میں تمہارے لیے خطرہ نہیں، بلکہ تمہارے وجود اور حقِ حیات کا احترام کرنے والا ہوں۔ یہی شعوری تربیت انسان کو رحمت بنا دیتی ہے۔ جب انسان اللہ کی مخلوق کے ساتھ رحم اور شفقت کا معاملہ کرتا ہے تو جانور بھی اس کے قریب آتے ہیں اور اس سے خوف محسوس نہیں کرتے۔ گویا انہیں فطری طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ انسان ہمارے لیے خطرہ نہیں بلکہ ہمارے حقِ حیات کا محافظ ہے۔

اس لیے شکار کے معاملے میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’شکار حلال ہے‘‘ اور پھر اس حلال کو بنیاد بنا کر درجنوں یا سیکڑوں پرندے اور جانور محض شوق اور تفریح کے لیے ہلاک کر دیے جائیں، پھر اسی شکار کی بنیاد پر دعوتیں کی جائیں۔ شکار کا اصل تصور ضرورت پوری کرنا ہے، تفریح کے لیے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی جان لینا نہیں۔

یہی اصول مچھلی، فشنگ اور دیگر قدرتی وسائل کے استعمال پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی، جنگلات، جانور، پرندے اور دیگر بے شمار وسائل انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیے ہیں، لیکن ان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان انہیں بے دریغ استعمال کرکے ختم کر دے۔ اصول یہ ہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق لو، مگر ذمہ داری کے ساتھ لو، تاکہ ان وسائل کی افزائش اور بقاء کا سلسلہ جاری رہے۔ ہمیں صرف اپنی موجودہ ضرورت نہیں دیکھنی چاہیے بلکہ آنے والی نسلوں کا حق بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ زمین کے وسائل صرف ہمارے لیے نہیں؛ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان سے اتنا ہی فائدہ اٹھائیں کہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی ان سے استفادہ کر سکیں۔ یہی اسلام کے اس جامع تصور کی روح ہے جس میں انسان کو صرف وسائل کا صارف نہیں بلکہ ان کا ذمہ دار، امین اور محافظ بنایا گیا ہے۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا

’’بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو اِن دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں، نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کے جانوروں کا شکار کیا جائے‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد2، ص 749، رقم: 2022)

اس حدیث کی توضیح کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: اب اگر ہم اسی تصور کو مذہبی تناظر میں دیکھیں تو مسلمانوں کے لیے حرمینِ طیبین اور بالخصوص حرم کی حدود ایک عظیم مثال ہیں۔ حرم کی سرزمین میں اللہ تعالیٰ نے جانداروں کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی حفاظت کے حوالے سے خصوصی احکام عطا فرمائے ہیں۔ وہاں کسی جاندار کو بلاوجہ شکار کرنا یا اس کے درخت، پودے اور گھاس کو نقصان پہنچانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

حاضرینِ گرامی! آج دنیا جس تصور کو National Parks، Wildlife Reserves اور Protected Areas کے نام سے متعارف کراتی ہے، اس کی ایک بنیادی مثال ہمیں اسلام کے تصورِ حرم میں بہت پہلے سے ملتی ہے۔ جب کسی علاقے میں کسی جانور یا پرندے کی نسل کم ہونے لگتی ہے تو آج حکومتیں اس علاقے کو محفوظ قرار دیتی ہیں، وہاں شکار پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے اور اسے Wildlife Reserve یا National Park کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی مخصوص پھل، سبزی، فصل یا نباتاتی نوع کے تحفظ کے لیے بھی بعض علاقوں میں اس کی کٹائی یا توڑنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے، تاکہ اس قدرتی ذخیرے کو ختم ہونے سے بچایا جا سکے۔

اسلام نے یہ تصور بہت پہلے حرم کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ حرم کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ ایک مخصوص علاقے کو ایسا محفوظ خطہ قرار دیا جائے جہاں جانداروں اور نباتات کو خصوصی تحفظ حاصل ہو، تاکہ وہاں کا قدرتی توازن برقرار رہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق اطمینان کے ساتھ نشوونما پا سکے۔ یہ تصور صرف حرم کی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ اسلامی معاشرت میں بھی اس کی عملی صورتیں سامنے آئیں۔ صحابۂ کرامؓ کے دور میں آبادیوں کے ساتھ زرعی زمینوں اور جنگلات کے محفوظ حصوں کا تصور موجود تھا، تاکہ لوگوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ضروریات کا بھی خیال رکھا جا سکے۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ آبادی بڑھنے کے ساتھ خوراک کے وسائل ختم نہ ہوں، ماحول اور آب و ہوا کا توازن برقرار رہے، جنگلات محفوظ رہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی قدرتی وسائل موجود رہیں۔ گویا اسلام انسان کو صرف موجودہ نسل کی ضرورت پوری کرنے کا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے حقِ حیات اور ان کے قدرتی وسائل کے تحفظ کا بھی ذمہ دار بناتا ہے۔ یہی دراصل اسلامی تصورِ تحفظِ ماحول کی خوبصورتی ہے کہ انسان کو زمین کا بے لگام صارف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا امین اور آنے والی نسلوں کا ذمہ دار محافظ بنایا گیا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top