اللہ تعالیٰ نے علمِ غیب کو عام دسترس سے محفوظ رکھا تاکہ لوگ اُس کے فیض کے حصول میں انبیاء و رسل کے محتاج ہوں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
جب انسان کو یقین ہو جائے کہ خزانۂ غیبِ الٰہی تک رسائی کا کوئی ذاتی راستہ نہیں، تو وہ دروازۂ رسالت ﷺ پر سائل بن کر حاضر ہوتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
کیا رسول اللہ ﷺ کو علمِ غیب کے اظہار سے روکا گیا تھا؟ یہ سوال بظاہر ایک عقیدے کا مسئلہ ہے، مگر اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی عطا، حکمتِ رسالت اور فیضِ نبوت کا ایک گہرا راز پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علمِ غیب کو عام دسترس سے محفوظ رکھا تاکہ بندے اپنے طور پر اس خزانے تک پہنچنے کے بجائے انبیاء و رسل کے ذریعے اس کے فیض سے بہرہ مند ہوں۔ جب انسان یہ حقیقت تسلیم کر لیتا ہے کہ خزانۂ غیبِ الٰہی تک کوئی ذاتی راستہ نہیں، تو وہ سائل بن کر درِ رسالت ﷺ پر حاضر ہوتا ہے۔
علمِ غیبِ الٰہی اور دروازۂ رسالت ﷺ:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے محبوبِ کریم ﷺ کو علمِ غیب عطا کرنے کے بعد یہ پابندی بھی عائد فرمائی کہ اب آپ ﷺ کسی اور کو اس میں سے کچھ نہ بتائیں؟ اس سوال کا جواب بھی سُن لیجیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے محبوب ﷺ! میں نے اپنا خزانۂ غیب ہر ایک سے کیوں چھپا کر رکھا؟ میں نے اپنا علمِ غیب ہر ایک کی دسترس، رسائی، تسلط اور غلبے سے محفوظ کیوں رکھا؟ اس کی حکمت یہ ہے کہ جو شخص میرے خزانۂ غیب تک اَز خود پہنچنا چاہے، اسے ہر دروازہ بند ملے۔ جب اسے یہ حقیقت معلوم ہو جائے اور اس کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جائے کہ خزانۂ غیبِ الٰہی تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے دروازۂ رسالت اور دروازۂ نبوت ہی ذریعہ ہے، تو پھر وہ اے مصطفیٰ ﷺ! آپ کے دروازے پر آئے گا، آپ ﷺ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور سائل بن کر عرض کرے گا:
یا حبیب اللہ ﷺ، یا رسول اللہ ﷺ، اللہ تعالیٰ کے خزانۂ غیب کا حق یہی ہے کہ اس تک رسائی کے تمام دروازے بند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی طرف سے مستقل اختیار نہیں دیا، کسی کے پاس ذاتی طور پر کچھ نہیں، بلکہ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ جسے چاہے اپنے فضل سے عطا فرمائے اور جسے چاہے اپنے علمِ غیب میں سے آگاہ فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے غیب کی چابیاں اپنے پاس رکھ لی ہیں اور فرمایا:
﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ﴾
’’اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے‘‘ [آل عمران،3/ 179]
یعنی ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو غیب کے علم سے آگاہ فرماتا ہے اور انہیں اپنے غیب میں سے جو چاہتا ہے، مطلع فرماتا ہے۔ گویا یہ سارا اہتمام اس لیے ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے علمِ غیب کے فیض کے حصول میں انبیاء و رسل کے محتاج ہوں اور حضور نبی اکرم ﷺ کے درِ اقدس پر حاضر ہوں۔
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: حیرت کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو لوگوں کو علمِ غیب کے فیض سے سیراب ہونے کے لیے انبیاء کا محتاج بنایا، لیکن ہماری عقل و دانش کا عالم یہ ہے کہ ہم اسی عطا اور کرم کو نبیوں سے دور کرنے اور انہیں اس علم سے محروم قرار دینے پر استدلال کر رہے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ نبی اور رسول، معاذ اللہ، علمِ غیب سے محروم ہیں، حالانکہ منشائے ایزدی ہی یہ ہے کہ لوگ اس علم کے حصول میں انبیاء کے محتاج ہوں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے براہِ راست یہ علم حاصل نہیں کر سکتے؛ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے غیب پر مطلع فرماتا ہے اور اپنے برگزیدہ رسولوں کو اس کا امین بناتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو گویا یہ بھی بتا دیتا ہے کہ جب لوگ آپ ﷺ کے درِ اقدس پر حاضر ہوں تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے رب کے عطا کردہ علم میں سے آگاہ کرنا ہے۔ مقصد صرف یہ تھا کہ علمِ غیب کو عام دسترس سے پوشیدہ رکھا جائے اور انبیاء و رسل کے مقام و مرتبے کو نمایاں کیا جائے۔ جب لوگ رسول کے دروازے پر پہنچ گئے تو غیب کو پوشیدہ رکھنے کی حکمت بھی پوری ہوگئی۔
اسی حقیقت کو قرآنِ مجید نہایت واضح انداز میں بیان فرماتا ہے:
﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًاo إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ﴾
’’(وہ) غیب کا جاننے والا ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی (عام شخص) کو مطلع نہیں فرماتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے (اُنہی کو مطلع علی الغیب کرتا ہے کیونکہ یہ خاصۂ نبوت اور معجزۂ رسالت ہے)‘‘ [الجن،72 / 26-27]
یعنی اللہ تعالیٰ اپنے غیب کا علم عام لوگوں کے لیے نہیں کھولتا، بلکہ اپنے پسندیدہ اور برگزیدہ رسولوں کو اپنے غیب میں سے جس قدر چاہتا ہے، آگاہ فرماتا ہے۔ یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطا اور منصبِ رسالت کا ایک امتیاز ہے۔
﴿فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا﴾ کا مقصد پورا ہوگیا، ﴿لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ﴾ کی حکمت بھی پوری ہوگئی اور ﴿وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ﴾ کا مفہوم بھی واضح ہوگیا؛ کیونکہ جب لوگ حضور نبی اکرم ﷺ کے درِ اقدس پر آکر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اعتراف کرلیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں کہیں سے اس حقیقت کا علم نہیں ہوسکا، اب آپ ہی ہمیں بتا دیجیے۔
کاہنوں کے دعوے ناکام ہوگئے، جادوگروں کے دعوے بے بس ہوگئے، قیافہ کرنے والوں کے ذرائع جواب دے گئے، نجومیوں اور دست شناسوں کے دعوے بھی بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ ہماری عقل، دانش، حواس اور تمام ظاہری و باطنی ذرائع اپنی حد تک پہنچ کر عاجز ہوگئے۔ آخر کار سب نے اعتراف کرلیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ! ہم اپنی تمام تدبیروں سے عاجز آچکے ہیں، اب ہم محتاج ہوکر آپ کے در پر حاضر ہیں۔ ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنے علم کے خزانے میں سے عطا فرمایا ہے؛ اب آپ ہی ہمیں بتا دیجیے۔
تب گویا حضور نبی اکرم ﷺ نے عرض کیا: باری تعالیٰ! اب میرے لیے کیا حکم ہے؟
اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت نازل فرمائی اور اپنے محبوب ﷺ سے فرمایا: اے محبوب! سنو، جس مقصد کے لیے یہ سب کچھ تھا، وہ پورا ہوگیا۔ جو لوگ کہتے تھے کہ ہم نبی اور رسول پر کیوں ایمان لائیں؟ ہم تو اپنے کاہنوں سے پوچھ لیں گے، اپنے نجومیوں سے رجوع کرلیں گے، قسمت کے حال بتانے والوں سے معلوم کرلیں گے، دست شناسوں سے پوچھ لیں گے، یا اپنے بڑے بڑے اہلِ علم سے رہنمائی لے لیں گے۔ ان سب کے دعوے آج بے حقیقت ثابت ہوگئے۔
محبوب! ان کے تمام خود ساختہ ذرائع جواب دے گئے، ان کے کاہن عاجز ہوگئے، نجومی بے بس ہوگئے، جادوگروں کے دعوے ناکام ہوگئے اور ان کے تمام ظاہری سہارے ٹوٹ گئے۔ آخرکار وہ سب تیرے درِ اقدس پر آکر محتاج بن کر کھڑے ہوگئے۔
پس محبوب! غیب سے متعلق جو آیات نازل کی گئی تھیں، ان کا مقصد یہی تھا کہ لوگ اپنے تمام باطل سہاروں سے مایوس ہوکر حقیقت کو پہچانیں اور آخر کار تیرے درِ رسالت ﷺ پر حاضر ہوں۔ پھر اللہ پاک نے بیان کیا:
﴿وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾
’’اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)‘‘ [الأنعام، 6/59]
یعنی پوری کائنات میں جو کچھ خشک و تر ہے، اس کا علم اللہ تعالیٰ نے ایک روشن کتاب میں درج فرما دیا ہے۔ قرآنِ مجید اسے ’’کِتَابٍ مُبِین‘‘ یعنی روشن اور واضح کتاب قرار دیتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد ’’لوحِ محفوظ‘‘ لیا ہے، جبکہ بعض نے ’’کتابِ مبین‘‘ سے قرآنِ مجید مراد لیا ہے، اور متعدد صحابۂ کرامؓ اور تابعین سے بھی یہی مفہوم منقول ہے۔ قرآنِ مجید نے خود بھی اپنے لیے ’’کتابِ مبین‘‘ کی تعبیر استعمال فرمائی ہے۔
یعنی کائنات میں کوئی تر یا خشک چیز ایسی نہیں جس کا علم اس روشن کتاب میں موجود نہ ہو۔ گویا جن حقائق کو ہم ’’غیب‘‘ کہتے ہیں، ان کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں محیط ہے اور اس نے اپنی مشیت کے مطابق اسے کتابِ مبین میں بیان فرما دیا ہے۔
پھر اگر اس حقیقت کو مزید غور سے سمجھیں تو قرآنِ مجید ہی وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے کائنات کے بے شمار حقائق پر مشتمل اس عظیم کتاب کو اپنے محبوب ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے پہنچایا۔ پس جس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کے حقائق اور ہدایت کے علوم بیان فرمائے، وہی قرآنِ مجید رسول اللہ ﷺ کے قلبِ اقدس پر نازل ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید کو سمجھنا دراصل اس علم کو سمجھنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذریعے انسانیت تک پہنچایا؛ اور رسول اللہ ﷺ اس وحیِ الٰہی کے سب سے پہلے مخاطب، معلّم اور شارح ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ