اللہ تعالیٰ کی محبت کا سودا صرف دعوے سے نہیں ہوتا بلکہ اُس کے لیے قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے، اور وہ قیمت انسان کی محبوب چیزیں ہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنی محبوب ترین چیز کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے: صدر منہاج القرآن
انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں کیا خرچ کرے؟ کیا صرف مال و دولت ہی وہ چیز ہے جسے اللہ کی رضا کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے؟ قرآنِ مجید اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہماری توجہ انسان کے مال سے زیادہ اس کے دل کی طرف مبذول کراتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ یعنی تم ہرگز نیکی کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔ گویا اللہ تعالیٰ کی محبت کا سودا محض دعوے سے نہیں ہوتا؛ اس کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اور وہ قیمت ہر انسان کے لیے اس کی اپنی محبوب چیز ہے۔ کسی کے لیے مال سب سے قیمتی ہے، کسی کے لیے وقت، کسی کے لیے صلاحیت، کسی کے لیے آسائش اور کسی کے لیے اپنی کوئی خاص خواہش۔ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان اس چیز کو پہچانے جو اس کے دل کے سب سے قریب ہے، پھر اسے اللہ کی محبت میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ کیونکہ جب انسان اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں دے دیتا ہے تو وہ صرف ایک چیز نہیں دیتا، بلکہ اپنے دل کی ایک وابستگی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے؛ اور یہی قربانی اسے اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جاتی ہے۔
محبتِ الٰہی کی قیمت اور محبوب چیزوں کی قربانی:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: بزرگانِ دین جس راہ کو اپنے لیے منتخب کرتے ہیں، اس کا ایک بنیادی اصول وہی ہے جو اللہ رب العزت نے اس آیتِ مبارکہ میں ہمیں عطا فرمایا ہے:
﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾
’’تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو‘‘ [آل عمران، 3/92]
عمومًا جب ہم اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کرتے ہیں تو ’’محبوب چیزوں‘‘ سے مراد صرف مال لیتے ہیں۔ بلاشبہ بہت سے لوگوں کے لیے مال ہی سب سے محبوب چیز ہوتا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ اس آیتِ مبارکہ کے مفہوم کی مکمل ترجمانی نہیں۔ اس آیت میں ’’محبوب چیزوں‘‘ کا دائرہ بہت وسیع ہے، کیونکہ ہر انسان کے لیے محبوب چیز مختلف ہو سکتی ہے۔ اللہ رب العزت نے ایک عمومی اصول عطا فرمایا ہے کہ اگر تم اس کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہو، اگر تم نیکی کی حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہو اور چاہتے ہو کہ نیکی تمہارے دل میں نور پیدا کرے، تو اس کے لیے تمہیں اپنی محبوب چیزوں میں سے کچھ اللہ کی راہ میں پیش کرنا ہوگا۔ گویا اللہ کی محبت کا یہ سودا صرف دعوے سے نہیں ہوتا؛ اس کے لیے قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے، اور وہ قیمت انسان کی محبوب چیزیں ہیں۔
مثلًا: جس شخص کے نزدیک مال بہت اہم ہے، اس کے لیے سب سے بڑی قربانی یہی ہوگی کہ وہ اپنے محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ اگر وہ مال کو اپنے دل کے بہت قریب رکھتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرنا دراصل اپنے دل کی وابستگی کو اللہ کی طرف منتقل کرنا ہے۔ وہ جتنا اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا، اتنا ہی اس کے دل سے مال کی محبت کم اور اللہ کی محبت بڑھ سکتی ہے۔
اسی طرح بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو وراثتی طور پر بہت مالدار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس مال تو بہت ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ مال ہی ان کی سب سے محبوب چیز ہو۔ کسی ڈاکٹر، انجینئر یا دوسرے پروفیشنل کے لیے شاید اس کا وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہو۔ اگر کوئی اس سے اللہ کی راہ میں مالی تعاون کا مطالبہ کرے تو وہ آسانی سے رقم دے دیتا ہے، لیکن جب اس سے کہا جائے کہ کچھ وقت بھی نکال دیں تو وہ شاید یہ کہے: ’’پیسے لے لیجیے، لیکن میرا وقت نہ لیجیے۔‘‘ اُس شخص کے لیے اس آیتِ مبارکہ کا اصل پیغام یہی ہے کہ اگر تم اللہ کی محبت چاہتے ہو تو صرف وہ چیز نہ دو جو تمہارے لیے نسبتًا سستی ہے؛ بلکہ وہ چیز اللہ کی راہ میں پیش کرو جو تمہارے دل کے زیادہ قریب اور تمہارے لیے زیادہ قیمتی ہے۔ اگر تمہارے لیے وقت سب سے قیمتی ہے تو اپنا وقت اللہ کی راہ میں صرف کرو۔
اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہمارے دل میں کس چیز کی کتنی قدر ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم اس کی بارگاہ میں اپنی محبوب اور قیمتی چیز پیش کرتے ہیں یا وہ چیز جس سے ہمارا دل پہلے ہی بے نیاز ہو چکا ہے۔ جب انسان اللہ کی محبت کے حصول کے لیے اپنی قیمتی چیز پیش کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی ترجیحات کا امتحان دے رہا ہوتا ہے کہ اس کے دل میں سب سے زیادہ محبت کس کی ہے۔ اسی لیے اللہ کی راہ میں قربانی کا اصل معیار صرف یہ نہیں کہ ہم نے کتنا دیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے لیے کتنی قیمتی چیز دی۔ کوئی شخص مال دیتا ہے، کوئی وقت دیتا ہے، کوئی اپنی صلاحیتیں دیتا ہے، کوئی اپنی آسائش قربان کرتا ہے اور کوئی اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنی محبوب چیز کو اللہ کی محبت کے مقابلے میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ کیونکہ جس چیز کو ہم اپنے دل کے سب سے قریب رکھتے ہیں، اگر اسے اللہ کی رضا کے لیے پیش کر دیں تو دراصل ہم اپنے دل کو اللہ کے قریب کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یوں محبوب چیز کی قربانی صرف ایک ظاہری عمل نہیں رہتی بلکہ دل کی تطہیر، محبتِ الٰہی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اسی طرح خواتین کی زندگی کو دیکھیے۔ خصوصًا وہ خواتین جو شادی کے بعد خود نہیں کماتیں بلکہ ان کے شوہر ان کی ضروریات اور اخراجات کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں، ان کے لیے مال شاید اتنی محبوب چیز نہ ہو جتنا کسی ایسے شخص کے لیے ہو جو خود کماتا ہے اور اپنی ضروریات اسی مال سے پوری کرتا ہے۔ ایک خاتون کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بنیادی ضروریات کا انتظام اس کا شوہر کر رہا ہے، اس لیے ممکن ہے مال اس کے دل کی سب سے محبوب چیز نہ ہو۔ اس کے لیے محبوب چیز کوئی اور ہو سکتی ہے؛ مثلاً اس کا بناؤ سنگھار، اس کی ذاتی آسائشیں، اس کا کمفرٹ زون، اس کی پسندیدہ چیزیں یا وہ خواہشات جنہیں وہ اپنی ذات اور اپنے حلقۂ احباب کے حوالے سے عزیز رکھتی ہے۔
ایسی صورت میں اس آیتِ مبارکہ کا پیغام یہ ہوگا کہ اگر وہ اللہ کی محبت اور قرب چاہتی ہے تو اسے اپنی انہی محبوب چیزوں میں سے کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہوگا۔ کبھی اس کا بناؤ سنگھار، کبھی اس کی ذاتی آسائش، کبھی اس کی کوئی خواہش اور کبھی اپنے لیے مخصوص کوئی سہولت اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دینا اس کے لیے اللہ کے قرب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ انسان نے صرف کتنی رقم خرچ کی، بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس نے اپنے دل کی کتنی محبوب چیز اس کی راہ میں پیش کی۔
اسی طرح نوجوانوں کو دیکھیے۔ جن بچوں اور نوجوانوں کے والدین ان کے اخراجات اور ضروریاتِ زندگی پوری کرتے ہیں، ان کے لیے بھی مال شاید سب سے قیمتی چیز نہ ہو۔ ایک نوجوان کے لیے بعض اوقات مال سے کہیں زیادہ قیمتی اس کا چھٹی کا دن ہوتا ہے، جس کا وہ پورا ہفتہ بے چینی سے انتظار کرتا ہے۔ اگر وہ نوجوان اپنی اسی چھٹی کے دن کو اللہ کی راہ میں صرف کر دے، کسی دینی پروگرام میں شرکت کرے، علمِ دین حاصل کرے، قرآن سیکھے، کسی ضرورت مند کی مدد کرے یا مخلوقِ خدا کی خدمت میں اپنا وقت صرف کرے تو وہ حقیقتًا اس آیتِ مبارکہ کے مفہوم میں داخل ہو جاتا ہے۔
ذرا غور کیجیے! جس چھٹی کے دن کا اسے پورا ہفتہ انتظار تھا، جس دن کو وہ اپنی تفریح، آرام اور پسندیدہ مشاغل کے لیے مخصوص سمجھتا تھا، اگر وہی دن وہ اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دیتا ہے تو اس نے اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں پیش کی ہے۔ یہی تو اس آیت کا اصل پیغام ہے۔
اسی طرح گرمیوں کی تعطیلات نوجوانوں اور بچوں کے لیے بہت قیمتی ہوتی ہیں۔ وہ پورا سال ان چھٹیوں کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان اپنی ان تعطیلات کا کچھ حصہ اللہ کی راہ میں صرف کر دے، دین سیکھنے میں لگا دے، قرآن و سنت کا علم حاصل کرے، کسی دینی یا فلاحی سرگرمی میں شریک ہو جائے یا مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے اپنا وقت وقف کر دے تو اس کی یہ قربانی شاید اس کے لیے اُس شخص کے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے سے بھی زیادہ قیمتی ہو جس کے لیے مال سب سے محبوب چیز ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قربانی کی قدر صرف اس چیز سے نہیں ہوتی کہ اس کی مالی قیمت کتنی ہے؛ اصل قدر یہ ہے کہ وہ چیز ہمارے دل میں کتنی محبوب اور قیمتی تھی۔ جس نوجوان نے اپنی سب سے قیمتی چھٹی اللہ کی راہ میں دے دی، اس نے اپنی استطاعت کے مطابق وہی کام کیا جو ایک مالدار شخص اپنی محبوب دولت خرچ کرکے کرتا ہے۔
اسی طرح کسی نعت خواں، گلوکار یا خوش الحان شخص کو دیکھیے جسے اللہ تعالیٰ نے خوبصورت اور دلنشین آواز عطا فرمائی ہو۔ ممکن ہے اس کی زندگی میں سب سے قیمتی چیز اس کی آواز ہی ہو۔ وہ اسے بہت احتیاط سے سنبھالتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسے اپنی ایک بڑی نعمت اور پہچان سمجھتا ہے۔ اب اگر وہ اپنی اسی محبوب آواز کو اللہ کی راہ میں پیش کر دے، اسے اللہ کے دین کی اشاعت، نعتِ رسول ﷺ، تلاوتِ قرآن یا خیر کے پیغام کو عام کرنے کے لیے استعمال کرے تو اس نے درحقیقت اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دی۔
اسی طرح کوئی شخص بہترین مقرر اور خطیب ہے۔ اسے اپنی گفتگو، بیان اور تقریری صلاحیت پر اعتماد ہے اور وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مؤثر انداز میں بات پہنچانے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ اگر وہ اپنی اس صلاحیت کو ذاتی شہرت یا مفاد کے بجائے اللہ کے دین کی خدمت اور اس کے پیغام کی اشاعت کے لیے وقف کر دیتا ہے تو وہ بھی اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں پیش کر رہا ہے۔ اس نے اپنی صلاحیت کو اللہ کے دین کی تقویت کا ذریعہ بنا دیا، اور یہی اس آیتِ مبارکہ کے مفہوم کی ایک خوبصورت عملی صورت ہے۔
لہٰذا ہر انسان کے لیے اس آیتِ مبارکہ کا تقاضا مختلف ہو سکتا ہے۔ کسی کے لیے مال محبوب ہے تو وہ مال خرچ کرے، کسی کے لیے وقت محبوب ہے تو وہ وقت دے، کسی کے لیے آسائش محبوب ہے تو وہ آسائش قربان کرے، اور کسی کے لیے اپنی خواہشات محبوب ہیں تو وہ اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا پر قربان کرے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ