جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے اساتذہ کے اعزاز میں تقریبِ تحسین کا انعقاد، چیئرمین سپریم کونسل کی خصوصی شرکت
منہاج القرآن طلبہ کی وراثت اور مصطفوی مشن امانت ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری
جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کی نسبت سب سے منفرد ہے: رئیس الجامعہ کی گفتگو

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے سیشن 2019ء تا 2026ء کے فارغ التّحصیل طلبہ کی طرف سے جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے اساتذہ کرام کے اعزاز میں مرکزی سیکریٹریٹ پر تقریبِ تحسین و الوداعیہ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے خصوصی طور پر شریک ہوئے اور خطاب کیا۔
چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی جانب سے فارغ التحصیل طلبہ، رئیس الجامعہ، اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور اراکینِ بزمِ منہاج کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سات سالہ تعلیمی و تربیتی سفر آپ کی عملی زندگی کی مضبوط بنیاد ہے۔ طلبہ خدّامِ علم اور تشنگانِ علم بنیں، سفر کا آغاز بھی علم سے ہو اور انتہا بھی علم پر ہو۔ اساتذہ کرام نے عرق ریزی سے تعلیمی و تربیتی مراحل سے گزارا ہے، اس لیے علمی سفر کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے عملی زندگی کے اگلے باب پر واضح توجہ مرکوز رکھیں اور علم کے سمندر میں ہمیشہ غوطہ زن رہیں۔
انہوں نے کہا کہ علم کی کوئی انتہا نہیں، جامعہ سے حاصل ہونے والی علمی و تربیتی نسبت کو زندگی بھر اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ علم اللہ کا نور ہے اور حصولِ علم کے لیے عاجزی ضروری ہے۔ جو بات معلوم نہ ہو، اس کے بارے میں ’’لا أدري‘‘ کہنا بھی علم کا حصہ ہے۔ طلبہ اپنے مطالعے اور علمی استعداد میں مسلسل اضافہ کریں اور مادرِ علمی سے حاصل ہونے والی تربیت کو کردار اور عمل میں ڈھالیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے وقت کی قدر و قیمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمّد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی نمایاں خصوصیات میں وقت کا بہترین استعمال بھی شامل ہے۔ جو شخص اپنے وقت پر مکمل دسترس حاصل کر لیتا ہے، وہ وقت کا امام بن جاتا ہے۔ طلبہ اپنی ترجیحات کا تعین کریں، وقت کو منظم انداز میں استعمال کریں اور ایسا کردار ادا کریں کہ زمانہ انہیں یاد رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا قلم چلائیں کہ قلم، دفتر اور قرطاس بھی آپ کی علمی کاوشوں کو یاد رکھیں۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں جن سے انسان اکثر دھوکا کھا جاتا ہے۔ جوانی کو بڑھاپے کے لیے، صحت کو کمزوری کے لیے اور فراغت کو علم، عبادت اور خدمت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ انسان سے اس کی جوانی، مال، جسم، وقت اور دیگر نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا، اس لیے جامعہ سے حاصل ہونے والی پہچان اور نسبت کا حق بھی ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے اختتام پر طلبہ کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ منہاج القرآن طلبہ کی وراثت اور مصطفوی مشن امانت ہے۔ جامعہ سے فراغت مرکز سے جدائی نہیں بلکہ سفر کے ایک باب کی تکمیل ہے۔ ذمہ داریاں بدل سکتی ہیں مگر وفاداری نہیں۔ طلبہ جہاں بھی جائیں، منہاج القرآن کی فکر، جامعہ کی تربیت اور مصطفوی مشن کی خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھیں۔
رئیس الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز الحسن باروی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سپریم کونسل، مرکزی قائدین، اساتذہ اور طلبہ کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن طلبہ کی تعلیمی زندگی کا یادگار دن ہے۔ سات سال تک اساتذہ اور کتب کے ساتھ گزارے گئے وقت کے بعد اب اس فیض کو عملی زندگی میں ڈھالنے کا مرحلہ ہے۔ طلبہ جہاں بھی جائیں، ان کے کردار اور عمل سے جامعہ کی تربیت کی خوشبو محسوس ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کی نسبت سب سے منفرد ہے جہاں روایت اور جدت، محبتِ رسول ﷺ، اہلِ بیتِ اطہار و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے وابستگی، وسعتِ نظر اور جامعیت یکجا ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دین کے مختلف پہلوؤں کو متضاد نہیں بلکہ ہمہ جہت اور باہم مربوط انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ مادرِ علمی کے ساتھ تعلّق مضبوط رکھیں، مشن و فکر کو زندگی بھر زندہ رکھیں کیونکہ ذمّہ داری بدل سکتی ہے مگر وفاداری نہیں۔
صدر بزمِ منہاج محمّد فیض المصطفیٰ چشتی اور دیگر فارغ التحصیل طلبہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے اندر کوئی اعتماد اور صلاحیت ہے تو وہ اساتذہ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سفر ختم نہیں ہوا بلکہ ایک باب مکمل ہوا ہے، اب قائد کی تعلیمات کا تعارف معاشرے کو اپنے کردار، علم، اخلاق اور خدمت کے ذریعے کروانا ہے۔ منہاج القرآن کی فکر نے انہیں سکھایا ہے کہ دین معاشرے کی ہر اکائی تک خدمت اور خیر پہنچانے کا نام ہے۔
انہوں نے مفتی اعظم منہاج القرآن انٹرنیشنل مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی و روحانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت نے طلبہ کی تربیت اور فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر بزمِ منہاج نے بزم کی ذمہ داری کو امتحان قرار دیتے ہوئے علامہ پروفیسر محب اللہ اظہر اور علامہ صابر حسین نقشبندی کی رہنمائی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اساتذہ کا احسان کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
قبل ازیں تقریب کا آغاز قاری اکرام ربانی اور احمد رضا کی تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، جبکہ سبحان علی سعیدی، شہباز احمد، محمد جواد احمد اور صاحبزادہ احمد جمال نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ نقابت کے فرائض عبدالسبوح نے سرانجام دیے۔
تقریبِ تحسین میں ڈاکٹر محمّد رفیق نجم، کرنل (ر) خالد جاوید، راجہ زاہد محمود قادری، رانا محمّد اکرم، علامہ پروفیسر محبّ اللہ اظہر، صابر حسین نقشبندی، پروفیسر ڈاکٹر شفاقت علی بغدادی الازہری، علامہ مسعود مجاہد، علامہ سید افتخار شاہ، قاری سیّد خالد کاظمی، قاضی فیض الاسلام، رانا اکرم قادری سمیت اساتذہ، فیکلٹی ممبران، اراکینِ بزمِ منہاج اور فارغ التحصیل طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔





























تبصرہ