محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے سکھانے کی چیز نہیں؛ بلکہ اسے ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، سیرتِ طیبہ، نعت، درود و سلام اور محافلِ میلاد کے ذریعے بچوں کے دلوں میں پیدا کیا جائے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
ایمان کی حفاظت کے بہت سے ذرائع ہیں، مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ ہمارے سینوں میں محبتِ رسول ﷺ سلامت رہے اور ہم یہی محبت اپنی اولاد کے سینوں میں منتقل کر سکیں: شیخ الاسلام کا خطاب
اولاد کو دنیا کی دولت، جائیداد اور آسائشیں دینا والدین کی ذمہ داری ضرور ہے، مگر اس سے کہیں بڑھ کر ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ایمان کی دولت اور محبتِ رسول ﷺ کی وراثت دے کر جائیں۔ کیونکہ مال و دولت انسان کی دنیا سنوار سکتی ہے، لیکن محبتِ مصطفیٰ ﷺ انسان کی دنیا بھی سنوارتی ہے اور آخرت بھی۔ یہ محبت صرف الفاظ سے بچوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتی؛ اس کے لیے انہیں بچپن ہی سے ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، سیرتِ طیبہ، نعت، درود و سلام اور محافلِ میلاد کے پاکیزہ ماحول سے جوڑنا چاہیے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارے والدین نے جس محبتِ رسول ﷺ کی شمع ہمارے دلوں میں روشن کی، کیا وہی شمع ہماری اولاد کے دلوں میں بھی روشن ہے؟ کیونکہ ایمان کی حفاظت کا سب سے خوبصورت راستہ یہی ہے کہ ہمارے سینوں میں محبتِ رسول ﷺ سلامت رہے اور ہم اس محبت کو اپنی نسلوں کے سینوں تک منتقل کرتے رہیں۔
محبتِ رسول ﷺ: بچوں کی دینی تربیت کا پہلا سبق:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
أَدِّبُوا أَولَادَكُم عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: حُبِّ نَبِيِّكُم، وَحُبِّ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَقِرَاءَةِ القُرْآنِ.
1 - عجلوني، كشف الخفاء، جلد 1، ص 76، رقم: 174
2 – مناوي، التيسير بشرح الجامع الصغير، جلد1، ص 53
’’اپنی اولاد کو تین خصلتوں کی تربیت دو: اپنے نبی ﷺ سے محبت، آپ ﷺ کے اہلِ بیت سے محبت، اور قرآنِ مجید کی تلاوت۔‘‘
یہ حدیثِ مبارکہ ہماری توجہ ایک نہایت اہم اور بنیادی نکتے کی طرف دلاتی ہے کہ اپنی اولاد کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ پیدا کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ بچوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ہمارے نبی کون ہیں، بلکہ اُن کے دل میں حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت اس طرح راسخ کی جائے کہ یہ محبت ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جائے۔
محبتِ رسول ﷺ پیدا کرنے کے بھی کئی طریقے ہوتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر ہو، میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی محافل منعقد ہوں، رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ بیان کی جائے، حضور ﷺ کی نعتیں پڑھی اور سنائی جائیں، اور ایسی مجالس کا اہتمام کیا جائے جہاں بچوں کو بار بار آپ ﷺ کا ذکر، آپ ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کی محبت نصیب ہو۔ اس طرح بچے کے دل میں حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک گہرا جذباتی اور روحانی تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے۔
دنیا میں مختلف انقلابی تحریکوں نے بھی نئی نسل کی ذہنی اور فکری تشکیل کے لیے اسی اصول کو استعمال کیا۔ چین میں ماؤ زے تنگ کے افکار اور تقاریر کو نئی نسل تک پہنچانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اسی طرح روسی انقلاب کے دور میں بھی نئی نسل کی ذہنی تشکیل کے لیے انقلابی افکار کو مسلسل عام کیا جاتا رہا۔ مقصد یہ تھا کہ جب بچے بڑے ہوں اور ان کا شعور بیدار ہو تو ان کے ذہن پہلے ہی ایک مخصوص فکر اور پیغام سے مانوس ہو چکے ہوں۔
ایران کی انقلابی تحریک کے دوران بھی نئی نسل تک انقلابی فکر اور پیغام پہنچانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے گئے۔ خاص طور پر انقلابی تحریک میں تقاریر اور پیغامات کی ریکارڈنگز عام کی گئیں تاکہ بچے بھی اس فکری ماحول سے مانوس ہوں اور جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو ان کے ذہن میں اس تحریک کا پیغام پہلے سے موجود ہو۔
یہ مثالیں ہمیں ایک اہم تربیتی حقیقت سمجھاتی ہیں: بچپن میں جو محبت، فکر اور تصور بار بار دل و دماغ میں اتارا جائے، وہ انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں محبتِ رسول ﷺ سے سرشار ہوں تو ہمیں ان کے بچپن ہی سے حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت، اخلاق، شمائل، معجزات، اہلِ بیتِ اطہار اور آپ ﷺ سے محبت کے واقعات ان کے دلوں میں بسانے ہوں گے۔
محبتِ رسول ﷺ محض ایک دعویٰ نہیں؛ یہ ایک ایسا جذباتی اور روحانی تعلق ہے جو مسلسل ذکر، سیرت کے مطالعے، نعت، درود و سلام اور حضور نبی اکرم ﷺ کی یاد کے ذریعے دل میں پروان چڑھتا ہے۔ جو پیغام ہم اپنی اولاد کے شعور کی پہلی منزلوں میں پہنچا دیں گے، وہی آگے چل کر ان کی شخصیت، فکر اور کردار کی بنیاد بنے گا۔
نسل در نسل محبتِ رسول ﷺ کی منتقلی ہی ایمان کی حفاظت ہے:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: ہم مسلمان ہیں، اور ہمیں ایمان کی اس عظیم دولت کو اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جو ہمارے والدین نے ہم تک پہنچائی۔ ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے بچپن کی طرف پلٹ کر دیکھیے اور سوچیے کہ ہمارے والدین نے ایمان کی یہ نعمت ہم تک کیسے پہنچائی؟ ہمارے دلوں میں ایمان کا نور پیدا کرنے کے لیے، حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں بسانے کے لیے، اسلام سے وابستگی کی نعمت ہمیں عطا کرنے کے لیے اور اپنے نبی ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ کی دعوت سے وابستگی پیدا کرنے کے لیے انہوں نے ہماری تربیت میں کتنی محنت کی، کتنی ذمہ داریاں نبھائیں اور کتنی قربانیاں دیں۔
لہٰذا والدین ہونے کے ناطے کم از کم اتنی تو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ جو نعمت اور وراثت ہمیں اپنے والدین سے ملی، ہم وہی وراثت اپنی اولاد تک ضرور پہنچائیں؛ اگر اس سے زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی ضرور۔
دنیاوی وراثت کی مثال سامنے رکھیے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں نے اپنے والدین سے جتنی دولت، جائیداد، گھر، کاروبار، تجارت یا سرمایہ حاصل کیا، عموماً ہم کوشش کرتے ہیں کہ اپنی اولاد کے لیے اس سے زیادہ چھوڑ کر جائیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے والدین سے زیادہ دنیاوی مال و دولت حاصل کر کے اپنی اولاد کے لیے اس سے کم چھوڑیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہم نے دنیا سے جو کچھ کم پایا، اپنی محنت سے اسے بڑھائیں اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنی اولاد کے لیے زیادہ چھوڑ کر جائیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کے معاملے میں تو ہم وراثت بڑھا کر آگے منتقل کرنا چاہتے ہیں، مگر ایمان کے معاملے میں کیا کر رہے ہیں؟ کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ ہمارے والدین نے ہمیں ایمان کی جو دولت دی، محبتِ رسول ﷺ کی جو وراثت دی، اسلام سے وابستگی کا جو سرمایہ دیا، ہم اپنی اولاد کے لیے اس سے بھی کم چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو جائیں۔ ہم نے دنیا کم پائی اور اسے بڑھا کر اولاد کو دے گئے، لیکن ایمان زیادہ پایا اور اسے کم کرکے آگے منتقل کیا۔ یہ ہماری اولاد کے ساتھ کس قدر بڑا ظلم ہوگا۔
اگر ہم نے ایمان کی یہ وراثت کم کر دی تو جب ہماری اولاد اپنی اولاد تک یہ وراثت پہنچانے کے مرحلے میں آئے گی تو ان کے پاس منتقل کرنے کے لیے کیا باقی رہ جائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ بعض معاشروں میں نسل در نسل ایمان سے دوری، دینی کمزوری اور روحانی زوال کا ایک مسلسل عمل پیدا ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ آنے والی کئی نسلیں ایمان کی اس عظیم دولت سے محروم ہوتی گئیں۔
ایمان کی حفاظت کے بہت سے ذرائع ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ایمان کی حفاظت ہے۔ سیرتِ طیبہ کی پیروی ایمان کی حفاظت ہے۔ اسلامی تعلیمات کو کتابوں کے ذریعے حاصل کرنا ایمان کی حفاظت ہے۔ نیک صحبت اختیار کرنا، دینی مجالس میں بیٹھنا، اسلام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا، یہ سب ایمان کو محفوظ رکھنے کے ذرائع ہیں۔
لیکن میں ایک نہایت اہم بات عرض کرنا چاہتا ہوں: ان تمام ذرائع سے بڑھ کر ایمان کی حفاظت کا ایک بنیادی ذریعہ یہ ہے کہ ہمارے سینوں میں حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت زندہ اور سلامت رہے، اور ہم محبتِ رسول ﷺ کی یہی دولت اپنی اولاد کے سینوں میں منتقل کرنے میں کامیاب ہوں۔
یہی وہ حقیقی منتقلی ہے جسے ہمیں نسل در نسل جاری رکھنا ہے۔ اگر ہمارے دلوں میں یہ محبت زندہ رہے اور ہم اسے اپنی اولاد کے دلوں تک پہنچا دیں تو ہم نے صرف اپنی اولاد کی تربیت نہیں کی بلکہ ایمان کی ایک عظیم امانت کو اگلی نسل تک محفوظ طریقے سے منتقل کر دیا۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ