سخاوت یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے دوسرے کو حصہ دے، جبکہ جُود یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

صدقہ و خیرات کا کمال صرف مال دینا نہیں، بلکہ اپنی پسندیدہ چیز میں سے دوسروں کو ترجیح دینا اور اللہ کی رضا کے لیے ایثار کرنا ہے: صدر منہاج القرآن
شہداء مال کا نہیں بلکہ اپنی جانوں کا ایثار کرتے ہیں؛ اسی لیے اللہ رب العزت نے انہیں بلند ترین مراتب عطا فرمائے: صدر منہاج القرآن

ہم میں سے اکثر لوگ خیرات کو صرف مال دینے تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ خیرات اور سخاوت کی اصل انتہا کیا ہے؟ انسان جب اپنے مال میں سے کسی ضرورت مند کو کچھ دیتا ہے تو یہ سخاوت ہے، جب اپنی ضرورت کو محدود کرکے دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دیتا ہے تو یہ جُود ہے، لیکن جب انسان اپنی پسندیدہ اور ضرورت کی چیز بھی اللہ کی رضا کے لیے دوسرے کے حوالے کر دیتا ہے تو یہ ایثار ہے۔ یہی وہ بلند مقام ہے جہاں انسان صرف مال نہیں، بلکہ اپنی ذات کی محبوب ترین چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دیتا ہے۔ اور جب کوئی اللہ کا بندہ اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے تو یہ ایثار کی وہ عظیم ترین منزل ہے جہاں دینے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ شہداء اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مراتب پاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے صرف اپنا مال نہیں، بلکہ اپنی جان کا بھی ایثار کیا ہوتا ہے۔

سخاوت کے تین درجات؛ سَخا، جُود اور ایثار:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: صدقات و خیرات کا عمل در اصل مختلف درجات رکھتا ہے۔ عمومًا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دی جائے تو ہم نے خیرات بھی کر دی اور سخاوت کا حق بھی ادا کر دیا۔ اسی طرح ہم اکثر دو الفاظ ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں: جُود و سخا۔ یہ الفاظ ہمیں دینی کتب میں بھی ملتے ہیں اور علمائے کرام کے وعظ و نصیحت، بزرگانِ دین کی تعلیمات اور عام گفتگو میں بھی سننے کو ملتے ہیں۔ عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ جُود اور سخا دونوں ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ جود اور سخاوت ایک ہی چیز کے دو نام نہیں، بلکہ سخاوت کے مختلف درجات ہیں۔

اللہ رب العزت سے بڑھ کر کوئی سخی نہیں، لیکن غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ میں اپنے لیے ’’سخی‘‘ کا لفظ اختیار نہیں فرمایا، بلکہ ’’جَوَّاد‘‘ فرمایا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو جُود کے ساتھ منسوب فرمایا، محض سخاوت کے ساتھ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سخاوت کے بھی مختلف مراتب ہیں۔

سخاوت کیا ہے؟

سخاوت کا ابتدائی درجہ یہ ہے کہ انسان کے پاس کوئی چیز موجود ہو اور کسی ضرورت مند کو اس کی ضرورت پیش آئے، تو وہ اپنی موجود چیز میں سے ایک حصہ ضرورت مند کو دے دے اور دوسرا حصہ اپنے لیے رکھ لے۔ مثلًا: کسی شخص کے پاس سو روپے ہوں اور ایک ضرورت مند اس کے پاس آئے، تو وہ پچاس روپے اسے دے دے اور پچاس روپے اپنے پاس رکھ لے۔ یہ سخاوت ہے؛ یعنی انسان اپنی ضرورت کے ساتھ ساتھ دوسرے کی ضرورت کا بھی خیال رکھے اور اپنے مال میں سے ایک حصہ اللہ کی راہ میں دے دے۔ ہم عمومًا اسے ہی سخاوت کی انتہا سمجھ لیتے ہیں۔ بلکہ ہماری عملی زندگی میں تو بعض اوقات ہم سو میں سے دس روپے دے کر بھی خود کو بہت سخی سمجھنے لگتے ہیں، جب کہ باقی نوّے روپے اپنے پاس رکھتے ہیں۔

جود، سخاوت سے بلند درجہ ہے:

لیکن جُود اس سے بلند مقام کا نام ہے۔ جُود یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت کو محدود کرے اور دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دے۔ مثلًا: کسی کے پاس سو دانے ہوں اور ضرورت مند آئے تو وہ اپنے لیے صرف دس رکھے اور نوّے اُسے دے دے۔ یہ محض مال خرچ کرنا نہیں، بلکہ اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ یہی وہ بلند درجہ ہے جو اولیاء اللہ اور صالحین کی شان ہے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ’’سخی‘‘ کے بجائے ’’جَوَّاد‘‘ کا وصف پسند فرمایا۔ اس میں بندوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ سخاوت کا کمال صرف یہ نہیں کہ انسان اپنے مال میں سے کچھ حصہ دے دے، بلکہ حقیقی جُود یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ اور ضرورت کی چیز میں سے بھی دوسروں کو ترجیح دے۔ پس صدقہ و خیرات کا مقصد صرف کسی کی ضرورت پوری کر دینا نہیں؛ بلکہ انسان کے اندر ایثار، وسعتِ قلب، دوسروں کو ترجیح دینے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی محبوب چیز قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا بھی ہے۔

اِیثار کیا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: سخاوت کا تیسرا اور سب سے بلند درجہ ایثار ہے۔ ایثار یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت کو بھی پسِ پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دے اور جو چیز خود کو درکار ہو، وہ بھی ضرورت مند کو دے دے۔ قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کی اسی عظیم صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾

’’اور اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو‘‘ [الحشر : 9]

ایثار کی اس عظیم مثال کو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی سیرت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ مولا علی علیہ السلام، سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور سیدنا امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے پاس مشکل سے کھانے کے لیے کچھ میسر آیا۔ جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو ایک یتیم دروازے پر آیا اور اپنی حاجت بیان کی۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے اپنا کھانا اسے دے دیا اور خود بھوکے رہ گئے۔

اگلے دن انہوں نے روزہ رکھا۔ افطار کے وقت دوبارہ کھانا سامنے آیا تو ایک اسیر دروازے پر حاضر ہوا اور اپنی ضرورت بیان کی۔ انہوں نے پھر اپنا پورا کھانا اسے دے دیا اور خود بھوکے رہے۔ تیسرے دن بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ افطار کے وقت ایک مسکین یا ضرورت مند دروازے پر آیا تو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے اپنا کھانا اسے دے دیا اور خود فاقہ برداشت کیا۔

1 - قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، جلد19، ص 130
2 – زمخشری، الکشاف، جلد 4، ص 670-671
3 – بغوی، معالم التنزیل، جلد4، ص 428

یہ ایثار کا سب سے بلند درجہ ہے، جس کے بارے میں اولیائے کرام اور صوفیائے عظام فرماتے ہیں کہ ایثار کی یہ بلند شان اولیاء اللہ کا وصف ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ یہ محض سخاوت یا جُود نہیں، بلکہ ایثار کی انتہا ہے۔ سخاوت تو اس وقت ہوگی جب انسان کے پاس دو چیزیں ہوں، ایک اپنے پاس رکھے اور دوسری دوسرے کو دے دے۔ جُود بھی اسی وقت ہوگا جب انسان کچھ نہ کچھ اپنے لیے باقی رکھے۔ لیکن جو شخص اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دیتا ہے، وہ اپنے پاس کچھ باقی نہیں رکھتا؛ وہ اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے شہداء کے لیے نہایت بلند مراتب مقرر فرمائے ہیں، کیونکہ وہ صرف اپنے مال کا نہیں بلکہ اپنی جان کا ایثار کرتے ہیں۔ مال کو قربان کرنا یقینًا عظیم عمل ہے، لیکن اپنی جان اللہ کی رضا کے لیے پیش کر دینا ایثار کا وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات کی آخری حد بھی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔

خیرات وصدقات میں لوگوں کی عزتِ نفس کا خیال کرنا:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: شیخ مُوَرِّق العِجْلی رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو خیرات دیتے وقت بھی بڑی حکمت اور نہایت خوبصورت انداز اختیار کرتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ بعض ضرورت مند اپنی حاجت بیان کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا بھی انہیں گوارا نہ ہو۔

چنانچہ جب انہیں کسی شخص کی ضرورت کا علم ہوتا اور وہ شخص ابھی اپنی حاجت بیان بھی نہ کرتا، تو شیخ خود اس کے پاس جاتے، ایک ہزار درہم اس کے ہاتھ میں دیتے اور فرماتے: یہ رکھ لو، میں ابھی واپس لے لیتا ہوں۔ پھر وہ گھر واپس آ جاتے۔ اس کے بعد وہ اسے ایک خط لکھتے اور کہتے کہ: یہ رقم میں نے واپس نہیں لینی، یہ سب تمہارے لیے ہے۔

اولیاء اللہ خیرات بھی اس انداز سے کرتے تھے کہ ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ وہ دیتے تھے، مگر ایسے انداز میں کہ لینے والے کو یہ احساس بھی نہ ہو کہ اس نے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا ہے۔ یہ سخاوت کا وہ حُسن ہے جس میں صرف مال نہیں دیا جاتا، بلکہ لینے والے کی عزت بھی محفوظ رکھی جاتی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top