اردو زبان ہمیں اپنے علمی و تہذیبی ورثے سے جوڑتی ہے، جبکہ عربی زبان ہمیں وحی اور اصل اسلامی علمی روایت سے جوڑتی ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
اُردو زبان کو زندہ رکھنا ہماری تہذیبی ذمہ داری ہے جبکہ عربی زبان سے جُڑنا ہماری علمی و دینی ضرورت ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
نئی نسل میں ایمان کو محفوظ رکھنا صرف نصیحتوں اور معلومات کی منتقلی کا نام نہیں؛ بلکہ اسے اپنی دینی، علمی اور تہذیبی وراثت سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ آج کی نسل اگر اپنے ماضی، اپنے علمی ورثے اور اپنی دینی زبانوں سے کٹ جائے تو رفتہ رفتہ اس کی فکری اور روحانی شناخت بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔ اردو زبان ہمیں اپنے علمی و تہذیبی ورثے سے جوڑتی ہے، ہماری دینی روایت کو نسل در نسل منتقل کرتی ہے، جبکہ عربی زبان ہمیں وحی، قرآن اور اسلام کے اصل علمی ماخذ سے براہِ راست جوڑتی ہے۔ اس لیے نئی نسل کے ایمان، شناخت اور فکری استحکام کے لیے اردو کو زندہ رکھنا ہماری تہذیبی ذمہ داری اور عربی زبان سے جُڑنا ہماری علمی و دینی ضرورت ہے۔
اُردو اور عربی زبان سے تعلق کی ضرورت و اہمیت:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: منہاج القرآن کے ہر مرکز میں اردو زبان کو زندہ اور مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے، انگریزی زبان پر بھی بھرپور دسترس ہونی چاہیے، جبکہ عربی زبان و ادب سے بھی اپنا گہرا تعلق قائم کرنا چاہیے۔ یہ ایک مسلمان قوم اور نئی مسلمان نسل کی اہم ذمہ داری ہے۔ جب ہم اپنی زبانوں اور اپنے علمی و تہذیبی ورثے سے جُڑتے ہیں تو ہمارے لیے علم کے نئے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔
اردو زبان کے ذریعے ہمیں اسلام کے علوم و فنون اور اس کے عظیم علمی و تہذیبی ورثے تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہی زبان ہمارے ورثے کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے، ہماری جذباتی یادداشت اور تہذیبی وابستگی کو محفوظ رکھتی ہے اور ہمارے ثقافتی تسلسل (Cultural Continuity) کو برقرار رکھتی ہے۔ ہمارے دینی، تہذیبی اور فکری شناخت کے بہت سے پہلو اردو زبان کے ذریعے آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔
اسی طرح عربی زبان و ادب کی اپنی ایک بنیادی اور غیر معمولی اہمیت ہے۔ عربی وحی کی زبان ہے؛ یہ ہمارے دین کے مقدس ماخذ کی زبان ہے اور اصل علمی و تحقیقی روایت تک رسائی کی زبان بھی ہے۔ جو شخص اپنے دینی علم کو مزید مضبوط، گہرا اور مستند بنانا چاہتا ہے، اس کے لیے عربی زبان و ادب سے واقفیت ناگزیر ہے۔
قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ کا اصل ذخیرہ عربی زبان میں ہے۔ اسی طرح تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، عقائد، تصوف، زہد، روحانیت اور اسلامی فکر و تہذیب کے بڑے اور بنیادی کلاسیکی ذخائر عربی زبان میں محفوظ ہیں۔ لہٰذا جو شخص Original Scholarship اور مستند علمی روایت تک براہِ راست رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے عربی زبان و ادب سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا۔ اردو ہمیں اپنے علمی و تہذیبی ورثے سے جوڑتی ہے، جبکہ عربی زبان ہمیں وحی اور اصل اسلامی علمی روایت سے جوڑتی ہے۔ اس لیے اردو کو زندہ رکھنا ہماری تہذیبی ذمہ داری اور عربی سے جُڑنا ہماری علمی و دینی ضرورت ہے۔
ترجمہ عربی زبان کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ترجمہ کبھی بھی وحی کی اصل زبان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ترجمہ صرف اصل مفہوم کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے؛ وہ اصل زبان کو Replace نہیں کرتا۔ اس لیے جتنا زیادہ ہم عربی زبان سیکھیں گے، اتنا ہی براہِ راست اپنے دین، قرآن اور سنت سے جُڑتے چلے جائیں گے۔
منہاج القرآن کے ہر مرکز میں اردو زبان کا فروغ اور تحفظِ دین کے لیے اس کا زندہ رہنا ضروری ہے، کیونکہ اردو ہمارے دینی، فکری اور تہذیبی ورثے کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اسی طرح عربی زبان کے ذریعے ہمیں قرآنِ مجید اور قرآن کی اصل زبان تک براہِ راست رسائی حاصل ہوتی ہے۔
عربی سیکھنے سے دین کے بنیادی تصورات کو اصل ماخذ سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اذکار، توحید، ایمان، اسلام، احسان، تقویٰ اور اخلاص جیسے تصورات کی گہرائی اور روح کو سمجھنے کے لیے عربی سے تعلق بہت اہم ہے۔ جب انسان قرآن و سنت کی زبان سے جُڑتا ہے تو اس کا تعلق محض الفاظ کے ساتھ نہیں رہتا، بلکہ وہ دین کی روح اور اس کے اصل مفاہیم کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرتا ہے۔ یوں اس کی علمی بنیاد بھی مضبوط ہوتی ہے اور دینی وابستگی بھی مستحکم ہوتی ہے۔
یہی در اصل ان تینوں زبانوں کا باہمی ربط ہے: اردو ہماری دینی و تہذیبی میراث کے تحفظ اور منتقلی کا ذریعہ ہے، عربی وحی اور اصل اسلامی ماخذ تک رسائی کا وسیلہ ہے، جبکہ انگریزی عصرِ حاضر میں علم و ابلاغ کے وسیع میدان سے جُڑنے کی قوت فراہم کرتی ہے۔ ان تینوں زبانوں کو اپنے اپنے مقام پر سمجھنا اور مضبوط کرنا ہماری علمی، دینی اور تہذیبی ضرورت ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ