عباد الرحمٰن کا اَخلاقی معیار اور محافلِ میلاد کا پیغام

اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کا پہلا تعارف سجدہ، قیام اور تہجد سے بھی پہلے زمین پر عاجزی سے چلنے اور نازیبا بات کے جواب میں سلامتی کے ساتھ الگ ہو جانے سے کروایا ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
اگر ہمارا اندازِ گفتگو، فکر اور ایک دوسرے سے مخاطب ہونے کا طریقہ تکبر اور گالی گلوچ پر مبنی ہوگا تو نئی نسل ہمارے حالات دیکھ کر اسلام کی طرف کیوں آئے گی؟ شیخ الاسلام کا خطاب

قرآنِ مجید نے اپنے محبوب بندوں کی پہچان تکبّر، درشت کلامی اور گالی گلوچ سے نہیں، بلکہ زمین پر عاجزی سے چلنے اور جاہلانہ طرزِ گفتگو کے جواب میں سلامتی کا راستہ اختیار کرنے سے کروائی ہے۔ اگر ہماری محافلِ میلاد محبتِ رسول ﷺ کا پیغام دینے کی بجائے نفرت، تلخی اور بد زبانی کا مظہر بن جائیں تو نئی نسل ہمارے کردار کو دیکھ کر اسلام کی طرف کیسے آئے گی؟ عشقِ رسول ﷺ کا حقیقی حُسن صرف نعروں کی گونج میں نہیں، بلکہ ہمارے اَخلاق میں جلوہ گر ہونا چاہیے۔

عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ اور ہمارا اَخلاقی رویہ:

دنیا بھر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلادِ پاک بڑی عقیدت، احترام اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ محافلِ میلاد میں ہم عشقِ رسول ﷺ کے نعرے بھی لگاتے ہیں اور خوبصورت سجاوٹیں بھی کرتے ہیں، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن اور سیرتِ طیبہ کا اپنی عملی زندگی پر کتنا اثر لیا ہے؟ قرآن مجید کی سورۃ الفرقان میں اللہ رب العزت نے اپنے خاص بندوں (عباد الرحمٰن) کی جو صفات اور اخلاقی معیار بیان فرمایا ہے، وہ ہمارے موجودہ رویوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جب انسان کسی عزیز یا قریب تر شخص کا تعارف کرواتا ہے تو اس کی بہترین خوبی کو سب سے پہلے بیان کرتا ہے، بالکل اسی طرح اللہ رب العزت نے بھی اپنے خاص بندوں کا پہلا تعارف ان کی عاجزانہ چال ڈھال سے کروایا ہے۔ وہ خاص بندے کون ہیں؟ قرآنِ کریم نے اُن کا تعارف کروایا ہے کہ:

﴿

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا﴾

’’اور (خدائے) رحمان کے (مقبول) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل (اکھڑ) لوگ (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے (ہوئے الگ ہو جاتے) ہیں[الفرقان : 63]‘‘

یعنی اگر کوئی جاہل شخص اُن سے جھگڑا کرے تو وہ اُس کے ساتھ جھگڑے میں حصہ نہیں لیتے۔

عباد الرحمٰن کی پہچان: عاجزی اور سنجیدہ چال ڈھال:

جب انسان کسی عزیز یا قریب تر شخص کا تعارف کرواتا ہے تو اس کی بہترین خوبی کو سب سے پہلے بیان کرتا ہے، بالکل اسی طرح اللہ رب العزت نے بھی اپنے خاص بندوں کا پہلا تعارف ان کی عاجزانہ چال ڈھال سے کروایا ہے۔ قرآنِ پاک کے مطابق رحمن کے سچے بندے وہ ہیں جو زمین پر نہایت عاجزی اور آہستہ قدموں سے چلتے ہیں تاکہ ان کے رویے سے کوئی تکبر، اکڑ یا شور ظاہر نہ ہو۔ قرآنِ مجید دیگر تمام عبادات سے بھی پہلے انسان کی چال چلن اور اخلاقی رویے سے بندگی کی پہچان کا آغاز کرتا ہے۔

اشتعال انگیزی کے جواب میں سلامتی کا رویہ:

اگر کوئی جاہل یا بے ادب شخص عباد الرحمٰن کے ساتھ کوئی ناپسندیدہ بات کر دے، تو وہ اس کے ساتھ بحث و مباحثے یا جھگڑے میں الجھنے کے بجائے ’’سلام‘‘ کہتے ہوئے خاموشی سے الگ ہو جاتے ہیں۔ وہ نازیبا بات کے جواب میں نازیبا بات نہیں کرتے بلکہ سلامتی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ قرآن مجید کا مقرر کردہ وہ اعلیٰ اخلاقی معیار ہے جو ہر سچے مومن اور دعویدارِ محبت کا شیوہ ہونا چاہیے۔

عباد الرحمٰن کے دیگر اوصاف:

سورۃ الفرقان میں جہاں اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی عاجزی اور سلامتی کا ذکر ہے، وہاں آگے چل کر اُن کی دیگر عظیم عبادات اور اوصاف بھی بیان ہوئے ہیں؛ جن میں تہجد، سجدہ و قیام، اللہ کی راہ میں اعتدال سے خرچ کرنا، توحید، انسانی حُرمت کا پاس، گناہوں سے پرہیز، توبہ، سچی گواہی، لغویات سے رُکنا اور قرآنی آیات میں تدبر شامل ہیں۔ لیکن قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ، قیام اور دعاؤں سے بھی پہلے بندوں کی عاجزی اور گفتگو کے اخلاق کو بیان کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اَخلاق اور طرزِ عمل کو کیا بنیادی ترجیح حاصل ہے۔

موجودہ رویوں اور مذہبی لائحہ عمل کا موازنہ:

آج ہمارے معاشرے میں زرق برق لباس اور رنگ برنگی سجاوٹوں کا مظاہرہ تو بہت ہوتا ہے، مگر ہمارا اندازِ گفتگو اور رویہ قرآنِ مجید کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر مسلکی اختلافات کی بنا پر گالی گلوچ، دھمکیاں اور ایک دوسرے کو کافر یا واجب القتل قرار دینے کا زہریلا رویہ عام ہو چکا ہے۔ اگر ہمارا اندازِ گفتگو اور طرزِ دعوت یہی رہا، تو نئی نسل ہمارے ان حالات کو دیکھ کر اسلام کی طرف کیسے مائل ہوگی؟

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اصل پیغام:

محفلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اصل پیغام صرف نعروں اور ظاہری آرائش تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی سیرت و کردار میں حقیقی انقلاب لانے کا تقاضا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سچی محبت اور آپ ﷺ کی اتباع یہ ہے کہ ہم قرآن اور سنت کے بتائے ہوئے اخلاقی معیار کو اپنائیں۔ تکبّر، سخت کلامی اور گالی گلوچ انسان پر بوجھ بن کر اسے ڈبو دیتے ہیں، جبکہ عاجزی اور سلامتی کا رویہ انسان کو نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔ جب ہم اپنی زندگیوں میں قرآنی اَخلاق کو شامل کریں گے تو یہی سیرت ہمارے لیے جہنم کے دروازے بند کرنے اور جنت کے دروازے کھولنے کا باعث بنے گی۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top