اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا، تاکہ آپ ﷺ کی دعوت کسی ایک قوم یا عہد تک محدود نہ رہے، بلکہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بنے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوتیں اپنے زمانوں اور قوموں تک محدود تھیں، مگر رسول اللہ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والی تمام انسانیت کے لیے ہے: صدر منہاج القرآن

رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی عظمت اور آپ ﷺ کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوتوں اور آپ ﷺ کی عالمگیر رسالت کے دائرۂ کار پر غور کیا جائے۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر مبعوث فرمایا، جن کی دعوت کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی پوری انسانیت کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام اپنے اپنے اَدوار میں مخصوص قوموں کی رہنمائی کے لیے تشریف لائے، مگر تاجدارِ کائنات ﷺ کی رسالت نے زمان و مکان کی تمام حدود کو محیط ہو کر قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ سنبھالا۔ یہی وہ امتیازی شان ہے جو آپ ﷺ کی نبوت کی عالمگیریت، ختمِ نبوت اور دائمی پیغام کی عظمت کو نمایاں کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی شان اور معجزات کی عظمت:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ہر نبی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے معجزات عطا فرمائے گئے جنہیں دیکھ کر لوگ ایمان لائے۔ تاہم، رسول اللہ ﷺ کو جو عظیم معجزہ عطا فرمایا گیا، وہ وحیِ الٰہی اور قرآنِ مجید ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے معجزے کی حقیقت اور اس کی عظمت کو واضح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو ایسے معجزات عطا کیے گئے جن کے ذریعے لوگوں نے ایمان قبول کیا، جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی عطا فرمائی گئی ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے پیروکار تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے پیروکاروں سے زیادہ ہوں گے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ، آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيْتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُوْنَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

1 - بخاری، الصحیح، جلد4، ص 1905، رقم: 4696
2 - مسلم، الصحیح، جلد1، ص 134، رقم: 152

’’انبیاء علیہم السلام میں سے ہر ایک نبی کو ایسی نشانیاں (معجزات) دیئے گئے جن (کو دیکھ کر) لوگ ایمان لائے، اور مجھے وحی کی گئی، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی، (وہ معجزہ بھی ہے، اور نور بھی) اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے اس حدیثِ مبارکہ میں اپنی امت کی کثرت کے حوالے سے امید کا اظہار فرما کر ایک عظیم حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات بیان کی جا سکتی ہے کہ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوتیں مخصوص قوموں اور اَدوار سے متعلق تھیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک تمام انسانیت کے لیے ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور حضرت یونس علیہم السلام تک، ہر نبی اپنے اپنے دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت لے کر تشریف لایا۔ اُن میں سے ہر ایک کی دعوت کا اپنا دائرۂ کار تھا۔ کسی نبی کی دعوت کو زیادہ لوگوں نے قبول کیا اور کسی کی دعوت پر نسبتًا کم اَفراد ایمان لائے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے اَدوار بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے اور ان کی دعوتیں اپنے اپنے زمانے اور قوموں سے متعلق تھیں۔

اللہ رب العزت کی حکمت پر غور کیجیے کہ اس نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور ایسے وقت میں ہوا جب آپ کے بعد کسی نئے نبی کی آمد نہیں ہونی تھی۔ آپ ﷺ کی رسالت کسی محدود خطے یا مخصوص قوم کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے ہے، اور آپ ﷺ کی تعلیمات قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔

سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے اَدوار گزر گئے، قومیں بدلتی رہیں اور زمانے آگے بڑھتے رہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا دائرہ قیامت تک قائم ہے۔ آج سے آنے والے زمانوں میں بھی جو انسان ہدایت قبول کرے گا، وہ اسی دعوتِ محمدی ﷺ سے وابستہ ہوگا۔ قیامت کب آئے گی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے؛ تاہم، اس وقت تک آنے والی تمام نسلوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رسالت ہی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر رسول اللہ ﷺ نے امید ظاہر فرمائی کہ قیامت کے دن آپ ﷺ کے پیروکار تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے پیروکاروں سے زیادہ ہوں گے۔ یہ آپ ﷺ کی عالمگیر رسالت اور امتِ محمدیہ کے وسیع دائرۂ دعوت کی عظمت کو نمایاں کرتا ہے۔

رسالتِ محمدی ﷺ کی وسعت:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اگر اس بیان کردہ تصور کو سامنے رکھتے ہوئے تصرفات اور اختیارات کے دائرۂ کار کو سمجھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی امت قیامت تک آنے والی نسلوں پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا زمانہ بھی قیامت تک جاری رہنا ہے، تو آپ ﷺ کی عظمت اور مقام کا تصور کس قدر وسیع ہوگا! آپ ﷺ کی رسالت کسی محدود زمانے یا مخصوص قوم تک محدود نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ یہی آپ ﷺ کی عالمگیر رسالت کی عظمت ہے کہ آپ ﷺ کو دنیا میں تشریف لائے ہوئے چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اور قیامت تک مزید کتنا زمانہ گزرے گا، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اگر سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے اَدوار اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے اس وسیع زمانی دائرے کو سامنے رکھا جائے تو انسانی تصور بھی اس وسعت کا احاطہ کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا بیان صرف آپ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ کے بعد کے زمانے تک محدود نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے ذکر اور مقام کا تذکرہ تخلیقِ آدم علیہ السلام سے متعلق روایات میں بھی ملتا ہے۔ بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے عرش کے ستونوں پر اسمِ محمد ﷺ مکتوب دیکھا۔ یہ روایات رسول اللہ ﷺ کے عظیم مقام اور اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ ﷺ کی قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہیں۔

یوں عقیدت کے اس بیان میں یہ تصور نمایاں ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر ماضی، حال اور مستقبل کے تمام زمانوں میں جاری ہے۔ دنیا میں بھی آپ ﷺ کا ذکر بلند ہے، قیامت کے دن بھی آپ ﷺ کو عظیم مقام عطا ہوگا، اور آخرت میں بھی آپ ﷺ کی شان و عظمت نمایاں ہوگی۔ دنیا کی عبادات میں نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسی عبادات اپنے مخصوص احکام اور اوقات کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آخرت میں جنت کے احوال دنیا سے مختلف ہوں گے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اہلِ ایمان کو رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

’’بے شک اللہ اور اس کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ ﷺ) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو‘‘ [الأحزاب : 56]

یہ آیتِ مبارکہ رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام کی عظمت اور اس عمل کی خصوصی فضیلت کو واضح کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی ﷺ پر صلاۃ اور اہلِ ایمان کو درود و سلام کا حکم اس نسبت کی عظمت کو نمایاں کرتا ہے۔ لہذا رسول اللہ ﷺ کی رسالت قیامت تک جاری رہنے والی ہے، آپ ﷺ کا ذکر اہلِ ایمان کے دلوں میں زندہ ہے، اور آپ ﷺ پر درود و سلام ایک ایسی عظیم عبادت ہے جس کی فضیلت قرآنِ مجید نے بیان فرمائی ہے۔ یہ مقام و مرتبہ انسانی تصور کی وسعت سے کہیں بلند ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top