اللہ والوں کے نزدیک کسی بھی نعمت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ اس نعمت سے اللہ کی مخلوق کو بھی فائدہ پہنچے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
حقیقی ایثار یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دے: صدر منہاج القرآن
صوفیاء اور بزرگانِ دین کی زندگیوں میں سخاوت محض مال و دولت لٹانے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہر نعمت کو اس کی مخلوق کے لیے نفع بخش بنانے کا نام ہے۔ اللہ والوں کے نزدیک کسی بھی نعمت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ انسان اپنی آسائش سے بڑھ کر کسی ضرورت مند کی ضرورت کو محسوس کرے، اپنی حاجت پر دوسرے کی حاجت کو ترجیح دے اور اپنی استطاعت کے مطابق کسی دکھی دل کا سہارا بنے۔ اہل اللہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا مال کم نہیں ہوتا بلکہ انسان کے لیے آخرت کا سرمایہ بن جاتا ہے۔ یہی ایثار، ہمدردی اور خدمتِ خلق ان کے کردار کا وہ روشن پہلو ہے جس نے ان کی ذات کو دوسروں کے لیے رحمت، آسرا اور خیر کا ذریعہ بنا دیا۔
اولیاء اللہ کا لوگوں کے لیے ایثار کرنا:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ایک اللہ والے بزرگ، امام اور عالمِ دین شیخ ابو سہلؒ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ سردیوں کے موسم میں اُن کے پاس پہننے کے لیے صرف ایک جُبَّہ تھا۔ ایک روز انہوں نے ایک غریب شخص کو شدید سردی میں ٹھٹھرتے دیکھا تو اپنا وہ واحد جُبَّہ اُسے دے دیا۔ اگلے دن اُن کے پاس پہننے کے لیے اپنا کوئی گرم لباس نہ تھا، چنانچہ گھر کی خواتین کا جبہ پہن کر درس گاہ تشریف لے گئے اور تدریس کا فریضہ انجام دیا۔
ایک روز شیخ ابو سہلؒ سردی میں بیٹھے ہوئے تھے اور خود بھی ٹھٹھر رہے تھے۔ اُن کے ایک شاگرد نے عرض کیا: حضرت! آپ اس قدر سردی میں کیوں بیٹھے ہیں؟ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے پاس گرم کپڑے موجود تھے، پھر آپ انہیں پہن کیوں نہیں لیتے؟ شیخ ابو سہلؒ نے فرمایا: جو گرم کپڑے میرے پاس تھے، وہ میں ضرورت مندوں کو دے چکا ہوں۔ پھر فرمایا: میں نے بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جو آج رات اسی سردی میں کانپ رہے ہیں اور میرے پاس ان کی سردی دور کرنے کے لیے اب کچھ نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تو کم از کم ان کی طرح سردی محسوس تو کر سکتا ہوں۔
یہ اللہ والوں کا ایثار، ہمدردی اور احساسِ انسانیت کی وہ کیفیت تھی جس میں دوسروں کا درد محض محسوس نہیں کیا جاتا بلکہ اسے اپنے اوپر بھی محسوس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ؛ امام شافعیؒ، جو فقہِ شافعی کے عظیم امام تھے، جب صنعاء سے واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپؒ کے پاس دس ہزار دینار تھے، جو اُس زمانے میں بہت بڑی رقم شمار ہوتی تھی۔ آپؒ کے ایک شاگرد نے عرض کیا: حضرت! ماشاء اللہ، آپ کے پاس اتنی بڑی رقم ہے۔ اگر آپ مکہ مکرمہ میں اس رقم سے ایک مناسب گھر خرید لیں تو اطمینان اور سہولت کے ساتھ یہاں قیام کر سکتے ہیں۔ آپؒ نے فرمایا: ہاں، یہ اچھی بات ہے۔
مگر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے آپؒ نے شہر سے باہر اپنا خیمہ نصب کروایا اور اپنے خُدَّام سے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں اعلان کر دو کہ جس شخص کو کوئی حاجت ہو، وہ میرے پاس آ جائے۔ چنانچہ مکہ مکرمہ کے ضرورت مند لوگ آپؒ کے خیمے کے باہر جمع ہوگئے۔ امام شافعیؒ نے اس رقم کو گنے بغیر ضرورت مندوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ آپؒ دس ہزار دینار ایک ایک کرکے لوگوں کی حاجت پوری کرنے میں صرف کرتے رہے، یہاں تک کہ پوری رقم ختم ہوگئی۔ جب آخری دینار بھی تقسیم ہو گیا تو آپؒ نے اپنے کپڑے جھاڑے اور فرمایا: اب دیکھ لیا جائے کہ کچھ باقی تو نہیں رہ گیا۔ جب اطمینان ہوگیا کہ کچھ بھی باقی نہیں بچا تو فرمایا: اب چلیں، مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ اللہ والوں کے نزدیک مال اپنی ذات کی آسائش کا ذریعہ نہیں بلکہ ضرورت مندوں کی حاجت روائی، سخاوت اور رضائے الٰہی کے حصول کا وسیلہ ہوتا ہے۔
ہم لوگ دنیا میں اپنے لیے گھر اور جائیدادیں بنانے اور خریدنے کی فکر کرتے ہیں، لیکن اللہ والے دنیاوی گھر سے بڑھ کر ایسا گھر چاہتے تھے جو اللہ کی نگاہ میں قابلِ قبول ہو۔ امام شافعیؒ کے واقعے میں بھی یہی کیفیت نظر آتی ہے کہ آپؒ کے پاس دس ہزار دینار تھے اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپؒ نے وہ تمام رقم ضرورت مندوں میں تقسیم کر دی۔ گویا آپؒ کے نزدیک اصل دولت اپنے لیے گھر خرید لینا نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اپنا مال اس طرح خرچ کرنا تھا کہ مکہ میں داخل ہوتے وقت کسی مال و متاع کا بوجھ باقی نہ رہے۔ یہ اللہ والوں کی سخاوت اور ایثار کی وہ کیفیت تھی جس میں انسان دنیا میں اپنے لیے سہولتیں جمع کرنے کے بجائے آخرت کے لیے نیکیوں کا سرمایہ جمع کرتا ہے۔ اسی طرح اسلام نے روز مرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضروریات میں بھی صدقہ و خیرات اور دوسروں کی مدد کی ترغیب دی ہے، جیسا کہ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ایک حدیثِ مبارک میں اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ:
لِكُلِّ شَيْءٍ زكَاةٌ وَزَكاةُ الدَّارِ الضِّيَافَةُ.
’’ہر چیز کی ایک زکوٰۃ ہے، اور گھر کی زکوٰۃ مہمان نوازی ہے۔‘‘ (ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، جلد3، ص 332، رقم: 4997)
اسلامی تعلیمات میں ہر نعمت کے ساتھ شکر اور اس کی زکوٰۃ کا تصور وابستہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مال عطا فرمائے تو اس کی زکوٰۃ و صدقہ مستحقین کی مدد ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ اسے ایک خوب صورت اور کشادہ گھر عطا فرمائے تو اس نعمت کا شکر یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مہمانوں اور مسافروں کے لیے جگہ مخصوص کرے۔ یوں وہ اپنے گھر کی نعمت کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور اظہارِ تشکر کرتا ہے۔
اولیاء اللہ کی زندگیوں میں خدمتِ خلق اور خیرات کا یہ جذبہ صرف مال خرچ کرنے تک محدود نہیں تھا۔ جن کے پاس مال تھا، وہ مال کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کرتے؛ اور جن کے پاس مال نہ تھا، وہ اپنا وقت، اپنی قوت اور اپنی صلاحیتیں دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر دیتے۔ ان کے نزدیک اصل چیز یہ تھی کہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے جس کے ذریعے کسی انسان کی مدد، دلجوئی یا حاجت روائی کی جا سکتی ہو۔
اسی جذبۂ خدمت کی ایک سبق آموز مثال سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بیان کی جاتی ہے۔ سیدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے تو ایک روز آپؓ کی نظر ایک نابینا اور نہایت غریب شخص پر پڑی جو گلی میں بیٹھا تھا۔ آپؓ اس کے قریب تشریف لے گئے، گھر سے کھانا منگوایا اور اپنے دستِ مبارک سے اسے کھلانے لگے۔ وہ نابینا شخص نہیں جانتا تھا کہ اسے کون کھانا کھلا رہا ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگیا اور کہنے لگا: کئی دن ہوگئے ہیں کسی نے مجھے اس محبت سے کھانا نہیں کھلایا۔ ایک شخص کبھی کبھی مجھے اسی طرح اپنے پاس بٹھا کر اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا۔ وہ ہمارے امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔ جب سے وہ شہید ہوئے ہیں، کسی نے اس طرح میری خبر نہیں لی۔ آج جب یہ شخص اپنے ہاتھ سے مجھے کھانا کھلا رہا ہے تو مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں پھر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے کھانا کھا رہا ہوں۔
اس موقع پر ایک شخص نے بتایا: یہ اسی عظیم ہستی کے فرزند، امام حسن رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ سن کر وہ نابینا شخص مزید جذباتی ہوگیا اور کہنے لگا: اس شہر میں دو ہی سخی گزرے ہیں: ایک سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دوسرے اُن کے فرزند امام حسن رضی اللہ عنہ۔ یوں سخاوت، شفقت اور خدمتِ خلق صرف ایک فرد کا وصف نہیں رہتی بلکہ وہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایسی عملی میراث بن جاتی ہے جس سے معاشرے کے محروم افراد بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ