پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا جامع شیخ الاسلام میں ماہانہ مجلسِ ختم الصلوٰۃ علی النبی ﷺ و محفلِ شبِ بیداری سے خطاب

لاہور: چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے جامع شیخ الاسلام میں ماہانہ مجلسِ ختم الصلوٰۃ علی النبی ﷺ و محفلِ شبِ بیداری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کِبر، عُجب اور تکبر باطن کی ایسی اخلاقی و روحانی بیماریاں ہیں جو انسان کو حق قبول کرنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے سے روکتی ہیں، ان کا علاج قبولِ حق، تواضع، خدمت اور تزکیۂ نفس ہے۔ روحانی مجالس کا مقصد باطن کی اصلاح، تزکیۂ نفس اور ایمان کی طہارت ہے، تاکہ انسان کا دل انوار و تجلیات سے معمور ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب بنے۔
انہوں نے کہا کہ شیطان انکار اور تکبر کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا۔ اس واقعے میں سبق ہے کہ انا، ضد اور انکارِ حق انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔ کِبر یہ ہے کہ انسان حق کو جانتے ہوئے اپنی انا کی وجہ سے قبول نہ کرے یا دوسروں کو حقیر سمجھے، جبکہ خوبصورت لباس یا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے استفادہ بذاتِ خود کِبر نہیں۔ عُجب خود پسندی اور خوبیوں پر فریفتہ ہونے، کِبر دوسرے کے مقابلے میں خود کو بڑا سمجھنے اور تکبر اس کیفیت کے عملی اظہار کا نام ہے۔ علم، عبادت، نسب، خاندان، خوبصورتی، طاقت، منصب اور سماجی حیثیت بھی انسان میں غرور پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں اگر وہ انہیں اپنی برتری سمجھنے لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نصیحت برداشت نہ کرنا، اپنی غلطی تسلیم نہ کرنا، تنقید پر غصہ کرنا، کمزوروں کو نظرانداز کرنا، خدمت کو عار سمجھنا، تعریف پسند ہونا اور دوسروں کی کامیابی پر حسد کرنا نفس کی بیماری کی علامات ہیں۔ انسان کو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ کِبر کے علاج کے تین بنیادی طریقے بیان کرتے ہوئے کہا کہ قبولِ حق، خدمت اور تواضع و انکسار کو زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ حق بات کسی بچے یا کم علم شخص کی زبان سے بھی سامنے آئے تو اسے قبول کیا جائے؛ یہ نہ دیکھا جائے کہ بات کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ بات کیا ہے۔
انہوں نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور سلف صالحین کی زندگیوں میں خدمت، عاجزی اور انکسار نمایاں نظر آتا ہے۔ حقیقی عظمت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھے، دوسروں کی خدمت کرے، اپنی غلطی تسلیم کرے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا رہے۔ اپنے باطن کی اصلاح، نیتوں کی پاکیزگی اور نفس کے محاسبے کو زندگی کا معمول بنایا جائے، کبر و عُجب سے نجات حاصل کی جائے اور قبولِ حق، عاجزی و انکسار اور خدمتِ خلق کا پیکر بنا جائے۔
سربراہ ماہانہ مجلسِ ختم الصلوٰۃ علی النبی ﷺ و محفلِ شبِ بیداری علامہ احمد نواز انجم نے استقبالیہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تاریخ میں دو کردار نمایاں ہیں، ایک فرشتوں کا کردار جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا اور دوسرا شیطان کا کردار جس نے انا، ضد، حسد اور تکبر کی بنیاد پر حکمِ الٰہی سے انکار کیا۔ ایک طرف انکساری، تسلیم و رضا ہے اور دوسری طرف انا، ضد اور تکبر۔ یہی دو رویے انسان کے باطن اور کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہر بیماری کا علاج ہر جگہ اور ہر ہسپتال میں نہیں ہوتا، بعض روحانی و باطنی امراض کا علاج اللہ والوں کی صحبت اور صالحین کی مجالس میں نصیب ہوتا ہے۔
قبل ازیں محفل کا آغاز قاری سید خالد حمید کاظمی الازہری کی تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، حافظ سلیمان بشیر فاضل منہاج یونیورسٹی لاہور، حافظ محمد عاصم شریف اور عبدالرحمان مدنی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جبکہ قاری اکرام ربانی و ہمنوا نے گوشۂ درود کے وظائف پیش کیے، اختتام پر اقبال حسین باجوہ و ہمنوا نے مراقبہ و ذکر کروایا۔ ڈائریکٹر گوشۂ درود علامہ محمد لطیف مدنی نے ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئےکہا کہ ماہ ستمبر میں درود پاک کی تعداد 06 ارب، 22 کروڑ، 82 لاکھ، 76 ہزار 683 جبکہ کل تعداد 09 کھرب، 40 ارب، 94 کروڑ، 22 لاکھ، 73 ہزار، 188 مرتبہ ہے۔
محفل میں الحاج عبدالغفور قادری، ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ، ڈاکٹر محمد رفیق نجم، بریگیڈیئر (ر) عمر حیات، علامہ رانا محمد ادریس قادری، رانا محمد فیاض، محمد جواد حامد، کرنل (ر) خالد جاوید، راجہ زاہد محمود قادری، میاں زاہد اسلام، میاں ریحان مقبول، محمد شاھد مرسلین، محمد اقبال مصطفوی، رحیم علی رزاق، پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز الحسن باروی، علامہ غلام مرتضیٰ علوی، ونگ کمانڈر محمد غفار خان، شکیل احمد طاہر، سردار عمر دراز خان، ناظم علی رحمت اعوان، اسامہ مشتاق، حاجی غلام فرید سمیت علماء و مشائخ، تحریک منہاج القرآن کے قائدین و جملہ فورمز کے ذمہ داران، طلبہ و طالبات، رفقاء و وابستگان، لاہور کی تنظیمات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات سمیت عامۃ الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔













































تبصرہ