تکبر بڑا گناہ، علاج تزکیہ نفس ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری
چیئرمین سپریم کونسل کا ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ کی خصوصی روحانی محفل میں خطاب
ستمبر میں 6ارب 22کروڑ 82لاکھ 76ہزار درود پاک کا نذرانہ پیش کیا گیا
آپؐ کی بارگاہ میں اب تک 9کھرب 40ارب 94کروڑ سے زائد درود پاک کا تحفہ

لاہور(2اکتوبر 2026) چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبیؐ کی خصوصی روحانی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تکبر اور رعونت ایک بڑا گناہ ہے، اس کا علاج عاجزی، انکساری، تواضع اختیار کرنا اور تزکیہ نفس ہے۔ اپنے وسائل، اپنی صحت، اپنی عبادات، اختیارات، اپنی عقل پر ناز کرنا اور دوسروں کو کمزور سمجھنا تکبر کی بدترین شکلیں ہیں۔ بعض لوگ غیر محسوس طریقے سے تکبرکے اس عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں مگر انہیں خبر تک نہیں ہوتی۔ تکبر اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ترین گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔ ہمیشہ رہنے والی ذات اللہ کی ہے، انسان عروج و زوال کا مجسمہ ہے، ایک وقت میں انسان توانا، زور آور ہوتا ہے اور پھر وہی انسان بڑھاپے میں قدم قدم پر دوسروں کا مرہون منت ہوتا ہے اور اس عالم میں اُس کی دولت، اُس کے اختیارات اُس کے کسی کام نہیں آتے اس لئے عاجزی، انکساری اختیار کریں، انسان کے اس دنیا کے چلے جانے کے بعد اُس کا تکبر نہیں اس کی عاجزی اور انکساری اس کو زندہ رکھتی ہے۔
ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبیؐ میں مینارۃ الاسلام گوشہ درود کے ڈائریکٹر علامہ محمد لطیف مدنی نے بتایا کہ ستمبر 2026ء کے ایک ماہ میں 6ارب 22کروڑ 82لاکھ 76ہزار 683مرتبہ درود پاک کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مینارۃ الاسلام گوشہ درود کا قیام 2005ء میں عمل میں آیا اور 2005 سے تاحال حضور نبی اکرمؐ کی بارگاہ میں 9کھرب 40ارب 94کروڑ 22لاکھ 73ہزار 1 سو 88مرتبہ درود و سلام کا ہدیہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا گوشہ درود میں دس دن کے لئے ایک خصوصی روزہ کی حالت میں شب و روز درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتی ہے اور اس نظام کے تحت پاکستان بھر اور بیرونی دنیا میں بھی حلقات درود و سلام قائم ہیں جہاں دستیاب وقت کے مطابق شرکاء محافل منعقد کرتے اور آپؐ کی بارگاہ میں درود پاک پیش کرتے ہیں اور پھر یہ عدد گوشہ درود کے مرکزی نظام کے تحت نوٹ کیا جاتا ہے۔
ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبیؐ کی نقابت نائب ناظم اعلیٰ احمد نواز انجم نے کی، محفل میں الحاج عبدالغفور قادری، ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ، ڈاکٹر محمد رفیق نجم، بریگیڈیئر(ر) عمرحیات، علامہ رانا محمد ادریس قادری، رانا محمد فیاض، محمد جواد حامد، کرنل(ر) خالد جاوید، راجہ زاہد محمود، میاں زاہد اسلام، میاں ریحان مقبول، محمد شاہد مرسلین، محمد اقبال مصطفوی، رحیم علی رزاق، ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی، علامہ غلام مرتضیٰ علوی، ونگ کمانڈر محمد غفار خان، شکیل احمد طاہر، سردار عمر دراز خان، ناظم علی رحمت، اسامہ مشتاق، حاجی غلام فرید سمیت علماء و مشائخ، تحریک منہاج القرآن کے قائدین و جملہ فورمز کے ذمہ داران، طلبہ و طالبات، رفقا و وابستگان، لاہور کی تنظیمات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنی والی ممتاز شخصیات سمیت عامۃ الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔


















تبصرہ