گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(ایم ایس پاکستانی)

گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ماہانہ روحانی اجتماع 2 اپریل 2009ء کو منعقد ہوا۔ گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ 40 واں اجتماع تھا۔ اس پروگرام کا انعقاد گوشہ درود کے صفہ ہال میں کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت تحریک منہاج القرآن کے امیر صاحبزادہ مسکین فیض الرحمن درانی نے کی۔ ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، ناظم پنجاب علامہ احمد نواز انجم، گوشہ درود کے امیر الحاج محمد سلیم قادری، حاجی ریاض احمد، مفتی اعظم مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، علامہ محمد نواز طفر، ناظم ایڈمن محمد عاقل ملک، سینئر نائب ناظم تنظیمات ساجد محمود بھٹی، شہزاد رسول قادری اور دیگر مرکزی قائدین نے بھی پروگرام میں خصوصی شرکت کی۔ اس روحانی اجتماع میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

نماز عشاء کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد نعت خوانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ کالج آف شریعہ کے حیدری برادران، حافظ عنصر علی قادری اور دیگر نعت خواں حضرات نے مدح سرائی کا شرف حاصل کیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خطاب سے قبل بتایا کہ ماہ مارچ 2009ء میں پڑھے جانے والے درود پاک کی تعداد 87 کروڑ 24 لاکھ 95 ہزار اور 319 ہے جبکہ اب تک 7 ارب 30 کروڑ 20 لاکھ 46 ہزار اور 408 مرتبہ درود پاک پڑھا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے الشیخ ابن عطاء اللہ السکندری کے رسالہ "الحکم العطایہ" سے درس تصوف دیا۔ آپ نے کہا کہ الشیخ ابن عطاء اللہ السکندری نے لکھا ہے کہ "اے بندے تو دنیا کی ہوس، لالچ، عزت، شہرت اور دیگر لغزشوں میں کھو گیا ہے تو تمہارا دل کیسے اللہ کی طرف راغب ہو سکتا ہے"۔ آپ نے کہا کہ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یوں بیان فرمایا کہ

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِO

لوگوں کے لئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہےo

(آل عِمْرَان، 3 : 14)

شیخ الاسلام نے کہا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی قریت حاصل کرنے کے لیے اپنی خواہشات نفس کو ختم کرنا ہوگا۔ اللہ سے لو لگانے کے لیے انسان کو دنیاوی لغزشوں سے دوری اختیار کرنی ہوگی۔ آپ نے کہا کہ نفسانی خواہشات انسان کے لیے وہ زنجیر ہیں جو اس کو زندگی بھر جکڑے رکھتی ہیں۔ اگر ان سے چھٹکارا نہ حاصل کیا جائے تو پھر انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ بندے کو ہمیشہ اللہ رب العزت کے عدل سے ڈرنا چاہیے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو پھر وہ بندے کے ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ کو بھی عدل میں شمار کرے گا۔ تمام چھوٹے بڑے گناہ اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں رکھے جائیں گے۔ اے بندے اگر تیرا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو گا تو تمہارے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے اور جنت تیرا مقام بن جائے گا۔

آپ نے کہا کہ انسان کا گناہ اس کی بخشش کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس حوالے سے آپ نے ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ "کوئی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے نہیں بخشا جائے گا۔" آپ نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کا فیصلہ کر لیا تو انسان کی بڑی سے بڑی نیکی بھی اس کی بخشش کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس کے لیے ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کے فضل کا منتظر رہنا ہوگا۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کا فضل چاہتے ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مخلوق میں ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آئیں۔ اس حسن سلوک میں خاوند کا بیوی سے حسن سلوک، چھوٹے کا بڑے سے حسن سلوک اور ہر انسان کا دوسرے سے حسن سلوک شامل ہے۔

آپ نے کہا کہ اگر حقدار کو اس کا حق نہ دیا جائے تو یہ ظلم ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے جو حق دیا ہے دوسروں تک پہنچا دینا، یہ عدل ہے۔ عدل بہن بھائیوں، میاں بیوی، اولاد والدین، امیر و غریب اور دیگر رشتہ داروں و عزیز و اقارب سے برتاؤ کا نام ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے معاملات سر انجام دیتے وقت عدل سے کام لینا چاہیے۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ اگر کسی نے غلطی کی تو اس کو معاف کر دیا جائے تو یہ فضل ہے۔ اگر انسان چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ فضل فرمائے تو ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ فضل کا پیمانہ رکھنا ہو گا۔ آپ نے کہا کہ حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا جس کا مفہوم یوں ہے کہ ایک مالدار شخص کے پاس صرف ایک نیکی تھی۔ وہ تجارت کرتا اور اپنے گاہکوں کے ساتھ بہت حسن سلوک کے ساتھ پیش آتا تھا۔ کسی سے سختی سے برتاؤ نہیں کرتا تھا۔ جب اس شخص کا حساب ہوا تو اس کے پاس صرف ایک نیکی تھی۔ جب ملائکہ نے اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا تو فرمایا کہ اے ملائکہ یہ میرا بندہ لوگوں پر سختی نہیں کرتا تھا تو اللہ حساب کے وقت اس سے کیسے سختی کرے گا۔

شیخ الاسلام نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے تمام شرکاء و کارکنان اور عوام دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کو اپنا شعار بنا لیں۔ آپ نے کہا کہ جس نے حسن سلوک کیا وہ فضل والا ہے۔ شیخ الاسلام کا خطاب شب بارہ بجے ختم ہوا۔ اس کے بعد آپ نے اختتامی دعا بھی خود کرائی۔ اختتام پر لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top