حکمرانوں کو خود اعتمادی، عوام کو شعور اور اسلامی تربیت کی ضرورت ہے : فیض الرحمان درانی

حکومت غیروں کی مداخلت کو قبول کرنے کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور خود اعتمادی سے خود انحصاری کی راہیں متعین کرے
تحریک منہاج القرآن (نظامت تربیت) کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ میں اسلامی تربیتی کورس کی افتتاحی تقریب سے مقررین کا خطاب

تحریک منہاج القرآن کے مرکزی امیر اور پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر فیض الرحمان درانی نے کہا کہ حکمرانوں کو خود اعتمادی اور جرات کی ضرورت ہے۔ عوام کو شعور اور اسلامی تربیت کی ضرورت ہے۔ موجودہ افتراق و انتشار کا تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ ہم نے اسلامی احکامات سے منہ موڑا تو اللہ تعالی کی رحمت ہم سے روٹھ گئی۔ مصائب و آلام کے طوفان میں پھنسی ہوئی قوم کو غیرت مند اور بہادری کا ثبوت دینا ہوگا۔ قوموں پر کٹھن مقام آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک منہاج القرآن (نظامت تربیت) کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ میں ہونے والے اسلامی تربیتی کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کی صدارت مسجد نبوی مدینہ شریف کے سابق امام محمد ادیب الھادی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے سید محمد ابو الخیر مدنی نے کی۔ جس میں سینکڑوں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

فیض الرحمان درانی نے کہا کہ دین اسلام زندگی کے تمام مراحل میں جینے کا شعور عطا کرتا ہے۔ ہم نے اسلام کی سچی ہدایات کو خیرباد کہا تو شعور نے ہمیں خیرباد کہہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام سے دوری ہمیں حقیقتوں سے دور لے گئی۔ تمام سیاستدان، سیاست کا کھیل چھوڑ کرملک و قوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیں۔ ذمہ دار افراد عوام کو تعلیم و تربیت کی روشنی سے منور کرتے تو ہمیں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ساری قوم پاکستان کی بقاء، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن مختلف حیلوں اور بہانوں سے پاکستانی قوم کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رہا ہے۔ مشکل اوقات میں جو افراد اور اقوام راہ فرار اختیار کرتے ہیں، ان کی عزت، آزادی اور خودی خاک میں مل جاتی ہے۔ ہمیں اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد، اتفاق کو اجاگر کرتے ہوئے ملک و قوم کو مستحکم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد اور ممالک دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی گھناؤنی سازش کررہے ہیں جو اسلام کو بدنام کرنے کی منظم مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غیروں کی مداخلت کو قبول کرنے کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور خود اعتمادی سے خود انحصاری کی راہیں متعین کرے اور اس سفر میں ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے، جس میں پوری قوم یکجہتی کی لڑی میں بندھ جائے۔

تقریب سے سید محمد ابو الخیر مدنی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ دشمن چاہتا ہے کہ ہم لڑتے رہیں اور وہ اپنی سازشوں میں کامیاب ہوتا رہے۔ ہمیں دشمن کے منصوبوں کو ناکام کرنا ہوگا۔ مؤثر شخصیات اور دانشور ملک و قوم کی سلامتی اور ترقی کے لیے حکمرانوں کی صحیح راہنمائی کرسکتے ہیں اورعوام میں اتحاد، پیار و محبت، رواداری، مساوات، اخوت، یگانگت اور امن کو فروغ دینے میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہیں یہ فریضہ احسن انداز میں ادا کرنا چاہیے۔ افتتاحی تقریب سے ڈاکٹر تنویر اعظم سندھو، جی ایم ملک، مرتضیٰ علوی، قمر جاوید، عبدالرزاق، جواد حامد، رانا فاروق اور مولانا عثمان سیالوی نے بھی خطاب کیا۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Top