منہاج القرآن انٹرنیشنل انڈیا کے زیراہتمام کرجن میں اجتماع، انسانوں کا سیلاب امڈ آیا

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے دورہ بھارت کے دوران 25 فروری 2012ء کو بھارتی ریاست گجرات میں کرجن کے مقام پر اجتماع ہوا۔ اس موقع پر شیخ الاسلام کو سننے کیلئے ریاست گجرات میں بروڈہ، اجمیر شریف، ممبئی، کچ بوجھ، احمد آباد، حیدرآباد دکن، دہلی، لکھنو اور انڈیا کے اطراف و اکناف سے انسانوں کا سیلاب امڈ آیا۔ اجتماع میں علماء و مشائخ کرام، سجادگان و خدام سلطان الہند امام العارفین خواجہ خواجگان سیدنا معین الدین جشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔

انتہاء پسندوں کی طرف سے ملنے والی قتل کی دھمکیوں کے باوجود شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری خطاب کیلئے سٹیج پر پہنچے تو لاکھوں افراد نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔ گجرات حکومت کی طرف سے انہیں سٹیٹ گیسٹ کا پروٹوکول دیا گیا۔ ان کیلئے Z+ سیکیورٹی کا انتظام تھا، حفاظت کیلئے 300 کمانڈوز اور پولیس اہلکار تعینات تھے۔ پنڈال تک پہنچنے والے راستوں پر بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے بھارتی ریاست گجرات میں بروڈہ سے 50 کلومیٹر دور واقع کرجن میں منہاج القرآن انٹرنیشنل انڈیا کے ہیڈ کوارٹر کا سنگ بنیاد رکھا۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل انڈیا کے سرپرست اعلیٰ سید نادر علی نے شیخ الاسلام کے دست مبارک سے سنگ بنیاد کی دو انیٹیں وصول کیں۔

شیخ الاسلام نے اپنے خطاب سے قبل پروگرام میں انتظامات کے لیے بھارتی حکومت اور وزارت داخلہ کے علاوہ بھارتی ریاست گجرات کی حکومت، انٹیلی جنس اداروں، ہوم منسٹری اور گجرات کے وزیراعلیٰ اور بالخصوص پولیس سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سلامتی اور امن و آشتی کا دین ہے اور اس کا پیروکار انتہا پسند اور دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔ حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پوری انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے اور آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا امتیاز نسل، رنگ و مذہب ساری انسانیت کو حقوق دئیے۔ انسانیت کو انکے حقوق کا شعور عطا کیا۔

شیخ الاسلام نے خطاب کے ابتدائی جملے گجراتی زبان میں بولے اور کہا کہ ’’گجرات والوں کی محبت سے بہت خوش ہوا ہوں اورمیں تمام گجراتیوں کیلئے دعا گو ہوں کہ وہ امن و سلامتی اور خوشحالی سے رہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اولیاء اللہ حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے دین کا پیغام عام کرنے کیلئے آئے اور انکی ذوات مقدسہ بند دلوں کو کھولنے والی چابیاں تھیں۔ اللہ نے حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا ذکر بلند کر دیا ہے اور تمام انسانیت حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی عظمت کے ڈنکے بجارہی ہے۔ بھارت کی سرزمین اللہ کے دوستوں سے معمور ہے۔ خواجہ اجمیر رحمۃ اللہ علیہ، خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ، نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ، مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت باقی بااللہ رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اولیاء کرام نے لوگوں کے دل جیت کر اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ نفرتوں کو ختم کر کے محبت سے رہنے میں ہی سکون ہے۔ سکون نفرت اور عداوت سے نہیں محبت اور سلامتی سے ملتا ہے۔

پروگرام کے آخر میں درود و سلام کا نذرانہ بھی پیش کیا گیا۔

تبصرہ

Top