شہر اعتکاف 2013: والدین کے حقوق کی ادائیگی جہاد کرنے سے افضل ہے، شیخ الاسلام

مورخہ: 05 اگست 2013ء

26 رمضان المبارک کی شب شہر اعتکاف لاہور میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے والدین اور قرابت داروں کے حقوق پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت تصریح کے ساتھ والدین کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا اور بڑھاپے میں ان کا دل بہلانے کے لیے خوبصورت باتیں کرنے کا درجہ اور ثواب جہاد کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نوجوان بیٹے، بیٹیاں اپنے والدین کو اپنے وقت کا بہترین حصہ دیا کریں۔ جیسے آپ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں میں دل چسپی لیتے ہیں، ان کی زبان میں باتیں کرتے ہیں اور انہیں کہانیاں بھی سناتے ہیں۔

ایک صحابی کو آقا علیہ السلام نے جہاد پر جانے کی بجائے والدین کی خدمت کی تلقین کی، ساتھ بشارت دی کہ جہاد پر نہ جائو، والدین کی خدمت سے تجھے حج اور عمرے کا ثواب بھی ملے گا۔

حضرت اویس قرنی رضی اللہ اپنی بیمار بوڑھی والدہ کی خدمت کی وجہ سے مدینہ کا سفر نہ کر سکے اور حج کی سعادت حاصل نہ کر سکے۔ حضور سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے اسے صحابی کا درجہ نہ مل سکا۔ جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ والدہ انتقال کے انتقال کے بعد حج کے لیے تشریف لائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے  مطابق اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی۔ ایک صحابی، تابعی سے دعا کرا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو یہ درجہ والدین کی خدمت کے صلہ میں ملا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ والد کے فوت ہو جانے کے بعد بھی بیٹا اپنے والد کے دوستوں سے حسن سلوک کرے۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ بیٹے، بیٹاں سنیں کہ جس مشن کے ساتھ تمہارے والدین منسلک ہیں، اس مشن سے جڑے رہنا۔ جہاں سے ہمیں ایمان، ادب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سبق ملا، اس مشن سے جڑے رہنا۔ جہاں سے ہمیں نیکی، تقوی اور طہارت کا درس ملا، اس مشن سے جڑے رہنا۔ یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔

آپ نے کہا کہ جو شخص خونی رشتوں کو جوڑتا ہے، اللہ اس کو جوڑتا ہے۔ لیکن جو شخص اپنے خونی رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی نہیں کرتا، ان کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسے انسان سے اپنا رشتہ کاٹ لیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا نام رحمان ہے۔ میں نے خونی رشتہ کا نام "رحم" رکھا ہے۔ یہ نام اللہ نے اپنے نام سے نکالا، اس لیے جو شخص خونی رشتوں کی قدر نہیں کرتا۔ وہ عرش معلی کے ساتھ دشمنی لیتا ہے۔ کیونکہ خونی رشتہ عرش کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ جو شخص چاہے کہ اس کے رزق اور عمر میں اضافہ ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے خونی رشتوں پر احسان کرے۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کی نیکیاں ان کے منہ پر ماری جائیں گی، جو خونی رشتوں کو چھوڑ کر دوسرے پر خیرات کرتے رہتے ہیں۔

آقا صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کی بچوں پر شفقت اور محبت کے حوالے سے شیخ الاسلام نے کہا کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو پکڑ کر کندھوں پر بٹھا لیتے۔ جب آپ نماز کے دوران سجدے میں جاتے تو حسن اور حسین علیھما السلام دونوں شہزادے پشت پر سوار ہو جاتے۔ جب تک دونوں نیچے نہ اتر جاتے، آپ سجدہ ختم نہ کرتے۔

آخر میں آپ نے کہا کہ دین فقط نماز روزے کا نام نہیں بلکہ دین ایک کل ہے۔ آقا علیہ السلام کی سیرت کو زندگی کے ہر گوشے میں لانا ہوگا۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر بندے کا دنیا میں رہ کر آخرت اور فرش سے تعلق جڑ جاتا ہے۔

یاد رہے کہ شیخ الاسلام کا یہ خطاب خواتین اعتکاف گاہ سے اے آر وائی نیوز ذوق ٹی وی اور منہاج ٹی وی کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا۔

شیخ الاسلام کے خطاب سے پہلے ملک پاکستان کے نامور ثناء خواں فرحان علی قادری نے اپنے مخصوص انداز میں نعت خوانی کی۔ اس موقع پر دیگر نعت خواں حضرات نے بھی بارگاہ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نعت خوانی کا شرف حاصل کیا۔

تبصرہ

Top