تحريک منہاج القرآن کے زيراہتمام قومی امن کونسل کا اجلاس

مورخہ: 20 اگست 2009ء

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام قومی امن کونسل کا اجلاس تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں 20 اگست 2009ء کو منعقد ہوا۔ اجلاس کي صدارت ايم کيو ايم کے مرکزي رہنماء اور سينٹر کرنل (ر) طاہر مشہدی نے کی جبکہ جمہوری وطن پارٹی کے صدر نواب شاہ زین بگٹی نے اجلاس ميں خصوصی طور پر شرکت کي۔ پاکستان پيپلز پارٹي کے رہنماء منیر احمد خان، اے اين پي کے سيکرٹري جنرل احسان وائیں، مسلم ليگ ق کي مہناز رفیع، تحريک منہاج القرآن کے قائمقام ناظم اعليٰ شیخ زاہد فیاض، پاکستان عوامي تحريک کے سيکرٹري جنرل انوار اختر ایڈووکیٹ، تحريک خاکسار کے قائد حمید الدین المشرقی، پاکستان تحريک انصاف کے وائس ایڈ مرل (ر) جاوید اقبال، ہيومن رائٹس کمشن پاکستان کے چيئرمين سہیل اختر ملک، سینئر صحافي ادیب جاودانی (سینئر کالم نگار نوائے وقت)، عوامي قيادت پارٹي کے اسلم محسن، چیئر پرسن انٹر فیتھ ریلیشنز علینا ٹوانہ، قومي جونئير ہاکي ٹيم کے کوچ اور اولمپئن خواجہ محمد جنيد، قومی امن کونسل کے کوآرڈینیٹر محمد جواد حامد،  پاکستان يوتھ محاذ کے کوآرڈينيٹر بلال مصطفوی اور ملک کي سياسي جماعتوں کے ديگر مرکزي رہنماؤں نے بھي اجلاس ميں شرکت کی۔

تمام شرکاء نے اظہار خيال کرتے ہوئے اس بات پر زور ديا کہ  قيام امن اس وقت ممکن ہو گا جب مرکزي حکومت صوبوں کو آئین کے تحت صوبائی خود مختاری دے۔ اس کے علاوہ مسائل کے حل کے ليے صوبوں کو ان کے حقوق بھي ديئے جائيں۔ ہاؤس نے متفقہ طور پر کہا کہ پارلیمنٹ رضاکارانہ طور پر کنکرنٹ لسٹ پر قانون سازی ترک کرکے صوبائی اسمبلیوں کو قانون سازی کرنے کا حق دے۔

اجلاس نے متفقہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے خلاف فوجی آپریشن کی بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کیے جائیں۔ چھوٹے صوبوں کو آبادی کے ساتھ غربت اور رقبے کی بنیاد پر ترجیحاً حقوق اور وسائل دیئے جائیں۔ صوبوں کا اپنے وسائل پر حق تسلیم کیا جائے اور انہیں بر وقت رائلٹی دی جائے۔ صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ دہشت گردی و انتہاء پسندی کی اصل جڑ غربت و پسماندگی کو دور کیا جائے اور مسائل حل کیے جائیں۔ اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ سانحہ گوجرہ جیسے واقعات نہ ہوں۔

اجلاس میں نواب شاہ زین بگٹی نے کہا کہ صوبائی خود مختاری دینا آئین اور قائد اعظم کا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صوبہ اپنے وسائل پر باختیار ہے مگر بلوچستان کو اس کے حق سے محروم رکھا گيا ہے۔ آج ہم سب کو پاکستان بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

کرنل (ر) سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن بند کیا جائے۔ ملک و قوم کو نقصان سے بچانے کے لیے غربت، مسائل اور پسماندگی ختم کی جائے۔ آئین پاکستان اور قائد اعظم نے اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی ہوئی ہے لہذا سانحہ گوجرہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل انوار اختر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملک میں قومی امن کونسل کا کردار بڑا مثبت و مؤثر ہے۔ صوبوں کو آئین میں دیے گئے حقوق دینے سے صوبوں کا احساس محرومی دور ہوگا۔ نیشنل فنانس کمیشن، کونسل آف کامن انٹرسٹ اور نیشنل اکنامک کونسل سے صوبوں کو آبادی کے ساتھ غربت اور رقبے کی بنیاد پر ترجیحاً حقوق دیئے جائیں۔ آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی کونسلز کے اجلاسوں کا کم از کم دورانیہ، رپورٹس اور عمل درآمد کا عرصہ متعین کیا جائے۔ اجلاس ميں تمام شرکاء نے قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کيا۔

تبصرہ

Top