ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روحانی اجتماع (مئی 2010ء)

مورخہ: 06 مئی 2010ء

تحریک منہاج القرآن کے گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ مئی کا روحانی اجتماع 6 مئی 2010ء کو منعقد ہوا۔ یہ گوشہ درود کا 53 واں ماہانہ پروگرام تھا، جس میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے ادارے "آغوش" میں حفظ قرآن مکمل کرنے والے بچوں کے لیے دستار فضیلت کی تقریب بھی شامل تھی۔ مرکزی سیکرٹریٹ کے گوشہ درود کے ہال کی چھت پر ہونے والے پروگرام کی صدارت امیر تحریک مسکین فیض الرحمن درانی نے کی۔ ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، جی ایم ملک، مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، علامہ پروفیسر محمد نواز طفر، امیر پنجاب علامہ احمد نواز انجم، جواد حامد، راجہ زاہد محمود، افتخار شاہ بخاری، علامہ فرحت حسین شاہ، گوشہ درود کے حاجی محمد سلیم قادری، حاضی ریاض احمد، علامہ غلام مرتضیٰ علوی، ساجد محمود بھٹی اور تحریک منہاج القرآن کے دیگر مرکزی قائدین بھی سٹیج پر موجود تھے۔

روحانی اجتماع میں منہاج ویمن لیگ کی مرکزی قائدین اور خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ جن کے لیے پنڈال کا نصف حصہ مختص کیا گیا تھا۔ سٹیج کے دائیں جانب "آغوش" کے حفظ قرآن مکمل کرنے والے قراء بچوں کو بٹھایا گیا تھا۔ گوشہ درود کے گوشہ نشینان کو پنڈال میں سب سے آگے الگ جگہ پر بٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں شرکاء کے لیے ڈیجٹیل سکرین بھی لگائی گئی تھی۔

ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس روحانی اجتماع کا باقاعدہ آغاز نماز عشاء کے بعد ساڑھے 9 بجے ہوا۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد پروگرام میں نعت خوانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں امجد بلالی برادران، منہاج نعت کونسل، قاری عنصر علی قادری اور دیگر ثناء خوان حضرات نے نعت خوانی کے سلسلہ کو آگے بڑھایا۔

پروگرام میں شب پونے 11 بجے تک نعت خوانی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد علامہ احمد نواز انجم نے ماہ اپریل 2010ء کے دوران پڑھے جانے والے درود پاک کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ منہاج القرآن کے مرکزی گوشہ درود سمیت دنیا بھر میں پڑھے جانے والے درود پاک کی تعداد 58 کروڑ 4 لاکھ 59 ہزار 859 ہے۔ اب تک پڑھا جانے والا درود پاک کی تعداد 14 ارب 16 کروڑ 49 لاکھ 64 ہزار 332 ہو گئی ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطاب سے پہلے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے بھی اظہار خیال کیا۔ شیخ الاسلام کا خطاب شب 11 بجے شروع ہوا۔ کیو ٹی وی کے لیے ریکارڈ شدہ خطاب "تصوف اور تعلیمات صوفیاء" کی پہلی قسط کی ویڈیو ریکارڈنگ حاضرین کو دکھائی گئی۔ شیخ الاسلام نے پہلے خطاب میں "تصوف اور تعلیمات صوفیاء" کے موضوع کی افادیت بتائی۔

آپ نے کہا کہ برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کو پھیلانے میں تصوف اور صوفیاء نے اہم کردار ادا کیا لیکن بدقسمتی سے اس خطے میں صوفیاء کرام کی تعلیمات اور تصوف پر حملے بھی ہوئے۔ لوگوں کا ایک مخصوص طبقہ تصوف کی غلط تشریح پیش کر کے نوجوان نسل کو صوفیاء کرام سے دور کرنے کی سازش میں مصروف رہا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوفیاء کرام کی تعلیمات کو اس قدر بگاڑ کر پیش کیا گیا کہ تصوف کی غلط تشریح عام کر دی گئی۔ بعض مخالفین نے تصوف اور صوفیاء کرام کی تعلیمات کو ایک مخصوص خانے میں رکھ کر ان لوگوں سے دور حلقہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے کہا کہ صوفیاء کی تعلیمات کا تعلق الہام سے ہے لیکن صوفیاء کرام کی تعلیمات کو وہی سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی معاذ اللہ صوفیاء کرام وحی کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وحی تو اللہ اپنے پیغمبروں پر ہی اتارتا ہے۔ آپ نے کہا کہ آج اس غلط تاثر کو عام کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے خطابات کی یہ نئی سیریل شروع کی گئی ہے۔

آپ نے کہا کہ یہ تاثر بھی عام کر دیا گیا کہ صوفیاء کرام جیسے قوم کو رہبانیت کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں۔ جبکہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔ تصوف کو اس طرح تروڑ مروڑ کر پیش کیا گیا کہ صوفیاء کرام کو دنیا سے الگ تھلگ مخلوق سمجھا جانے لگا۔ جو شاید جنگلوں میں جا کر ترک دنیا ہو چکے ہیں۔ حقیقت میں صوفیاء کرام کی تعلیمات امن اور محبت کا حقیقی درس ہیں۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ پرانے وقتوں میں متوحدین اور ایک طبقے نے یہ "لاموجودہ الااللہ" کا عقیدہ کی غلط تشریح کرتے ہوئے یہ عام کر دیا کہ ہر وجود اللہ ہے۔ اس کے برعکس صوفیاء کرام کی تعلیمات یہ تھیں کہ اللہ تعالیٰ کا وجود کائنات میں ہر جگہ ہے لیکن توحید کو کسی ایک چیز کے ساتھ خاص کر دینا، درست نہیں ہے۔ صوفیاء کرام کے بارے میں ایک اور غلط فہمی بہت عام ہوئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا جدید اور علمی علوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حالانکہ صوفیاء کرام کے تعلیمات کا آغاز صحابہ کرام سے ہوئی۔ صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں دن رات بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علم کے خزانے لوٹتے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء کرام کی تعیلمات میں وہ تمام علوم شامل ہیں، جو دین کی بنیادیں ہیں۔ ایک طبقہ نے صوفیاء کے بارے میں یہ تاثر عام کر دیا تھا کہ صوفیاء کرام فقہ، علوم الدین، سائنس اور دیگر جدید عصری علوم سے واقف نہیں ہیں اور ان کا کام صرف دنیا سے ترک تعلق ہو جانا ہے۔ آپ نے کہا کہ اسلام میں دنیا سے قطع تعلقی کا عملی درس اسلام میں موجود ہی نہیں ہے۔

تصوف کے بارے میں یہ بھی سازش کی گئی کہ تصوف دور زوال کی پیداوار ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ تصوف میں وہ تمام علوم و فنون شامل ہیں، جس سے جدید دنیا بہرو ور ہوئی۔ آپ نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن صوفیاء کرام کے اس پیغام کو عام کر رہی ہے، جس سے اسلام کو تابندگی ملی۔

شیخ الاسلام کا خطاب بارہ بجے ختم ہوا۔ اس کے بعد آغوش کے حفاظ کرام بچوں کے لیے دستار بندی کی خصوصی تقریب معنقد ہوئی۔ اس میں ناظم اعلیٰ اور دیگر معزز مہمانوں نے آغوش کے سات حفاظ کرام بچوں کی دستار بندی کی۔ اس موقع پر بچوں کو تحائف بھی پیش کیے گئے۔ مجلس ختم الصلوہ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقابت کے فرائض وقاص علی واصل نے انجام دئیے۔

گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ کے اختتامی لمحات میں تمام حاضرین کھڑے ہو کر درود و سلام پیش کیا، جس کے بعد امیر تحریک مسکین فیض الرحمن درانی کی دعا سے پروگرام کا باقاعدہ اختتام ہوا۔ اس کے بعد شرکاء میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

رپورٹ : ایم ایس پاکستانی

تبصرہ

Top