لیلۃ القدر 2010 اور ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی (ص) کا خصوصی پروگرام

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام 27 ویں شب 2010ء کا خصوصی پروگرام مورخہ 6 ستمبر 2010ء کو مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اجتماع بھی شامل تھا۔ ماہ ستمبر کے اس اجتماع اور شب قدر کے پروگرام کو مشترکہ طور پر منعقد کیا گیا تھا۔ تحریک منہاج القرآن نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے گزشتہ 20 سال سے جاری شہراعتکاف کو امسال منسوخ کر دیا تھا، اس لیے 27 ویں شب کے سالانہ روحانی اجتماع کی بجائے مختصر پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، جسے شب ایک بجے سے صبح 3 بجے تک ARY News ٹی وی چینل نے براہ راست پیش کیا۔

پروگرام میں قائم مقام ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، ناظم امور خارجہ راجہ جمیل، ناظم اجتماعات جواد حامد اور ناظم دعوت صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ شب ساڑھے 12 بجے پروگرام کا باقاعدہ آغاز قاری اللہ بخش نقشبندی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ اس کے بعد قاری عنصر علی قادری نے نعت مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 27 ویں شب کے اس پروگرام میں کینیڈا سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے براہ راست خطاب کیا، جسے اے آر وائی نیوز چینل نے ٹیلی کاسٹ کیا۔ آپ نے "عبادت" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ان آیات بینات کی تلاوت کی۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِO

اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریںo (الذاريات ، 51 : 56)

إِنَّ الَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَO

بیشک جو (ملائکہ مقربین) تمہارے رب کے حضور میں ہیں وہ (کبھی بھی) اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور (ہمہ وقت) اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیںo (الاعراف ، 7 : 206)

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَO

اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو) تم اللہ کی عبادت کرو۔ (النَّحل ، 16 : 36)

خطاب کا آغاز کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے کہا کہ اللہ نے جس طرح اپنی شان کو الوہیت کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ شان اس سے کبھی جدا نہیں ہوتی۔ کوئی اسے مانے یا نہ مانے وہ ہر حال میں رب ہے۔ کوئی شخص ہزار بتوں کی پوجا کرتا پھرے، اس سے اللہ رب العزت کی شان الوہیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ ہر صورت میں معبود ہے۔ اسی طرح بندہ عبدیت کی شان کے ساتھ مزین کیا گیا ہے۔ بندہ اختیارات کو جتنا بھی اپنے ہاتھ میں کرنے کی کوشش کرے اور خدائی کے جتنے بھی دعوے کرتا پھرے وہ بندہ ہی رہے گا، بندہ کبھی قادر مطلق نہیں بن سکتا۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ بندگی کے 3 درجات ہیں۔ پہلا درجہ عبادت، دوسرا عبدیت اور تیسرا درجہ عبودیت ہے۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسانی تخلیق کا مقصد یہ بیان کیا کہ "میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریںo (الذاريات ، 51 : 56)" شیخ الاسلام نے عبادت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے کہا کہ عبادت محض نماز روزہ کا نام نہیں ہے۔ نماز، روزہ حج، زکوۃ اور دیگر افعال دینیہ بذات خود عبادت ہیں لیکن محض انہی اعمال کو عبادت سمجھنا درست نہیں ہے۔ عبادت ایک بہت وسیع اور جامع تصور نام ہے، ایسا تصور جو بندے کا اللہ سے تعلق جوڑتا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہر وہ عمل جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے عبادت کہلاتا ہے۔ اس طرح ہر وہ عمل جس سے اللہ رب العزت ناراض ہو، اسے چھوڑ دینا بھی عبادت ہے۔ خواہ عبادت کے اس عمل کی ہیت اور نیچر مذہبی ہو یا سماجی، فلاحی ہو یا خاندانی، حتی کہ مخلوق خدا کے ساتھ بھلائی پر قائم ہر عمل اسلامی تعلیمات میں عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔

آپ نے کہا کہ جب بندے کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو وہ اپنے محبوب کی رضا کا طلبگار ہوتا ہے۔ عبادت بندے اور اللہ کے درمیان محبت کا نام ہے، جس سے بندہ اپنے محبوب (اللہ) کی ناراضگی سے بچتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر وہ کام جس کی وجہ سے اللہ کو اپنے بندے سے محبت ہو، وہ عبادت کہلاتا ہے۔ غریبوں کی دلجوائی، سیلاب زدگان کی خدمت، حتی کہ معاشرے کی خدمت کے لئے درخت اگانا اور سڑک پر پڑی رکاوٹ کو دور کرنا بھی عبادت ہے۔ آپ نے کہا کہ اس تناظر میں روحانیت اور انسانیت سے متعلق سب افعال عبادت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یوں عبادت کا یہ تصور ہمہ گیر اور جامع بن جاتا ہے، جسے آج عام کرنے کی ضرورت ہے۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ آج ہمارے ملک میں عذاب در عذاب آ رہے ہیں۔ کبھی پانی کی کمی سے قحط اور خشک سالی کا عذاب آتا ہے تو کبھی پانی کی فروانی کی صورت میں سیلاب جیسے عذاب کا سامنا ہے۔ کبھی ملک میں سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جس سے انسانیت کا سر بھی شرم سے جھک گیا۔ ایسے واقعات قوم کے لیے سراپا عذاب ہیں۔ اگر ایمان سے اپنے گریبان میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سراسر اللہ رب العزت کے ساتھ قیام پاکستان کے وقت کئے جانے والے وعدہ سے روگردانی کی سزا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہمیں من حیث القوم یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اللہ سے تعلق عبدیت کو جوڑنے کے تقاضے پورے کر رہے ہیں؟ اس موقع پر آپ نے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "لوگو، دنیا والوں کے خوف سے مت ڈرو"۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، وہ اللہ پر توکل کرتا ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے سے نہیں ڈرتا۔ ہماری یہ حالت ہے کہ ہم کلمہ پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ مومن ہو گئے۔ مومن ہونا یہ نہیں ہے، بلکہ اللہ کی ذات پر ایمان لا کر اللہ کے سوا کسی اور سے نہ ڈرنا مومن ہونے کی نشانی ہے۔

آپ نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے دور زوال میں دین اور عبادت کا تصور نہایت محدود کر کے پیش کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عبادت کو محض روزہ، حج، زکوۃ اور دیگر فرائض دینیہ تک محدود سمجھا جانے لگا ہے۔

آپ نے کہا کہ عبادت لسانی یہ ہے کہ ہماری زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ ہم اپنی زبان کو ایسے قابو میں رکھیں کہ منہ سے جو بھی حرف نکلے وہ کسی دوسرے کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث نہ بنے۔ دوسری جانب جو لوگ اپنی زبان سے کسی کے لیے تکلیف کا باعث بن رہے ہیں وہ اللہ سے ناراضگی مول رہے ہیں۔

اسی طرح نماز ادا کرنا، روزہ رکھنا اور حج کرنا بدنی عبادات کا حصہ ہیں، لیکن ہم قومی سطح پر بدنی عبادات کا بھی حق ادا نہیں کر رہے۔ ہم نماز روزے کو جاری رکھتے ہوئے بھی ہمسایوں کی بدگوئی، لوگوں کی حق تلفی اور حرام خوری جیسی قبیح برائیوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

مالی عبادت کے ضمن میں آپ نے کہا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا مالی عبادت ہے، لیکن سب سے بڑی مالی عبادت یہ ہے کہ اپنے اعزاء و اقارب پر اللہ کی محبت میں اپنا مال خرچ کریں۔ جیسے آج کل پاکستان میں سیلاب سے لوگ تباہ حال ہو گئے ہیں۔ ان کی مدد کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ ہمارے ہاں بالعموم بھکاریوں کو بھیک دینا مالی عبادت سمجھا جاتا ہے جبکہ درحقیقت اس سے گداگری کو فروغ ملتا ہے۔ اصل مالی عبادت یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دیا جائے، اسی طرح مزدور کو اس کی پوری مزدوری بروقت دینا اصل مالی عبادت ہے۔

خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام نے کہا کہ آج بدترین ملکی حالات اور اجتماعی مصائب و مشکلات کے دور میں ہمیں اجتماعی طور پر توبہ کر کے اپنے رب سے نافرمانی نہ کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں قدرتی آفات صرف ہمارے برے اعمال کا شاخسانہ ہیں۔ پاکستان ذہانت کے اعتبار سے دنیا کا عظیم ملک ہے مگر وہ ساری ذہات معاشرے کی فلاح کی بجائے ملک و قوم کی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے اسے عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ دوسری جانب ہمارے اعمال اللہ سے ناراضگی کا باعث بن رہے ہیں۔ آج ہمیں ستائیسویں شب کے اس مبارک موقع پر اللہ کے حضور اجتماعی توبہ کر نا ہوگی اور اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا۔

شیخ الاسلام نے خطاب کے آخر میں گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رپورٹ بھی پیش کی۔ آپ نے بتایا کہ ماہ اگست میں پڑھے جانے والے درود پاک کی تعداد 82 کروڑ 29 لاکھ 61 ہزار اور 23 ہے۔ آپ نے بتایا کہ گوشہ درود کے اب تک پڑھے جانے والے کل درود پاک کی تعداد 8 ارب 28 کروڑ 73 لاکھ 36 ہزار اور 490 ہو گئی ہے۔

ستائیسویں شب کے خصوصی پروگرام اور ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اختتام شیخ الاسلام کی رقت آمیز دعا سے ہوا۔ پروگرام کے بعد تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کے لیے سحری کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

ختم قرآن کا پروگرام

دریں اثناء تحریک منہاج القرآن کی مرکزی جامع مسجد منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن میں 6 ستمبر 2010ء کو ختم قرآن پاک کی خصوصی محفل بھی منعقد ہوئی۔ نماز تروایح میں ختم قرآن پاک کے بعد شب پونے دس بجے پروگرام شروع ہوا۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد قاری عنصر علی قادری، امجد بلالی برادران اور دیگر ثناء خواں حضرات نے ثناء خوانی کی۔

پروگرام میں منہاج القرآن علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ فرحت حسین شاہ نے شب قدر کے موضوع پر مختصر خطاب بھی کیا۔ اس کے بعد بشیر خان لودھی نے محفل ذکر منعقد کی۔ پروگرام میں ختم قرآن مکمل کرنے پر قاری اللہ بخش نقشبندی سمیت دیگر حفاظ قراء کو خصوصی تحائف بھی پیش کیے گئے۔ آخر میں علامہ فرحت حسین شاہ نے خصوصی دعا کرائی۔

(رپورٹ: ایم ایس پاکستانی)

تبصرہ

Top