صوفیاء نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے چراغ جلائے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری

جو ملک کے آئین کو نہیں مانتے، آج حب الوطنی کے دعویدار بن گئے ہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا
لپ سروس سے کام نہیں چلے گا، فتنوں کے دور میں سلاسل تصوف کو قوم کی رہنمائی کا عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ احمد علی سلطان
بزم قادریہ کے زیراہتمام ’’سیدنا الشیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی تعلیمات امن و محبت‘‘ سیمینار سے مقررین کا خطاب

تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا ہے کہ تعلیمات صوفیاء کو ہم نے نظر انداز کر رکھا ہے اسی لیے ہم ہدایت کے راستوں سے بھٹک رہے ہیں۔ صوفیاء کی تعلیمات ہمیں گمراہی سے بچا سکتی ہیں۔ یہ صوفیاء کی تعلیمات ہی تو ہیں جنہوں نے ہر دور میں مسلمانوں کی مدد و رہنمائی کی ہے۔ صوفیاء کرام نے صبر، شکر، توکل، اللہ کی رضا اور خدمت خلق کی عظیم مثالیں قائم کیں۔ صوفیاء ہی تو امن کے سفیر ہیں اسی لیے تو اولیاء اللہ کی لوگوں کے دلوں پر حکمرانی ہے۔ دہشت گرد سیدنا عبد القادری جیلانی اور دیگر بزرگان دین کی تعلیمات سے نہ صرف دور ہیں بلکہ تعلیمات صوفیاء کے اصل دشمن بھی ہیں۔ بزرگان دین نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے چراغ جلائے۔

وہ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں بزم قادریہ کے زیراہتمام ’’سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی تعلیمات امن و محبت‘‘ کے عنوان سے ایک پروقار سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار کی صدارت گولڑہ شریف کے سجادہ نشین سید مہر فرید الحق گیلانی نے کی۔ جبکہ چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا، صاحبزادہ سلطان احمد علی، صاحبزاہ محب النبی طاہر، پیر محمد علی رضا بخاری، پیر نفیس الحسن بخاری، حسیب الرحمن شاہ، محمد عطا اللہ شاہ گیلانی، وسیم الحق قادری، صاحبزادہ مخدوم ندیم احمد ہاشمی، علامہ غازی محمد کمال، علامہ عبد الہادی قادری، خرم نواز گنڈا پور، فیض الرحمن درانی، شہزاد رسول، سید فرحت حسین، علامہ محمد حسین آزاد، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ علوی و دیگر جید علماء و مشائخ کی کثیر تعداد موجود تھی۔

ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ آج کی طریقت و شریعت کا تقاضا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا الشیخ عبد القادر جیلانی جیسی ہستیوں کو اپنا منبع اور رول ماڈل بنایا جائے۔ سب کو متحد و متفق ہو کر اور آپس میں تفریق کے سوالات کو ختم کر کے اصل قرار و چین اور غریب کے چہرے کی مسکراہٹ واپس لوٹانا ہے۔ اس کیلئے علماء و مشائخ کو تحریک پاکستان والا کردار دہرانا ہو گا۔ حجروں اور خانقاہوں سے باہر نکل کر رسم شبیری ادا کرنا ہو گی۔ تحریک منہاج القرآن دلوں کو توڑنے والی نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمات صوفیاء میں عکس مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صوفیاء کرام نے ہمیشہ لٹیرے اور کرپٹ حکمرانوں کے خلاف عملی جہاد کیا ہے۔ تعلیمات صوفیاء ہی دین اسلام کی اصل ہے۔ معاشرے کے امن کی بحالی کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بزرگان دین سے اپنی ذات کی نسبت کو پختہ کیا جائے۔ عاجزی، انکساری سے معاشرے میں محبت کی خوشبو پھیلے گی۔ جس دل میں محبت کا سمندر موجزن ہو جائے اس جسم سے سلامتی اور محبت کے رویے ہی جنم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا عفریت متوسط طبقے کو بھی غربت کی لکیر تک کھینچ لایا ہے۔ اگلی نسلوں کو خوشحال اور باوقار مستقبل دینے کیلئے ظالمانہ نظام انتخاب کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا اور اس کیلئے انقلاب ہی واحد آپشن ہے۔

چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ملکی سالمیت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں وہ نہیں رہیں گے۔ نئی نسل کو فکری رہنمائی دینا اور جذبہ حب الوطنی بیدار رکھنے کے عمل کو جاری رکھنا مذہبی و سیاسی قیادت کے فرائض میں شامل ہے۔ مگر افسوس اس میں شعوری کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ رہنمائی دینے والے سیاسی اکھاڑے میں اتر کر داؤ پیچ لگانے میں مگن ہیں۔ دین مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی خادم اور ورکر وہ ہے جو حالات اور واقعات اور زمانے کے تغیرات سے متاثر نہ ہو بلکہ ہر طرح کے حالات میں اپنی منزل کی جانب گامزن رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ انتشار و افتراق نے مسلمانوں کی یکجہتی میں دراڑیں ڈال دیں ہیں۔ قوموں اور گروہوں میں بٹ کر امت کی سوچ دفاعی ہو گئی ہے۔ جن لوگوں نے قائد اعظم کو کافر اعظم کہا آج ان کے وارثان پاکستان کے ٹھیکیدار بن چکے ہیں۔ جن لوگوں نے اس ملک کو بنانے کیلئے جان و مال کی قربانی دی آج انکے بچے دربدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزرگان دین نے موجودہ دور کے فعال میڈیا کی عدم موجودگی میں بھی اپنے کردار سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تبدیل کر دیں لیکن آج منبر و محراب کے وارثان بے عمل ہو چکے ہیں اور امت کی رہنمائی کا حق ادا نہیں کر پا رہے۔ ہمارا خانقاہی نظام اختلافات کا شکار ہو چکا۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مقلد کہلانے کا حقدار وہ ہے جو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اسلام کے نام پر پولیو ورکروں کا قتل عام ہو رہا ہے، علماء کو شہید کیا جارہا ہے، اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہوں رہے ہیں، مزارات کو مسمار کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے گھمبیر حالات میں اگر ہم گھروں میں بیٹھے رہے تو ہم ہی مجرم ہوں گے۔ عوام اور اہلسنت کے اکابرین کو فکر کرنا ہو گی کہ کالعدم جماعتیں اس ملک میں محب وطن بنی بیٹھی ہیں۔ جو اس ملک کے آئین کو نہیں مانتے، جو ملک کی نیشنل سیکیورٹی پالیسی کو نہیں مانتے وہ آج حب الوطنی کے دعویدار بن گئے ہیں۔ نظام مصطفی کے نام پر ہم لوگوں کو صرف اسلام میں موجود سزائیں ہی بتاتے رہے اور اسلامی معاشی نظام نہ دے سکے۔ یہ خطہ ارضی ہم نے کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا تھا اور یہ ملک قیامت تک قائم رہے گا۔

چیئرمین تنظیم العارفین صاحبزادہ احمد علی سلطان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور غوث الاعظم کا پیغام امن، محبت، استحکام اور انسانیت کا پیغام ہے۔ جب ہم حضور غوث پاک کی حیات مبارکہ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کا بھی خیال کرنا چاہیے۔ اہل تصوف کو فکر اقبال سے کوئی اختلاف نہیں۔ آج علامہ اقبال کے پیغام تصوف کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اب لپ سروس سے کام نہیں چلے گا، فتنوں کے اس دور میں سلاسل تصوف کو قوم کی رہنمائی کا عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ سیمینار سے طاہر حمید تنولی، پیر طریقت محب النبی طاہر، پیر طریقت علی رضا بخاری اور پیر جلیل احمد شرقپوری نے بھی خطاب کیا۔

تبصرہ

Top