حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن کا پیکر جمیل تھے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری

مورخہ: 23 جون 2017ء

شہر اعتکاف : خطاب شیخ الاسلام

23 جون 2017ء

موضوع: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلق کی عملی تصویر (حسن اخلاق)

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جیسے خلق میں کائنات کا حسین ترین پیکر بنایا، ویسے ہی حسن و جمال میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عظیم پیکر بنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن کا پیکر جمیل تھے۔ دنیا میں آپ کے ذریعے ہر قسم کے حسن کی تقسیم ہوئی ہے۔

حسن سراپا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن سراپا کو امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ امام حسن محتبیٰ یہ روایت اپنے ماموں (سیدہ فاطمہ الزہرا کے بھائی ہند بن ابی حالہ) سے روایت کرتے ہیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی پہلی اولاد میں سے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ آقا علیہ السلام اپنی ذات میں سب سے حسین تھے۔ آپ کا چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ آپ کا رنگ مبارک ایسا چمکدار تھا، جیسے سونا اور چاندی ملا ہوا ہو۔ آپ کا قد مبارک ایسا میانہ تھا کہ درمیانہ سے کچھ نکلا ہوا اور پستہ سے اونچا تھا۔ یعنی دراز قد سے کچھ کم تھے، لیکن جب آپ دراز قد لوگوں میں چلتے لیکن ان سے اونچے لگتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا۔ موئے مبارک سیدھے تھے اور تھوڑی سی بل دار تھی، جب سر کے بالوں کو جوڑتے تو کنگھا استعمال کیے بغیر خود مانگ نکل آتی تھی۔ حضور خود مانگ نہیں نکالتے تھے، لیکن مانگ ازخود نکل آتی۔ پھر آپ اسے ختم نہیں کرتے تھے۔ آپ کی پیشانی مبارک فراغ تھی اور آپ کے آبرو مبارک خم دار تھے، جڑے ہوئے نہیں تھے۔ بینی مبارک مناسب توازن مبارک کیساتھ ابھری ہوئی تھی۔ اس سے ایک چمک نکلتی تھی۔ آپ کی آنکھوں کی پتلی مبارک سیاہ تھی۔ آپ کا دہن مبارک اعتدال کے ساتھ فراغ تھا۔ آپ کے دندان مبارک موتیوں کی طرح چمکدار تھا۔ دانتوں میں فاصلہ نہ تھا اور بالکل جڑے ہوئے بھی نہیں تھے۔

آپ کی گردن مبارک خوبصورت ایسی تھی کہ جیسے چاندی جیسی ہو۔ آپ کے بدن مبارک کی جسامت میں اعتدال تھا، نہ پتلے اور نہ موٹے تھے۔ جسم اطہر گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ سینہ مبارک اور شکم مبارک ہموار تھا، سینہ تھوڑا سا ابھرا ہوا تھا۔ آپ کے جتنے جوڑ تھے، وہ ایک معقول توازن کے ساتھ مضبوط تھے۔ آپ کا جسم اطہر اتنا نورانی تھا کہ آنکھیں نہیں ٹکتی تھی۔ بازو مبارک پر زیادہ بال نہ تھا، ہتھیلیاں فراغ تھیں، کلائیاں دراز تھیں، انگلیاں لمبی تھی۔ اعصاب برابر تھے۔ پاوں کے تلوے گہرے تھے، جب چلتے تو سارے تلوے زمین پر نہ لگتے اور تھوڑی سی اونچائی تھی۔ جب چلتے تو ایسا لگتا کہ بلندی سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔

اخلاق مبارک

جب کوئی شخص کھڑا ہوتا تو جسم اطہر کو اس طرف موڑ لیتے، پہلے اس کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر مصافحہ فرماتے۔ جس کو بھی دیکھتے سیدھا ہو کر دیکھتے اور کسی کو سائیڈ سے نہ دیکھتے۔ عام طور پر اپنی نگاہیں نیچی رکھتے۔ جب چلتے تو صحابہ کرام کو آگے آگے چلنے کی ترغیب دیتے۔ چھوٹا ہو یا کوئی بڑا، جس سے بھی حضور ملتے تو سلام کرنے میں خود ابتداء فرماتے۔

فکر مصطفیٰ

امام حسن مجتبیٰ نے روایت کیا کہ آپ کی گفتگو میں ہمیشہ آخرت کی فکر، امت کی فکر، غریبوں کی فکر، یتیموں کی فکر، کمزوروں کی فکر، بیواووں کی فکر ہوتی اور اللہ کا دھیان ہوتا، آخرت کا دھیان ہوتا۔ آپ کا کلام ہمیشہ ضرورت پر مبنی ہوتا۔ آپ کی زندگی کا بے فکر کوئی لمحہ نہیں ہوتا۔ جہاں بولنے کی ضرورت نہ ہوتی تو وہاں آپ طویل خاموشی اختیار فرماتے اور دوسروں کو سنتے۔ آپ کی گفتگو میں ابہام، الجھاو نہیں ہوتا تھا، اس میں بہت واضحیت ہوتی، سننے والے کو آپ کی بات بالکل صاف صاف سمجھ میں آ جاتی۔ آپ کے کلام میں کوئی تنگی اور زیادتی بھی نہ ہوتی۔

مزاج مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزاج اقدس میں نرمی تھی۔ جب آپ گفتگو فرماتے تو کسی کی توہین نہیں فرماتے تھے۔ آپ کے مزاج کا یہ حصہ تھا کہ اللہ کی کوئی نعمت تھوڑی سی بھی ہوتی تو اس نعمت کی تعظیم فرماتے۔ کسی نعمت کی آپ مذمت نہ کرتے تھے۔ آپ کی طبعیت مبارکہ کا ایک پہلو یہ بھی کہ ہمیشہ حق بات کہتے اور ہر کسی کو حق بات کہنے کی تلقین کرتے۔ اگر کوئی شخص حق بات نہ کرتا تو اس کو تلقین فرماتے اور غصہ فرماتے۔ کسی ظلم پر ہوا تو ظالم پر غصہ فرماتے، کسی پر جبر ہوا تو غصہ فرماتے۔ لیکن آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کبھی غصہ نہیں فرمایا۔

گفتگو مبارک

جب آپ گفتگو کرتے تو ہاتھوں سے اشارہ بھی فرماتے تاکہ اگلہ بندہ سمجھ جائے۔ جب کسی امر پر تعجب فرماتے تو ہاتھوں کے اشارے سے بھی تعجب کا اظہار کرتے۔ اگر کوئی شخص غلط بات کرتا جو آپ کو ناپسند ہوتی تو اس سے چہرہ مبارک دوسری طرف فرما لیتے، پھر بھی وہ نہ رکتا تو اس مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے لیکن اس بندے کی توہین اور اہانت نہ کرتے۔ جب کوئی خوشی ہوتی تو اپنا چہرہ مبارک نیچے فرما کر مسکرا دیتے۔ حضور نے کبھی قہقہ نہیں لگایا، ہمیشہ تبسم فرماتے، جس سے آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوتے تو ان سے موتیوں کی طرح نور چمکتا تھا۔

گھر کے اندر برتاو

امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے بابا علی المرتضیٰ علیہ السلام سے پوچھتے کہ ہمیں بتائیں کہ جب بابا جان گھر کے اندر ہوتے تو آپ گھر کے اوقات کس طرح تقسیم کرتے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ اپنے اوقات کو تین اوقات میں تقسیم کرتے۔ ایک حصہ نماز اور اللہ کی عبادت کے لیے، دوسرا حصہ ازواج کے لیے اور فیملی بچوں کیساتھ وقت گزارتے اور تیسرا حصہ آرام فرماتے۔ حضور اپنے آرام کے حصہ سے بھی صحابہ کو بھی وقت دیتے۔

جن خاص صحابہ کرام سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشاورت کرنی ہوتی، انہیں ہدایات جاری کرنی ہوتی، تربیت اور نصحیت کرنی ہوتی تو آپ اپنے ذاتی آرام کے حصہ میں انہیں اپنے گھر بلا کر ان سے ملاقات کرتے۔ پھر حضور جن کو گھر بلاتے تو اس کے علم میں اضافہ کر کے واپس بھیجتے تو ساتھ اس کو کچھ نہ کچھ کھلا کر یا پلا کر اسے واپس بھیجتے۔ خالی نہ بھیجتے۔

گھر کے باہر برتاو

جب حضور گھر سے باہر تشریف فرما ہوتے تو لوگوں سے برتاو کیسا ہوتا، اس وقت آپ کا عالم یہ تھا کہ آپ لوگوں سے کوئی بے مقصد بے معنی بات نہ کرتے۔ آپ لوگوں کے دلوں کو جوڑتے تھے۔ آپ لوگوں کو پھوڑتے اور جھگڑا نہیں کرواتے تھے۔ ایک دوسرے سے دور ہونے والوں کو قریب کر دیتے۔ غیر مسلم قبائل کے بھی لوگ آتے تو عزت والے کی عزت کرتے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک فرماتے۔اگر کسی میں کوئی شر ہوتا تو اس سے خود بھی بچتے اور صحابہ کو بھی شر سے بچنے کی تلقین کرتے۔ اسی طرح جو بندہ بھی آپ سے ملتا تو پہلے اس کے ذاتی حال احوال پوچھتے تا کہ وہ مانوس ہو اور پھر اگلی بات کرتے۔

معمولات میں اعتدال

سفر ہو یا حضر ہوتا تو آپ کے تمام معمولات میں اعتدال تھا۔ کسی جگہ بھی آپ کی طبعیت میں انتہاء پسندی نہ تھی۔ عبادات، معاملات، لوگوں کیساتھ آداب میں اعتدال اور اخلاق حسنہ کی ایک کامل و جامع تصویر ہوتے۔ اسی طرح آپ کی حیات طیبہ میں کمال کا ڈسلپن اور نظم ہوتا تھا۔ کہیں بھی غیر منظم زندگی نہ تھی۔ گفتگو سے لے کر اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، لوگوں کیساتھ برتاو، ہر جگہ نظم ہی نظم تھا۔

مجلس میں بیٹھتے تو ہر شخص پر توجہ فرماتے۔ ہر شخص یہ سمجھتا کہ میری طرف سب سے زیادہ توجہ ہے اور ہر کوئی یہ سمجھتا کہ مجھ سے بڑھ کر آپ کو کوئی اور عزیز نہیں۔ راستے میں اگر کوئی آپ کو ہاتھ سے پکڑ لیتا تو اس بندے کی ساری بات سن کر پھر چلتے، اتنی دیر تک اس کے پاس کھڑے ہو کر بات سنتے رہتے۔ گلی میں چلتے تو بچے مصافحہ کرنے لگ جاتے جب سارے بچوں کا مصافحہ ختم ہو جاتا تو پھر وہاں سے جاتے۔

حضور نہ کسی سے اونچی آواز میں بات کرتے نہ ہی کسی غیبت کرتے۔ اگر آپ کی طبعیت کے خلاف کوئی بات ہو جاتی تو دوسرے کے سامنے صرف نظر کر دیتے کہ جیسے اس کو پتہ ہی نہیں چلا ہو۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین چیزوں کو خود سے بچا رکھا تھا۔ مذمت نہ فرماتے، کسی کے عیب پر شرمندہ نہ کرتے اور کسی کا عیب تلاش بھی نہ کرتے، ہر بات پر پردہ ڈالتے۔ جو کلام کرتے تو سب اہل مجلس سر جھکا کر بیٹھ جاتے، جیسے ان کے سروں پرپرندے بیٹھے ہیں۔

ایوارڈ تقریب

شیخ الاسلام کے خطاب سے پہلے تحریک میں نمایاں خدمات سرانجام دینے پر قائدین و کارکنان اور مرکزی اسٹاف ممبرز میں ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔

مشن کے لیے شاندار خدمات پر ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈا پور، بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد اقبال، نائب ناظم اعلیٰ انجینئر نجم رفیق، نائب ناظم اعلیٰ رانا محمد ادریس، نائب ناظم اعلیٰ سردار شاکر مزاری، نائب ناظم اعلیٰ سردار احمد نواز انجم، محمد تنویر خان، مقدمہ انقلاب کے مدعی جواد حامد اور منہاج ویلفیئر فاونڈیشن کے ڈائریکٹر سید امجد علی شاہ کو بھی اعلیٰ خدمات پر ایوارڈ دیئے گئے۔

عرفان القرآن کا یونانی زبان میں ترجمعہ کرنے پر منہاج القرآن انٹرنیشنل یونان کی تنظیم کے عہدیداروں کو ایوارڈ دیا گیا۔

مرکزی سیکرٹریٹ میں سب سے پہلا سیکیورٹی گارڈ اور مرکزی اسٹاف میں سب سے سینئیر ممبر غلام محمد کو اکتیس سالہ خدمات پر تمغہ استقامت دیا گیا۔ محمد ارشد ملنگ کو مشن میں 29 سالہ خدمات پر تمغہ استقامت ملا۔ امیر تحریک مسکین فیض الرحمن درانی کیساتھ 20 سالہ خدمات سرانجام دینے پر محمد عارف طاہر، 23 سالہ خدمات پر محمد رئیس، ٹیلی فون ایکسچینج میں 24 سالہ خدمات پر ناصر حسین انجم اور مجلہ آفس کے محمد اشفاق انجم کو بھی تمغہ استقامت ملا۔ مرکزی اسٹاف ممبران میں دیگر افراد کو بھی تمغہ حسن کارکردگی دیئے گئے۔

تبصرہ

Top