شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تیسری اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب

لاہور: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے منہاج القرآن انٹرنیشنل سیکرٹریٹ پر منعقدہ اخلاقی و روحانی تربیتی مجالس ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کی تیسری نشست سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اصحابِ کہف کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ چند نوجوان ظلم و جبر سے بچنے کے لیے اللہ کی رضا کے لیے غار میں پناہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک کتا بھی ہوتا ہے جو غار کے دروازے پر پہرہ دیتا ہے۔ شیخ الاسلام نے اس واقعہ سے اخلاقی سبق اخذ کیا کہ نیک لوگوں کی صحبت انسان کی زندگی بدل سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نیک بندوں کی نسبت سے ہر مخلوق کو عزت اور مقام عطا فرماتا ہے۔
انہوں نے صوفیاء کرام، خصوصاً حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے پالتو جانور اپنے مالک کے ساتھ وفادار رہتا ہے، اسی طرح انسان کو اپنے رب اور نیک لوگوں کے ساتھ وفاداری اور اخلاص اختیار کرنا چاہیے۔ جانور بھی بعض اوقات اخلاقی رویے اختیار کرتے ہیں، مثال کے طور پر مردار کے پاس جمع ہونے والے جانور ایک دوسرے کے حق کا خیال رکھتے ہیں، اور انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے دوسروں کے حقوق اور اخلاقی ذمہ داریوں کا شعور رکھنا چاہیے۔
شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے صلۂ رحمی، رشتہ داروں کے حقوق اور معاشرتی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے محبت، رشتہ داروں کی مدد اور ان کی غلطیوں کو معاف کرنا انسان کی شخصیت کو سنورتا ہے اور معاشرتی برکت پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سچ بولنا، کمزوروں کی مدد، مہمان نوازی، نیکی میں تعاون اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا مسلمانوں کے لیے اخلاقی اصول ہیں۔
شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے انسان میں انا، خود پسندی، ریا کاری، حسد اور تکبر جیسے قلبی و ذہنی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان کا علاج حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت پر عمل، محاسبۂ نفس، عاجزی، اخلاص اور صالحین کی صحبت اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے میاں بیوی کے حقوق اور خوشگوار ازدواجی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی، اور کہا کہ شادی میں محبت، احترام، افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری بنیادی اصول ہیں۔
انہوں نے بچوں کی تربیت میں والدین کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ والدین کی محبت، شفقت اور اعلیٰ اخلاق خاندان میں صحت مند معاشرتی نظام قائم کرتے ہیں۔ شیخ الاسلام نے واضح کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاق، صلۂ رحمی، خدمتِ خلق، عاجزی اور اخلاص کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا انسان کی شخصیت کو سنورتا ہے اور معاشرہ بھی محبت، امن اور خیر خواہی کا گہوارہ بنتا ہے۔
























تبصرہ