مرکزی سیکرٹریٹ کے سٹاف کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے لیے ٹریننگ کورس

مورخہ: 05 اگست 2009ء

تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں سٹاف کی پیشہ ورانہ استعداد کار اور فنی صلاحتیوں کو مزید اجاگر کرنے کے لیے 3 روزہ ٹریننگ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کورس کا انعقاد تحریک منہاج القرآن کی مرکزی نظامت تربیت نے کیا۔ اس کورس میں اخلاقی و روحانی تربیت کے علاوہ کارکنان کی مختلف شعبوں میں تنظیمی و انتظامی استعداد کار کو مزید بہتر کرنے کی تربیت بھی شامل تھی۔ 3 سے 5 اگست 2009ء کو ہونے والے تربیتی کورس میں مرکزی قائدین، ناظمین، نائب ناظمین اور سربراہان شعبہ جات سمیت سیکرٹریٹ کے تمام سٹاف ممبران نے بھی شرکت کی۔ تین روزہ کورس کے ہر دن الگ موضوع پر نشست منعقد ہوئی جس کا باقاعدہ آغاز تلاوت اور نعت مبارکہ سے ہوا۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض عبدالرازق چودھری نے سر انجام دیئے۔

تربیتی کورس کا پہلا دن (3 اگست 2009ء)

تربیتی سیشن کی افتتاحی نشست کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ جس کے بعد خلیق عامر طاہر نے آقا علیہ الصلوۃ السلام کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ قائم مقام ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض نے ’’تربیتی نشستوں کے اغراض و مقاصد‘‘ پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ تجدید و احیائے دین کے عالمی مرکز پر کام کرنے والے افراد کی اخلاقی و روحانی تربیت کے ساتھ ان تربیتی نشستوں کا مقصد سٹاف کی فنی اور پیشہ وارانہ اور انتظامی پہلوؤں میں مزید بہتری پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے تمام ناظمین اور سربراہان شعبہ جات کو ہدایت کی کہ اپنے ماتحت کام کر نے والے افراد کی حاضری کو یقینی بنائیں۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے ممبر صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے ’’مرکز کے شعبہ جات میں تعاون کی اہمیت و عملی صورت‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص جس نظامت اور شعبہ کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے، اصل میں وہ خدمت دین کا عظیم فریضہ سرانجام دے رہا ہے اور کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی نظامت اور شعبہ کے لئے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ کہا کہ ہر شخص کا کام ہے کہ ایک دوسرے سے تعاون کرے چاہے وہ کسی نظامت میں ہے یا شعبہ میں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی سیکرٹریٹ کے اندرون شعبہ جات ٹیم ورک پر توجہ دیں، اس کے بغیر کام میں تیزی نہیں آ سکتی۔ پہلے دن کی نشت کا اختتام دعائے خیر سے ساتھ ہوا۔

دوسرا دن (4 اگست 2009ء)

تربیتی کورس میں دوسرے دن کی نشست کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا جس کے بعد نائب امیر تحریک بر یگیڈئیر (ر) اقبال احمد خان نے "نظم و ضبط کیوں ضروری ہے اور ہم خود کو نظم و ضبط کا عادی کیسے بنائیں؟" کے موضوع پر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کو ایک مخصوص نظم وضبط کے ساتھ چلا رہا ہے اور اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظم و ضبط کے بغیر ملک و قوم کی خدمت بہتر انداز میں نہیں کی جا سکتی۔

ان کے بعد امیر تحریک منہاج القرآن صاحبزادہ مسکین فیض الرحمان درانی نے ’’مرکز کے اثاثہ جات کے تحفظ ‘‘کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشنری ادارہ ہے۔ اس کے اثاثہ جات کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ادارے کی بہتری کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی وسائل پیدا کر کے خدمت دین کا فریضہ مزید بہتر انداز میں سر انجام دینا ہوگا۔

تیسرا دن (5 اگست 2009ء)

ٹریننگ سیریز کے تیسرے دن پروگرام کے روایتی آغاز کے بعد منہاج یونیورسٹی کے شعبہ الحدیث کے ڈین شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد معراج الاسلام نے خطاب کیا۔ انہوں نے ’’مثبت سوچ کو پروان کیسے چڑھائیں نیز غیبت، چغلی، بد گمانی اور خیانت کے ہماری ذات اور ماحول پر اثرات‘‘ کےاہم ترین موضوع پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصلاح کے عنوان سے، تبصرے کے عنوان سے اور حقیقت حال سے با خبر کرنے کے عنوان سے ہمارا موضوع گفتگو دوسرے کا کردار و عمل ہوتا ہے جو اسلام میں غیبت ہے۔ غیبت انسانی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرنے والی سب سے بڑی دشمن اور سماج قاتل برائی ہے۔ آج کی اس نشست میں ہمیں اپنے اندر اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ دینےکا عزم کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے شیخ الحدیث نے بخاری و مسلم شریف کی مختلف احادیث مبارکہ کے حوالے بھی پیش کئے۔ بخاری و مسلم شریف کی متفق علیہ حدیث مبارکہ بیان کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بے شک جب بندہ بات کرتا ہے اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ اچھی ہے یا نہیں تو وہ اس بات کی وجہ سے دوزخ میں اتنی گہرائی میں گر جاتا ہے کہ جتنا کہ جنت کے مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ اس لیے ہمیں ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہ سکیں۔

اختتامی نشست میں قائمقام ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض نے ’’مرکز کے ماحول کو مثالی بنانے کے عملی اقدامات‘‘ کے عنوان پر لیکچر دیا۔ انہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ کے ماحول کی بہتری کے لیے تجاویز و احکامات پر مشتمل ایک متفقہ قرار دادا پیش کی، جس کی تمام قائدین و سٹاف ممبران نے ہاتھ اٹھا کر تائید کی۔ سٹاف و کارکنان نے حلفاً یہ عہد کیا کہ آئندہ سے ضابطہ اخلاق اور قرار داد کی پاسداری کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کے ماحول کو مثالی بنائیں گے۔

قرارداد درج ذیل نکات پر مشتمل تھی۔

  1. مرکزی سیکرٹریٹ کا ہر سٹاف ممبر اور کارکن ہمہ وقت باوضو رہے گا۔
  2. ہر سٹاف ممبر کام کے آغاز سے قبل ایک رکوع تلاوت قرآن کرے گا۔ یہ تلاوت وہ نماز فجر کے بعد گھر سے کرکے آئے بصورت دیگر آفس میں کام کے آغاز سے قبل کرے گا۔
  3. ہر کارکن نماز باجماعت مسجد میں ادا کرے گا۔
  4. ہر شخص روزانہ ایک تسبیح درود پاک، استغفار اور کلمہ طیبہ پڑھنے کی کوشش کرے گا۔
  5. کوئی بھی شخص کسی بھی سطح پر غیبت، چغلی، بدگمانی، وسوسہ اور کردار کشی نہیں کرے گا۔
  6. سیکرٹریٹ کے نظم و نسق کی پابندی کی جائے گی۔ سینئر اپنے جونیئرز پر شفقت کریں گے جبکہ سینئرز کو عزت دینا ہر جونئیر پر لازم ہوگا۔
  7. اسمبلی اور آفس میں بر وقت حاضری، آفسز کی صفائی کا خیال اور جملہ دفتری امور ایمانداری سے سرانجام دیئے جائیں گے۔
  8. دفتری اثاثہ جات، گاڑیوں، بجلی اور فون کا بے جا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
  9. ادارے میں ہر شعبہ دوسرے شعبے سے بھر پور تعاون کرے گا۔ تمام شعبہ جات کے مابین عدم تعاون برداشت نہیں کیا جائے گا۔
  10. شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے قول ’’اللہ سے معاملہ کرو تو مخلوق کو درمیان سے نکال دو۔ جب مخلوق سے معاملہ کرو تو نفس کو درمیان سے نکال دو‘‘ پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔

کیمپ کے اختتام پر مرکزی ناظم تربیت ڈاکٹر تنویر اعظم سندھو نے تمام شرکاء کاخصوصی شکریہ ادا کیا۔ لیکچرز ٹریننگ سیریز میں کوآرڈنیشن کے فرائض علامہ غلام مرتضی علوی اور قمر جاوید ملک نے ادا کیے۔ 3 روزہ کیمپ کا باقاعدہ اختتام دعائے خیر سے ہوا۔

تبصرہ

Top