منہاج ماڈل سکول چونڈا تحصیل پسرور کی افتتاحی تقریب

مورخہ: 22 مئی 2011ء

22 مئی 2011 ء کو منہاج ماڈل سکول چونڈا تحصیل پسرور کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت ناظم تعلیمات منہاج ایجوکیشن سوسائٹی محمد شاہد لطیف نے کی جبکہ سید اختر حسین رضوی (سابق صوبائی وزیر) مہمان خصوصی تھے۔ سکول کا افتتاح ناظم تعلیمات محمد شاہد لطیف نے کیا۔ سکول کے قیام کا مقصد تحصیل چونڈا اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والے افراد کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور بعد ازاں نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کی گئی۔ تقریب میں اہل علاقہ کے علاوہ سکول میں زیرتعلیم طلبہ کے والدین نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا۔ پروگرام میں سکول کے طلبہ نے عصر حاضر کے مسائل اور اسلام دین امن و سلامتی کے حوالے سے خوبصورت ڈرامہ پیش کیا گیا، جس میں مسلمانوں پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے لیبل کو مضمون بنایا گیا تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناظم تعلیمات نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ملک کو مختلف مسائل کا سامنا بھی ہے۔ ان مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ علمی فقدان کا بھی ہے۔ حکومت معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، آنے والی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت معاشرے کو تعلیم دینے کے لئے کالجز اور سکول تو چلا رہی ہے مگر ان اداروں کا نظام تعلیم اور معیار تعلیم پرائیویٹ سیکٹر کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عامۃ الناس ہردور میں علم کی پیاس بجھانے کے لئے حکومت کی طرف سے کیے جانے والے تعلیمی اقدامات کی متلاشی رہی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں لوگ اعلیٰ سکولز اور کالجز کی فیس ادا نہیں کر سکتے۔ اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں علم حاصل کرنے کے لئے بھیجا جائے جہاں فیس کم اور نظام تعلیم اعلیٰ معیار کا حامل ہو۔ بلاشک و شبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے معاشرے کو کم فیس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک عظیم نیٹ ورک منہاج ایجوکیشن سوسائٹی دیا ہے۔ جس کی زیر نگرانی ملک بھر میں 630 سے زائد ادارے علم کے نور سے ملک و قوم کو روشن اور منور کر رہے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی فیلڈ میں نئے ادارے قائم کر رہی ہے جن کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔

آخر پر ناظم تعلیمات محمد شاہد لطیف نے کہا کہ علم کی لگن میں مقصدیت کا فقدان علم کو کامل نہیں بناتا بلکہ وہ تو صرف Information بن کر رہ جاتا ہے۔ علم کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ  وہ علم جو تعلیم کے ساتھ شعور کو بیدار کر ے اور انسان کو اعلی اخلاق کا مالک بنائے۔ نافع علم وہی ہے جو انسان کو جہالت کے گڑھوں سے نکال کر با اخلاق اور با وقار انسان بناتا ہے۔ جس کی وجہ انسان کو حیوانوں پر برتری اور فضلیت حاصل ہوتی ہے۔ پھر اگر انسان اسی نافع علم کو تھامے رکھے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ انسان معاشرے میں موجود افراد کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن جاتاہے۔

سید اختر حسین رضوی صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اس نظام تعلیم کو خوب سراہا اور کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری لوگوں کو علم کے شہر میں داخل کر رہے ہیں۔ جو علم کے اس شہر سے فیض لیتے ہیں وہی لوگ قوم کے مقدر کو سنوار سکتے ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے فیض سے جدید علوم کے ساتھ ساتھ روحانی فیض بھی ملتا ہے۔ انقلاب فوری نہیں آ جاتا بلکہ اس کے لئے بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ جیسے قطرہ قطرہ مل کر سمندر بنتا ہے اسی طرح مختلف افراد مل کر ایک قافلہ بناتے ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا یہ قافلہ میدان میں جدوجہد کر رہا ہے۔ ان شاء اللہ ایک وقت آئیگا کہ یہ قافلہ لوگوں کی اقدار کو بدل ڈالے گا۔

تقریب کا اختتام دعائے خیر سے ہوا۔

تبصرہ

Top