منہاج پیس اینڈ اینٹی گریشن کونسل یونان کے زیر اہتمام یوم پاکستان کی پر وقار تقریب

مورخہ: 27 مارچ 2011ء

منہاج پیس اینڈ اینٹی گریشن کونسل یونان کے زیر اہتمام مورخہ 27 مارچ 2011 بروز اتوار شام 6 بجے منہاج القرآن کمیونٹی سنٹر ریندی میں یوم پاکستان سیمینار کی پر وقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں منہاج القرآن یونان کے عہدیداران کے علاوہ یونان بھر کی سیاسی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ منہاج القرآن یونان کے امیر علامہ شہباز احمد صدیقی، صدر مجلس شوریٰ حاجی شفیق اعوان، منہاج القرآن کے صدر جاوید اقبال اعوان، صدر MPIC یونان غلام مرتضی قادری اور جنرل سیکرٹری سید جمیل شاہ نے خصوصی شرکت کی۔ سیمینار میں نقابت کے فرائض زیب الحسن قادری نے ادا کئے۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز علامہ محمد نواز ہزاروی (ڈائریکٹر منہاج القرآن سنٹر ریندی) نے تلاوت کلام مجید سے کیا، سجاد حسین قادری اور عکاشہ امجد نے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔ پاکستان کا قومی ترانہ پیش کرنے کے بعد مرزا محمد امجد جان نے 23 مارچ کے حوالہ سے علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار نظم کی صورت میں پیش کئے۔ چودھری محمد اسلم اور باقر چغتائی نے اپنی بچیوں کے ساتھ ملی نغمے پیش کئے۔ وینس ٹی وی کی طرف سے الحاج بشیر شاد، ہفت روزہ آواز انٹرنیشنل کی طرف سے طلعت جعفری، اجالا نیوز کی طرف سے سکندر ریاض چوہان اور ہفت روزہ دیس پردیس انٹرنیشنل کی طرف سے احسان اللہ نے یوم پاکستان کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مہر جاوید اسلم آرائیں صدر پاکستان کمیونٹی، منہاج القرآن یونان کے صدر جاوید اقبال اعوان اور امیر تحریک علامہ شہباز احمد صدیقی نے بھی یوم پاکستان کے موضوع پر پرمغز گفتگو کی۔

منہاج پیس اینڈ اینٹی گریشن کونسل یونان کے صدر غلام مرتضی قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی لانے کے لئے باصلاحیت لیڈر کے ساتھ عوامی تائید اور شعور کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اکیلا لیڈر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے کانگریس میں سات سال کا عرصہ گذارہ، اس وقت پارٹی میں گاندھی جیسے لیڈر بھی موجود تھے لیکن یہ لیڈر مل کر آزادی نہ دلا سکے۔ 1913 میں جب قائد اعظم نے صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو یہاں لیڈر شپ کے ساتھ عوامی تائید اور شعوری جذبات ملے اور یوں 34 سال کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد کہیں جاکر پاکستان معرض وجود میں آیا۔

آج کے دور میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شکل میں لیڈر شپ موجود ہے، آج بھی ہم اگر تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ہمیں عوامی شعور وجذبات کو پیدا کر کے ان کا بھر پور ساتھ دیتے ہوئے ایک پرچم کے نیچے جمع ہونا ہوگا۔ آخر میں امیر تحریک یونان علامہ شہباز احمد صدیقی نے پاکستان کی سلامتی وبقاء اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی صحت وتندرستی کے لئے خصوصی دعا کرائی۔ سیمینار کے اختتام پر مہمانوں کو لنگر پیش کیا گیا۔

رپورٹ: نوید سحر

تبصرہ

Top