منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کا وارک یونیورسٹی میں دہشت گردی کے خلاف 'سمر کیمپ 2010ء'

مورخہ: 09 اگست 2010ء
News Coverage TV Coverage Web Links Download PDF - Fatwa

منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کے زیراہتمام 7 اگست 2010ء کو وارک یونیورسٹی میں دہشت گردی کے خلاف پہلے "سمر کیمپ 2010ء" کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کیمپ کی صدارت کی اور شرکاء سے خصوصی خطاب کیا۔ افتتاحی تقریب میں برطانیہ اور یورپ بھر کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں سے 1300 نوجوانوں نے رجسٹریشن کرائی، جس کے لیے ہر نوجوان نے وارک یونیورسٹی کے اخراجا ت کی مد میں 200 پاؤنڈ ادا کئے۔ عالم اسلام کے نامور سکالرز کے علاوہ برطانیہ سمیت دنیا بھر سے میڈیا کے نمائندگان بھی سمر کیمپ میں موجود تھے۔

تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افتتاحی سیشن کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف "سمر کیمپ 2010ء" پر تعارفی سیشن ہوا۔

سمر کیمپ میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے "الھدایۃ کیمپ 2010ء" کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وارک یونیورسٹی میں سہ روزہ کیمپ کا انعقاد مسلمان نوجوان نسل کے اندر مذہبی بیداری، دین اسلام کی اصل تعلیمات اور جہاد کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے اسباب کو دور کرنا ہے، اس کے علاوہ یہ کیمپ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انتہاء پسند گروپوں کا علمی و روحانی سطح پر مقابلہ کرکے خود کو اور دیگر مسلمانوں کو دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے بچانے کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسلام کو شرپسندوں اور انتہاء پسندوں نے اغواء کر لیا ہے لیکن ہم مسلمان نوجوانوں کو اسلام کی علمی و روحانی تعلیمات کے اسلحہ سے لیس کر کے ان ہائی جیکروں سے دین اسلام کو واپس لے کر دم لیں گے۔ آج ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنانے اور القاعدہ سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں اپنا تعلق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ القاعدہ اور دہشت گردی بیمار دماغوں کی آئینہ دار ہے، اب 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر جھنڈے لہرانے کے نعرے لگانے والوں کو اپنے خیالات تبدیل کرنا ہوں گے اور اپنی سوچوں کو اسلامی تعلیمات کے حقیقی رخ سے روشناس کرانا ہو گا، ان گمراہ طبقات کو اپنے پر امن ممالک میں جہاں مسلمانوں کو معاشرتی، مذہبی اور معاشی آزادیاں حاصل ہیں کو تہس نہس کرنے اور ان کی آزادیوں کو سلب کروانے کی کوششوں اور اقدامات کو فوری روکنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اکثر اسلامی ممالک کی نسبت برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کو آئینی و قانونی طور پر زیادہ مذہبی آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل دہشت گردی کے خلاف فتوی کے اجراء کے بعد بعض ناقدین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید یہ کام ہم نے کسی حکومت یا ایجنسی کے سپانسر کرنے پر کیا ہے، ہم انہیں واضح کر دیں کہ طاہرالقادری کا سپانسر اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ کسی کی جرات نہیں کہ وہ طاہر القادری کو خرید سکے، اگر دنیا کی کسی حکومت یا ایجنسی کے پاس ایک پائی کا بھی ثبوت موجود ہے تو وہ سامنے لائے، طاہر القادری اس کی سزا کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بکتے ہیں وہ سر اٹھا کے یا سینہ تان کے نہیں بولتے بلکہ ان کو اپنی جان سے پیار ہوتا ہے جبکہ طاہر القادری یہ کام احکام الٰہی کے مطابق انسانیت کی خدمت کے لئے کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منہاج القرآن دہشت گردی کے خلاف فتویٰ کے اجراء کے بعد اب تک خاموش نہیں بیٹھی بلکہ محض بیان بازی اور نعرہ بازی کی بجائے عملی طور پر سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کر کے اس برائی کے خاتمہ کی تدابیر پر عمل پیرا ہے اور آج کا یہ سہ روزہ کیمپ اس سفر کی ایک منزل ہے، یہاں نوجوانوں کو علمی و روحانی تربیت د ی جائے گی تاکہ وہ خارجی نظریہ کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو سکیں۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ کیمپ میں شریک نوجوانوں کا مقصد خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انتہاء پسند یا گمراہ لوگوں سے علمی سطح پر مقابلہ کر کے خود کو بچانا ہے۔ ان نوجوانوں کے ذریعے ہی ہمیں اسلام کی اصلیت کی جانب واپس آنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پوری ذمہ داری سے بتا رہے ہیں کہ برطانیہ دارالحرب (جنگ کا گھر) نہیں بلکہ دارالامن (سکون کا گھر) ہے جہاں ہر رنگ ونسل اور مذہب کے پیروکاروں کو اپنے سکول، عبادت گاہیں حتٰی کہ دینی ٹی وی چینل تک کھولنے کی آزادی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کیمپ نوجوانوں کو جہاد کی اصلیت کے ساتھ ساتھ اس غلط نظریہ اور خارجی فتنہ سے بھی آگاہ کرے گا۔

شیخ الاسلام کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروپ بعض ممالک کی خارجہ پالیسیوں اور بعض اسلامی ممالک کے غلط رویوں کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں۔ بعد ازاں مختلف مراحل سے گزار کر ان نوجوانوں کو دہشت گردی کی بند گلی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ عالمی طاقتیں تاحال اس کینسر کا علاج کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ اس بیماری کے بنیادی وائرس کی صحیح تشخیص نہ کرنا ہے۔ اگر وائرس کا ابتدائی سطح پر علاج کر لیا جائے تو کینسر تک پہنچنے کی نوبت سے بچا جا سکتا ہے۔ آپ نے کہا کہ مسلم نوجوان یہ جان لیں کہ حکومت وقت کے بغیر کسی تنظیم یا گروپ کو جہاد کا اعلان کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ جو ایسا کرے گا تو وہ فساد ہو سکتا ہے جہاد ہرگز نہیں، بہرحال جمہوری طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے جلسے جلوس اور مظاہرے کرنا ان کا جمہوری حق ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ ملک اور دین دو الگ الگ چیزیں ہیں جو ایک دوسرے سے مشروط نہیں ہو سکتے، اگر آپ پاکستانی ہوتے ہوئے مسلمان رہ سکتے ہیں تو برطانوی ہوتے ہوئے مسلمان کیوں نہیں رہ سکتے، خود کو انتہاء پسندی سے نکال کر مقامی دیگر کمیونٹی کے ساتھ روابط و تعلقات کو فروغ دیں، اپنی زبان، ثقافت اور مذہب پر قائم رہتے ہوئے مقامی معاشرہ کا حصہ بنیں۔ نوجوانوں کو اسلام کے زریں اصولوں امن، محبت، سخاوت، برداشت اور انسانی تعلیمات و رشتوں کی پاسداری کو فروغ دے کر اپنے اسلامی تشخص کو پروان چڑھانے کی جدوجہد کرنی ہے جبکہ جنگ و جدل، نفرت، لڑائی، فساد اور زبردستی اسلام نافذ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ معاشرے میں رنگ ونسل، مختلف مذاہب اور انسانیت کے اتحاد کی بنیاد مل جل کر رہنا اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہیں۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ مغربی میڈیا کا کردار قابل تعریف ہے کہ اس نے چند ماہ قبل دہشت گردی کے خلاف فتویٰ کے اجراء کے بعد اپنی سوچ اور پالیسی میں تبدیلی لا کر امن پسند اکثریتی مسلمانوں کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے۔ اس اقدام سے دہشت گرد گروپوں اور انتہاء پسندوں کو سخت دھچکا لگا جبکہ اصلاح پسند نوجوان مسلمانوں کو مدد اور حوصلہ افزائی ملی۔

کیمپ کا اختتام دعائے خیر سے ہوا۔

رپورٹ: آفتاب بیگ

تبصرہ

Top