باہمی اختلافات بالائے طاق رکھ کر امت مسلمہ کو اتحاد اور بھائی چارے کی راہ اپنانا ہو گی، شیخ الاسلام کا تاجدار ختم نبوت کانفرنس سے خطاب

برمنگھم (یکم ستمبر)... شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مرکزی جماعت اہل سنت برطانیہ و یورپ کے زیراہتمام "عالمی تاجدار ختم نبوت و تحفظ مقام مصطفیٰ کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقتیں سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت اپنے تربیت یافتہ "القاعدہ اور طالبان" کو استعمال کر کے مسلم ممالک میں ایسی صورتحال پیدا کر رہی ہیں جہاں عالمی مداخلت کے مواقع میسر آسکیں، آئندہ دنوں میں شام میں ہونے والی کارروائیاں بھی اسی منصوبہ بندی کا تسلسل ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ شام کے خلاف جنگ بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ عراق، مصر اور شام میں کبھی بھی فرقہ وارانہ یا مسلکی اختلافات نہیں رہے اور اس مسئلہ کی بنیاد پر کبھی کھلی تشدد آمیز کارروائیاں نہیں ہوئیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض نامور اسلامی ممالک کی دولت اور اثر و رسوخ کو بھی ان مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو باہمی اختلافات بالائے طاق رکھ کر اتحاد اور بھائی چارے کی راہ اپنانا ہو گی ورنہ ایک ایک کر کے اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا مسلمانوں کے مسلکی و فرقہ وارانہ اختلافات کے خاتمہ کا واحد راستہ ایک نقطہ پر اجتماع ہے اور وہ نقطہ ارتکاز مقام محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکاری صاف صاف دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور قبر میں بھی یہی سوال سب سے اہم ہو گا کہ اے بندے تم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بارے کیا نظریہ اور رویہ اپنایا۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ امت مسلمہ کو درپیش تمام تر مسائل کا واحد حل شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں ہی ہے۔

کانفرنس سے مرکزی جماعت اہلسنت یوکے و یورپ کے سرپرست پیر عبدالقادر شاہ جیلانی نے پاکستان سے آن لائن خطاب کیا، دیگر مقررین میں پیر نقیب الرحمان، پیر عتیق الرحمان فیض پوری، علامہ احمد نثار بیگ قادری، قاضی عبدالعزیز چشتی، پروفیسر احمد حسن ترمذی، الشیخ محمّد افضل سعیدی، ابو احمد الشیرازی، صاحبزادہ احمد حسان نقیبی، ڈاکٹر نسیم احمد، پیر سید مظہر شاہ جیلانی، مولانا بوستان القادری، صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی، علامہ عبد الطیف قادری، مولانا محمّد یعقوب چشتی، میئر والتھم فاریسٹ کونسلر ندیم علی شامل تھے۔

مقررین نے ہاؤس آف کامنز لندن میں شام پر حملے کی قرارداد مسترد کرنے پر اراکین پارلیمنٹ کو سراہا ہے اور شام کے خلاف امریکی عزائم کی پر زور مذمت کی ہے۔

مرکزی جماعت کے رہنما علامہ احمد نثار بیگ نے کہا کہ امریکہ اس طرح پہلے عراق اور لیبیا پر جھوٹے اور غلط الزامات عائد کرکے دونوں ملکوں کو تباہ برباد کرچکا ہے اور عالمی برادری کو ملوث کرکے اپنے مذموم مقاصد پورے کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عراق میں نہ تو کہیں ”ویپن آف ماس ڈسٹرکشن“ موجود تھے اور نہ ہی وہ استعمال ہوئے، اس کے باوجود امریکہ نے اتحادی فوجوں کو ساتھ لے کر عراق پر چڑھائی کردی اور آج دنیا کا تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک بدترین اور تباہ کن حالات سے دوچار ہے۔

مرکزی جماعت کے سابق صدر علامہ سید احمد حسن ترمذی نے کہا کہ ہم سنی کانفرنس کے بڑے اجتماع میں مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان عراق، لیبیا اور دیگر تمام عرب ممالک میں امریکی مداخلت بند کی جائے اور تمام اسلامی ملکوں میں دہشت گردی انتہا پسندی اور بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک پرامن اور مل جل کر رہنے والی کمیونٹی ہے جو جیو اور جینے دو پر یقین رکھتی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے خلاف تمام منفی اور انتقامی کارروائیاں بند ہونی چاہئیں۔

مرکزی جماعت اہل سنت برطانیہ و یورپ کے صدر علامہ قاضی عبدالطیف قادری نے کانفرنس میں برطانیہ کی حکومت پر زور دیا کہ برطانوی حکومت "احمدیوں" کو مسلم کمیونٹی کا حصہ نہ سمجھے، بلکہ "احمدیوں" کو دیگر غیر مسلموں کے درجے میں رکھے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت برطانیہ چونکہ مذہبی رواداری اور باہمی احترام پر یقین رکھنے والی ریاست ہے اس لئے ہماری مملکت برطانیہ کے ارباب اقتدار سے درخواست ہے کہ وہ منکرین ختم نبوت کو مسلمانوں سے الگ شناخت کرے اور انہیں مسلمانوں کے زمرے میں شریک نہ کریں۔

زاہد نواز راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد امت آج مسلم امت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور خاص طور پر برطانیہ اور یورپ میں جہاں مسلمانوں کو بے شمار چیلنج اور مسائل درپیش ہیں یہاں مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی بے حد ضروری ہے۔

کانفرنس کے پہلے حصے میں برطانوی نوجوانوں کے لیے انگریزی میں تقاریر کی گئیں اور برطانوی مسلمانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کانفرنس کے پہلے اجلاس کی نظامت کے فرائض صاحبزادہ محمد رضا قادری نے انجام دیے۔

تبصرہ

Top