پیغام امن کمیٹی و نظام المدارس کے زیرِاہتمام بنیان مرصوص کانفرنس کا انعقاد
جملہ مکتبِ فکر کی شرکت، کامیاب دفاع پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا

لاہور (12 مئی 2026) قومی پیغام امن کمیٹی و نظام المدارس پاکستان کے زیرِاہتمام ’’معرکۂ حق بنیان مرصوص کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام، مشائخِ عظام، دینی و سماجی رہنماؤں اور ممتاز مذہبی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس میں قومی اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی، استحکامِ پاکستان، دفاعِ وطن اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ افواجِ پاکستان کی خدمات، قربانیوں اور دفاعی صلاحیتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
ناظمِ اعلیٰ نظام المدارس پاکستان ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ’’معرکۂ حق بنیان مرصوص‘‘ پاکستان کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے جس نے قوم کو اتحاد، محبت اور استحکام کے مضبوط رشتے میں پرو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تمام مکاتبِ فکر قومی سلامتی، استحکامِ وطن اور فکری ہم آہنگی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ انہوں نے ’’قومی پیغامِ امن کمیٹی‘‘ کے کردار کو بھی سراہا جو بین المسالک ہم آہنگی اور قومی وحدت کے فروغ میں مؤثر خدمات انجام دے رہی ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے کوئی اس کی سلامتی پر میلی نگاہ نہیں ڈال سکتا۔دفاع وطن اور تحفظ وطن کے سوال پرقوم متحد اور پر عزم ہے ۔ہمیں خوشی ہے کہ ہماری فورسز نے خود کوجدید ٹیکنالوجی اور اسلحہ سے لیس رکھا ہوا ہے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قوم کے بچوں کو قتل کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف سخت لہجے میں بات ہونی چاہئے۔
چیئرمین مرکزی مسلم لیگ شیخ قاری یعقوب نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہر محاذ پر وطنِ عزیز کا دفاع کیا ہے اور پاکستان آج ایک مضبوط دفاعی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ صدر اتحاد المدارس العربیہ پاکستان علامہ مفتی محمد زبیر فہیم نے کہا کہ دینی مدارس ہمیشہ وطنِ عزیز کے استحکام اور سلامتی کے لیے افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
سربراہ منہاج الحسین لاہور ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو اتحاد، اخوت اور فکری ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے تاکہ انتشار اور فرقہ واریت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ چیئرمین متحدہ علماء بورڈ ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری نے کہا کہ موجودہ قیادت کے دور میں ملک کا دفاع مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ہے جبکہ قومی پیغامِ امن کمیٹی قومی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ رئیس دارالافتاء جامعہ اشرفیہ مفتی شاہد عبید اشرفی نے کہا کہ پاکستان تمام تر چیلنجز کے باوجود ترقی اور استحکام کی جانب گامزن ہے۔
چیئرمین وفاق المدارس رضویہ پاکستان ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا اور اس کی حفاظت علماء اور قومی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نائب صدر مجمع المدارس علامہ توقیر عباس نے کہا کہ ’’بنیان مرصوص‘‘ قومی اتحاد اور یکجہتی کی مضبوط علامت ہے۔ جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور انجینئر چوہدری حمید الحسن، چیئرمین نیشنل مشائخ کونسل پیر بدر منیر سیفی، صاحبزادہ ملک پرویز اکبر ساقی، علامہ غلام شبیر قادری، سیّد وحید شاہ اور سیّد حبیب اللہ شاہ نے بھی خطاب کیا اور قومی اتحاد، دفاعِ وطن اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیا۔کانفرنس میں کرنل (ر) خالد جاوید، نور اللہ صدیقی، علامہ اشفاق علی چشتی، مفتی خلیل حنفی و دیگر نے شرکت کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض علامہ عین الحق بغدادی اور ڈاکٹر میر آصف اکبر نے انجام دئے۔ کانفرنس کے اختتام پر تمام مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے استحکام، قومی سلامتی، اتحادِ امت، بین المسالک ہم آہنگی اور دفاعِ وطن کے لیے تمام دینی و مذہبی طبقات متحد رہیں گے اور ہر قسم کی دہشت گردی، انتہاپسندی اور انتشار کے خلاف اپنا مشترکہ، مؤثر کردار ادا کریں گے۔


















تبصرہ