نبی اکرم ﷺ کے جملہ لطائف اور ظاہر و باطن کی معراج کا سفر

مورخہ: 08 مارچ 2019ء

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا خصوصی خطاب

ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین
معاون: محبوب حسین

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰـرَکْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰـتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ.

(الإسراء، 17: 1)

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ اچانک ایک شخص ہماری محفل میں آیا (جس کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بعد میں آگاہ فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے)۔ یہ شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے سے گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا اور عرض کیا: یا محمد مصطفی! مجھے بتائیں: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان المبارک کے روزے رکھے اور استطاعت رکھنے پر بیت اللہ کا حج کرے۔ اس نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا۔ اس کے بعد اس نے عرض کیا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔ وہ بولا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے عرض کیا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ:

أَنْ تَعْبُدَ ﷲَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تکُنْ تَرَاهُ فإنَّهُ یَرَاکَ.

’’تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو یہ جان لے کہ یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘

(بخاری، الصحیح، 1: 27، کتاب الایمان، باب: سوال جبرائیل النبی صلی الله علیه وآله وسلم)

ایمان کے جواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنیادی عقائد اور اسلام کے جواب میں اسلام کے بنیادی ارکان کا تذکرہ فرمایا۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اگر کل دین فقط عقائد و اعمال کے مجموعے کا نام ہوتا اور عقائد و اعمال کے علاوہ دین کا کوئی مزید حصہ نہ ہو تا تو جبرائیل امین ایمان اور اسلام کے سوالات کے بعد تیسرا سوال نہ کرتے اور بالفرض اگر سوال کر لیا تھا تو حضور علیہ السلام جواب نہ دیتے اور فرماتے کہ کل دین ایمان اور اسلام کی صورت میں عقائد اور اعمال کا مجموعہ ہے ان پر عمل درآمد کرو تو دین مکمل ہوگیا مگر آقا علیہ السلام نے تیسرے سوال (احسان کیا ہے؟) کا جواب بھی دیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ دینِ کامل کے تین اجزاء عقائد، اعمال اور احسان ہیں۔ یہ تینوں یکجا ہوں تو دین مکمل ہوتا ہے۔

اسلام اور ایمان کے جواب میں عقائد و اعمال بیان فرمائے احسان کی وضاحت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیدہ یا عمل بیان نہیں کیا بلکہ فرمایا:

الْإِحْسَانُ، أَنْ تَعْبُدَ ﷲَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَاِن لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهُ یَرَاکَ.

’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس حال میں کرو گویا کہ تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘

مشاہدہ کیسے نصیب ہوتا ہے؟

گویا احسان ایک روحانی حالت اور باطنی کیفیت کا نام ہے کہ جب تو عبادت کرے تو یوں لگے کہ تو اس کا جلوہ کر رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کیفیت اور حالت کو کیسے پایا جائے تاکہ اس کا جلوہ نصیب ہوجائے؟ اس کا جواب بھی اس حدیث مبارکہ کے روحانی معنی میں پنہاں ہے کہ اگر یہاں پر کَانَ کو ناقصہ کی بجائے کَانَ تامہ کہا جائے تو یہ جواب بنتا ہے کہ:

فَإِنْ لَمْ تَکُن.

’’اگر تو نہ رہے‘‘

یعنی جب تو خود درمیان سے اپنے وجود کو نکال دے گا تو ’’تَرَاهٗ‘‘ تو اس کو دیکھ لے گا۔ اس کو دیکھنے میں رکاوٹ تیرا وجود ہے۔ وہ تو بے نقاب ہے، تیرا وجود اور تیرا نفس خود پردہ بن کر اس کے مشاہدے کے درمیان حائل ہے۔ لہذا فَإِنْ لَمْ تَکُنْ کے تحت جب تو اپنے وجود کو فنا کر دے گا اور اس کی ذات میں فنا ہوجائے گا تو اس کے بعد تَرَاهٗ کا مقام آئے گا کہ اسے بے نقاب دیکھ لے گا اور اس کے جلوے کا نظارہ کرے گا۔

یہ مقامِ فنا نبوت میں بھی ہے اور ولایت میں بھی ہے۔ اس فنا کے دروازے سے گزر کر مشاہدہ ہوتا ہے اور بقا ملتی ہے۔ بقا اس مشاہدے تک پہنچاتی ہے۔۔۔ مشاہدہ کے بعد مکاشفہ ہوتا ہے۔۔۔ مکاشفہ کے بعد مواجہہ ہوتا ہے۔۔۔ مواجہہ کے بعد مکالمہ ہوتا ہے۔ گویا ان تمام مراحل کا دروازہ فنا سے کھلتا ہے۔ انبیاء کرام و اولیاء عظام فنا کی وادی عبور کرتے ہیں اور بقا کے کنارے پہنچتے ہیں، تب مشاہدہ ہوتا ہے۔ معراج کی رات بھی آقا علیہ السلام اپنے مرتبے اور شان کے لائق فنا کی وادیوں کو عبور کر کے بقا کی وادی تک پہنچے۔ اس مقام کو قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا:

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی.

’’اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)۔‘‘

(النجم، 53: 17)

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالتِ بیداری میں جسم و روح کے ساتھ ہوئی

معراج ایک معجزہ ہے، لہذا معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معجزہ مان لینے کے بعد یہ بحث کرنا لاعلمی اور جہالت ہے کہ معراج جسمانی ہوا یا روحانی طور پر خواب میں ہوا؟ اس لیے کہ اگر معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں ہوتی ہو تو پھر یہ معجزہ نہ رہتا۔ معجزہ اس کو کہتے ہیں جو عقل کو عاجز کر دے اور بطورِ عادت عقل کی سمجھ میں نہ آئے کیونکہ کوئی واقعہ خلافِ عادت ہوجائے تو عقل اس کو سمجھنے میں معذور ہوتی ہے اور جس کے سمجھنے میں عقل معذور ہو جائے وہ معجزہ ہوتا ہے۔ جب معراج ایک معجزہ ہے تو پھر یہ بیداری کا واقعہ ہے اور جسم و روح کے ساتھ ہے۔ اگر یہ خواب ہو تو تاریخِ انبیاء میں اسے ایک عظیم معجزہ قرار نہیں دیا جاسکتا، اس لیے کہ کئی ایسے واقعات موجود ہیں جو خواب میں کلام کرنے سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اس کی مثال حضرت موسیٰں کی ہے کہ حالتِ بیداری میں تو حضرت موسیٰں بھی طور کی چوٹی پر اللہ سے ہمکلام ہو کر آئے ہیں۔ قرآن مجید نے اس امر کی طرف اشارہ کیا:

وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَکَلَّمَهٗ رَبُّهٗ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ.

’’اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے (مقرر کردہ) وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا تو (کلامِ ربانی کی لذت پاکر دیدار کا آرزو مند ہوا اور) عرض کرنے لگا: اے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کرلوں، ارشاد ہوا: تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکو گے۔‘‘

(الاعراف، 7: 143)

ایسے واقعات کے موجود ہوتے خواب میں کلام کرنا عظیم معجزہ کس طرح قرار پاسکتا ہے؟

اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عالم بیداری میں آسمانوں اور زمینوں کا نظارہ کیا ہے۔اس بات کو قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا:

وَ کَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰهِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ.

’’اور اسی طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائباتِ خلق) دکھائیں۔‘‘

(الانعام، 6: 75)

یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملکوت السمٰوٰت والارض کا بیداری میں مشاہدہ کیا۔ اس پیغمبرانہ تاریخ میں خواب میں ہمکلام ہونا ایک عام معجزہ رہ جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزۂ معراج کے بیان میں فرمایا:

لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰـتِنَا.

’’تاکہ ہم اس (بندۂِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں۔‘‘

دیگر انبیاء علیہم السلام تو حالتِ بیداری میں اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں مشاہدہ کریں تو اس انداز میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا اظہار نظر نہیں آتا۔ اسی طرح جہاں پیغمبروں نے بغیر جبرائیل کے واسطہ کے اللہ سے براہِ راست کلام کیا ہو، وہاں خواب میں اﷲ سے کلام کرنا کوئی عظمت کی بات نہیں رہ جاتی۔ لہٰذا یہ بڑی نادانی کی بات ہوگی کہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معجزہ مان کر پھر بحث کی جائے کہ بیداری میں ہوا یا خواب میں ہوا، روحانی ہوا یا جسمانی ہوا؟

واقعۂ معراج کو آزمائش کیوں قرار دیا گیا؟

آقا علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے معراج عطا کی اور صبح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعۂ معراج بیان کیا کہ میں راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ اور اس سے آگے قاب قوسین او ادنیٰ تک گیا اور واپس آگیا تو یہ واقعہ سن کر نئے نئے مسلمان ہونے والوں کی ایک جماعت مرتد ہوگئی اور اسلام کو چھوڑ دیا۔ اس بات کو جملہ مفسرین نے بیان کیا ہے۔ حضور علیہ السلام کی زبانِ اقدس سے اس عجیب بات کو سن کر انہوں نے اسے عقل کے برخلاف قرار دیا، اس لیے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کیونکہ وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ اقدس سے سُن کر فوراً ایمان لے آئیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بارگاہ میں سمجھ کے چراغ بجھانے پڑتے ہیں تب سمجھ ملتی ہے۔

محرم ایں ہوش جز بے ہوش نیست

اس راز کو جاننے کے لئے جو خاص سمجھ درکار ہے وہ محبوب کی محبت و عقیدت اور وارفتگی میں بے ہوشی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کہ یہ وہ ہوش ہے جس کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی ایک ہوش تجلی کے اثر سے گنوانا پڑا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ’ربّ اَرِنِیْ‘ کی گزارش کے جواب میں ’لَنْ تَرَانِیْ‘ کا فرمان اور پھر کوہِ طور پر پڑنے والی تجلی کے اثر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بے ہوش ہونا، پہلے ہوش کو خیر باد کہنے ہی کی طرف اشارہ ہے۔ اسی لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب نیا ہوش آیا تو عرض کیا:

تُبْتُ اِلَیْکَ.

مولیٰ! میں اپنی طرف سے اور اپنے آپ سے نکل کر تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ گویا اس ہوش کے لئے پہلے ہوش کا چراغ بجھانا پڑتا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آقا علیہ السلام نے اہلِ مکہ کو جمع کر کے خواب سنایا تھا کہ میں نے یہ ساری معراج خواب میں کی ہے تو کسی کے مرتد ہوجانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا، اس لیے کہ خواب تو آتے رہتے ہیں۔ آقا علیہ السلام نے جو کچھ بیان فرمایا اگر اس سے بھی عجیب تر فرما دیتے اور کہتے کہ یہ سب خواب میں ہوا تو کسی کو منحرف ہونے اور اسلام چھوڑنے کی ضرورت نہ تھی۔ صرف اس ایک دلیل کو ذہن میں رکھ لیں کہ اس وقت بہت سے لوگ اس واقعہ کو خواب سمجھ کر مرتد ہوئے یا بیداری کا واقعہ سمجھ کر مرتد ہوئے؟ اگر خواب سمجھتے تو عقل تو خواب مانتی ہے، لہذا وہ لوگ اسلام پر قائم رہتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بیداری کی بات کر رہے تھے کہ یہ واقعہ حالتِ بیداری میں پیش آیا، لہذا وہ مرتد ہوگئے۔ اس پر بڑی کامل دلیل قرآن مجید میں ہے۔ ارشاد فرمایا:

وَمَا جعَلْنَا الرُّءْ یَا الَّتِیْٓ اَرَیْنٰـکَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ.

’’اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کے لیے صرف ایک آزمائش بنایا ہے (ایمان والے مان گئے اور ظاہر بین الجھ گئے)۔‘‘

(الإسراء، 17: 60)

مشاہدہ کو بھی رؤیا کہتے ہیں۔ الرُّؤ یَا پر اَرَیْنٰـکَ فعل کا داخل ہونا اسے خواب نہیں بلکہ بیداری بناتا ہے۔ آیتِ کریمہ کا مطلب یہ ہوا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے آپ کو جو مشاہدہ کروایا ہے، اسے بہت سے لوگوں کے ایمان کے لئے آزمائش بنا دیا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کا مشاہدہ بیان کیا تو کتنے ہی لوگ تھے جو اپنا ایمان نہ بچا سکے۔ یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے قبول اور عدمِ قبول کا مدار اپنی عقل کو بنا لیا تھا اور نتیجتاً ایمان کے راستے سے بھٹک گئے۔

دوسری طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان اقدس سے واقعہ معراج سننے سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کی تصدیق کردی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے ’’صدیق‘‘کے لقب کے مستحق ٹھہرے۔

(تفسیر القرطبی، 10: 285)

گویا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب ’’صدیق‘‘ آپ کو معراج کے موقع پر عطا ہوا۔ یہ واقعہ بھی ثابت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج حالتِ بیداری میں ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اِسے حالتِ بیداری میں عطا کیے گئے معجزہ کے طور پر بیان فرمایا ہے، اسی لیے کفار و مشرکین اسے قبول کرنے سے انکار کررہے تھے۔

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر سے مراد کون ذات ہے؟

مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر واقعۂ معراج کا پہلا مرحلہ ہے۔ مسجدِ اَقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر دوسرا مرحلہ ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ سے ’قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی‘ تک کا سفر معراج کا تیسرا مرحلہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل/ الاسراء کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کو بیان فرماتے ہوئے آخر میں ’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر‘ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اللہ اپنے حبیب مکرم کو سیر کروارہا ہے، مشاہدہ کر وا رہا ہے، اپنی نشانیاں دکھا رہا ہے مگر اس تمام کا ذکر کرنے کے مَعاً بعد فرمایا: اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ یہاں اللہ کے سننے اور دیکھنے کا کیا مطلب ہے؟

بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے مگر یہاں اللہ کی اِن صفات کے ذکر کا سباقِ کلام سے تعلق نہیں بن رہا، اس لیے کہ واقعہ معراج میں سننے اور دیکھنے والے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کریمہ تھی۔

اللہ رب العزت نے صیغہ غیب سے بات شروع کی کہ سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَیٰ ’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک‘‘ یہ فرمانے کے بعد یکایک خطاب کے رُخ کو بدل دیا اور فرمایا الَّذِیْ بٰـرَکْنَا حَوْلَهٗ ’’وہ مسجد اقصیٰ جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی‘‘۔ یہاں پر صیغہ غائب (وہ ذات) کو جمع متکلم (ہم نے برکت رکھی) میں تبدیل فرمادیا اور پھر دوبارہ صیغہ بدل دیا اور صیغہ غائب کو استعمال فرمایا کہ ’’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر‘‘ (بے شک وہی سننے والا دیکھنے والا ہے)۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ باری تعالیٰ! اگر بات ’’ہم‘‘ کر کے کرنی تھی تو ابتداء سے ہی ہم سے مضمون شروع کرتا کہ ہم پاک ہیں جو لے گئے اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنا دیا تاکہ ہم اُسے اپنی نشانیاں دکھائیں اور آخر میں بھی یہی فرماتا کہ ہم ہی سننے والے اور دیکھنے والے ہیں۔صیغوں کو یکے بعد دیگرے تبدیل فرمانے کی کیا حکمت ہے کہ سب سے پہلے ’’وہ‘‘ کہہ کر بات شروع کی، درمیان میں ’’ہم‘‘ آگیا اور آخر میں پھر ’’وہ‘‘ آگیا؟

اس موقع پر جس سمع و بصر کا ذکر ہے دراصل وہ حضورں کی سمع و بصر ہے۔ اس لیے کہ معراج کی رات فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰی کے مصداق سُن بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہے ہیں اور مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی کے مصداق دیکھ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہے ہیں۔ پس یہاں پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے اور سننے کے عمل کو بیان کیا جارہا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کبھی بے محل نہیں ہوتا، کبھی موقع کی مناسبت کے خلاف نہیں ہوتا، یہ اللہ کی شان کے خلاف ہے۔ جہاں جس چیز کا ذکر ہوتا ہے، وہاں وہ اپنی اسی صفت کو بیان کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ بات بخشنے کی ہو رہی ہو اور اللہ عذاب دینے کی صفت بیان کردے، یا بات عذاب اور گرفت کی ہورہی ہو اور اللہ اپنی صفت غفور و رحیم بیان کردے۔ یعنی اللہ کی انہی صفات و افعال کا بیان ہوگا جس کی موافقت اس کلام اور بیان کے موقع محل کے ساتھ ہے۔ اس آیت مبارکہ میں موقع تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں نے دیکھا، دل نے اسے جھٹلایا نہیں بلکہ تصدیق کی کہ اے آنکھ تو نے سچ دیکھا۔ قرآن بیان کر رہا ہے کہ جب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تو ان کی آنکھ جھپکی بھی نہیں اور بھٹکی بھی نہیں یعنی اس آنکھ کی توجہ اتنی کامل تھی کہ ایک لمحے کیلئے جھپکنا بھی خلافِ ادب سمجھا۔ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی میں کمالِ ادب بھی ہے کہ مشاہدۂ حق کے دوران آنکھ کا جھپکنا بھی بے ادبی خیال کیا۔

مقاماتِ تفرقہ، جمع اور جمع الجمع

آیت مبارکہ میں صیغوں کے بار بار تبدیل فرمانے کی حکمت یہ ہے کہ سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ میں تصوف اور معرفت کی اصطلاح کے مطابق ’’مقامِ تفرقہ‘‘ ہے۔ جس میں لے جانے والے (الّذی) اور جانے والے (بعبدہ) کا ذکر الگ الگ بیان ہورہا ہے۔

اُس کے بعد فرمایا: بٰـرَکْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰـتِنَا یہاں جمع کا صیغہ استعمال فرمایا۔ یہ ’’مقامِ جمع‘‘ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معراج مرحلہ وار بلند ہو رہا تھا، معراج کی ابتدا ’’مقامِ تفرقہ‘‘ سے ہوئی اور جب مسجد اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ پر گئے تو معراج دوسرے مقام پر تھی۔ لہذا روحانی مقام ’’تفرقہ‘‘ سے ’’جمع‘‘ میں منتقل ہوگیا اور اس طرح اس مقام کو بھی معراج نصیب ہوگئی۔

پھر جب سدرۃ المنتہیٰ بھی نہ رہا، نہ عالمِ مکاں رہا، نہ عالمِ ملکوت، نہ عالمِ جبروت اور نہ عالمِ لاہوت رہا بلکہ سب کچھ نیچے رہ گیا، رف رف اور بقعہ نور بھی رک گئے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثم دنی پر پہنچے تو یہ روحانی مقام ’’جمع الجمع‘‘ تھا۔ وہاں خدا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا تھا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ خدا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سن رہا تھا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کو سن رہا تھا۔۔۔ دیکھنے والے دو تھے اور سننے والے بھی دو تھے لہذا اِنَّهٗ میں ’هٗ‘ سے ایک کا اشارہ کر دیا اور هُوَ سے دوسرے کا اشارہ کردیا۔

آیت معراج کے پہلے لفظ میں سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ کہہ کر کافروں کے اعتراض کو رد کردیا کہ تم کہتے ہو کیسے گئے اور کیسے آئے؟ میرے مصطفی نے تو کہا ہی نہیں کہ میں گیا بلکہ سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی میں لے گیا ہوں۔ وہ جانے کا دعویٰ کرتے تو اعتراض بنتا، دعویٰ تو یہ ہے کہ میں لے گیا ہوں، مجھ سے پوچھو کیسے لے گیا ہوں؟

اعتراض کیا گیا کہ اللہ کو کیسے دیکھا تو اُس کا جواب دیا کہ سنو! اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر دیکھنے اور سننے والا تو میں ہی تھا مگر مصطفی نے ایسے دیکھا کہ میں نے اپنی بصر کا لباس مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنا دیا، نتیجتاً مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ذریعے مجھے دیکھ رہا تھا، لہذا مشاہدہ کرنے والا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوا۔ پوچھتے ہو کیسے سن سکتے ہیں؟ اس طرح کہ میں نے اپنی سمع کا لباس مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنا دیا۔ گویا اللہ رب العزت نے اپنی سماعت و بصارت کے دو جبے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنا دیئے اور فرمایا کہ سمع میری تھی سن مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہا تھا۔۔۔ بصر میری تھی، دیکھ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہا تھا۔۔۔ اس طرح مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا میرا دیکھنا تھا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سننا میرا سننا تھا۔

اس میں وہ راز تھا جس کے بارے آقا علیہ السلام نے فرمایا:

وَمَا یَزَالُ عَبْدِي یَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّی أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي یَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي یُبْصِرُ بِهِ وَیَدَهُ الَّتِي یَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي یَمْشِي بِهَا.

’’میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اُس سے محبت کرتا ہوں تو اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے۔‘‘

(بخاری، الصحیح، کتاب الرقاق، باب التواضع، 5: 2384، رقم: 6137)

یہ ایک ولی کی شان ہے کہ وہ اس کے کان، آنکھ اور ہاتھ بن جاتا ہے۔ اگر ولی کو قربِ نوافل اور قربِ فرائض کے صلے میں وہ اپنی سمع و بصر کا لباس پہنا دیتا ہے تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا مقام ہوگا؟ قَابَ قَوْسَین پر وہ خدا کی آنکھ سے دیکھ بھی سکتے ہیں اور خدا کا کلام خدا کے کان سے سن بھی سکتے ہیں۔ یہ مقامِ جمع الجمع تھا اور قرآن نے اس کی شہادتیں دی ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا، اللہ کا دیکھنا کیسے بن گیا؟

اگرکوئی یہ کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا اللہ کا دیکھنا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سننا اللہ کا سننا کیسے بن گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اسی طرح ہے جیسے حضور کا کنکریاں پھینکنا، اللہ کا پھینکنا بن گیا، جس کے بارے میں قرآن مجید نے یوں فرمایا:

وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اﷲَ رَمٰی.

’’محبوب جو کنکریاں تو نے ماریں وہ تو نے نہیں ماریں بلکہ وہ تو اللہ نے ماریں۔‘‘

(الانفال: 17)

پھر فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ ﷲَ یَدُ ﷲِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ.

’’(اے حبیب!) بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔‘‘

(الفتح: 10)

دنیا دیکھتی ہے کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ ہے مگر اللہ فرما رہا ہے کہ نہیں وہ تو خدا کا ہاتھ ہے۔ ایک ہی ہاتھ کے دو نام رکھ دیئے۔ صورتاً مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ ہے اور معناً خدا کا ہاتھ ہے۔ جس طرح مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خدا کا ہاتھ صورتاً اور معناً سمجھ میں آگیا اسی طرح اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر کا مطلب بھی یہی ہے۔

مراحلِ معراج: مقامِ ارادہ سے مقامِ وحدت کا سفر

آقا علیہ السلام کے معراج کے سفر میں مسجدِ حرام محلِّ ارادہ ہے اور مسجد اقصیٰ محلِّ محبت ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محلِّ ارادہ کے ذریعے محلِّ محبت تک پہنچے۔۔۔ اور پھر محلِّ محبت سے لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰـتِنَا کے مصداق محلِّ معرفت تک پہنچے۔۔۔ اور پھر محلِّ معرفت سے ارتقا کر کے محلِّ توحید تک پہنچے۔۔۔ جب اس سے آگے گزر گئے تو محلِّ نور آگیا۔۔۔ پھر محلِّ نور سے محلِّ تفرید آگیا۔۔۔ محلِّ تفرید سے بڑھ کر جب ثُمَّ دْنٰی کا مقام آیا تو یہ محل و مقامِ فنا ہے۔۔۔ پھر فَتَدَلّٰی کا مقام آیا تو یہ مقام و محلِّ بقا ہے۔۔۔ فتدلّٰی کے بعد وَقَابَ قَوْسَیْنِ کا مقام آیا تو یہ مقام و محلِّ التفات ہے۔۔۔ پھر اَوْ اَدْنٰی آیا تو یہ مقام محلِّ وحدت ہے۔۔۔ اس طرح روحانی معراج کا سفر بھی اِن مراحل سے گزر کر مکمل ہوا۔

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہمہ جہت معراج ہے۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جملہ لطائف اور ظاہر و باطن کا معراج ہے۔ شب معراج نفسِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی معراج ہوا اور نفس معراج پاکر مقامِ قلب پر جا پہنچا۔۔۔ مقامِ قلب مقامِ عقل پر جا پہنچا۔۔۔ عقل معراج کر کے مقامِ روح پر پہنچی، روح معراج کر کے مقامِ سر تک پہنچی۔۔۔ اور سرِ مصطفی معراج کر کے مقامِ خفی پر پہنچا۔۔۔ اور وہ معراج کر کے سرِّ السر تک پہنچا۔۔۔ اور وہ معراج کر کے مقامِ اخفی پر پہنچا۔ اس طرح عالمِ خلق اور عالمِ امر کے جملہ لطائفِ محمدی علیہ السلام کا معراج ہوا اور ہر مقام اپنے مقام سے بلند ہو کر اوپر کے مقام پر فائز ہوا اور اس پر اس مقام کے خواص طاری ہوگئے بلکہ جو واردات، انوار و تجلیات اور مشاہدات اوپر کے مقامات پر تھے وہ بھی یکے بعد دیگرے جملہ لطائفِ محمدی علیہ السلام کو نصیب ہوتے چلے گئے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مظہرِ الہٰیہ کا کامل پرتو کیسے ہیں؟

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ معراج کے دوران آخری مقام پر آئے تو ثم دنی ایک قرب تھا۔۔۔ فتدلّٰی دوسرا قرب تھا۔۔۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ تیسرا قرب تھا۔۔۔ اور اَوْ اَدنیٰ چوتھا قرب تھا۔ اس کی کچھ تفصیل اس طرح ہے:

(1) قربِ اسمائے الہٰیہ کا رنگ

دنٰی میں قربِ اسماء تھا۔ اسمائِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسمائے الہیہ کے قریب کیا جا رہا تھا۔ اس کا فیض یہ ہے کہ اگر وہ رؤف ہے تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی رؤف ہے۔۔۔ وہ رحیم ہے تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی رحیم ہے۔۔۔ وہ کریم ہے تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کریم ہے۔۔۔ وہ شہید ہے تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شہید ہے۔۔۔ وہ حق ہے تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حق ہے۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسماء اللہ کے اسماء سے متصل ہوتے چلے گئے۔ اللہ کے اسماء کی صفات، اسماء مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں منتقل ہو رہی تھیں اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسماء کو اللہ کے اسماء کا قرب مل رہا تھا۔

(2) قربِ صفاتِ الہٰیہ کا رنگ

فتدلّٰی پر قرب اور بڑھ گیا۔ دنٰی میں تین حروف ہیں، تدلّٰی کے چار حروف ہیں، حرف زیادہ ہوں تو معنی بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دنٰی میں جو قرب تھا، تدلّٰی میں قرب اس سے بھی بڑھ گیا۔ دنیٰ کا قرب اسمائے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب تھا، جب تدلّٰی میں آئے تو صفاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفاتِ الہٰیہ کا قرب مل گیا اور صفاتِ خدا کا رنگ صفاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں نفسِ اور وجودِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی صفات سے فنا ہوگیا اور صفاتِ خدا کے ساتھ باقی ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے خلق اور صفات اُتر گئیں اور خدا کی شان کے لائق اس کے خلق اور صفات کا رنگ چڑھ گیا۔ جیسے رنگ ساز پہلے سے موجود رنگ کو اتار کر نیا رنگ چڑھاتا ہے، بلاتشبیہ و بلا مثال اسی طرح صفاتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صفاتِ بشریت اور نفسِ محمدی علیہ السلام کے جو رنگ پہلے تھے، رب کائنات نے اُن سب کو اتار دیا اور فرمایا: اے میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اپنی صفات کو تیری صفات کے قریب کر کے تدلّٰی کے فیض سے ان پر اپنی صفات کا رنگ یوں چڑھاتا ہوں کہ اب ذات تیری ہوگی مگر صفات میری ہوں گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب صفاتِ الٰہیہ اور اخلاق الٰہیہ کا رنگ صفاتِ مصطفی پر چڑھ گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات بدل گئیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ.

’’اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اب آپ کا خلق، عظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز ہوگیا۔‘‘

(القلم: 4)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا گیا:

ام المؤمنین! حضور کا خلق یعنی صفات کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ خُلُقُهٗ الْقُرْان حضور کے اخلاق قرآن تھے یعنی قرآن حضور کے اخلاق اور صفات کا نام ہے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہص اس کلام میں ایک راز کی بات فرماگئی ہیں اور جس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن اللہ کے کلمات ہیں اور کلمات متکلم کی صفات ہوتی ہیں۔ قرآن اللہ کا کلام ہے یعنی اللہ کی صفات ہیں۔ ایک طرف قرآن اللہ کی صفات ہے اور دوسری طرف ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہj اس قرآن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق ہونے کے باعث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات قرار دے رہی ہیں۔ گویا قرآن اللہ کی صفت بھی ہے اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت بھی ہے، اس طرح کہ قرآن کی ہر آیت اللہ کی صفت لیکر اترتی تھی اور جب یہ کلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ اطہر پر اترتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذاتی خلق ہٹا دیا جاتا اور اس آیت کے اندر موجود اللہ کا خلق اور صفت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلق اور صفت پر چڑھا دیا جاتا۔ اس طرح ہر آیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذاتی خلق و صفت کو ہٹا دیتی اور اللہ کے اخلاق و صفات کا رنگ چڑھا دیتی۔ یوں 23 برس میں جب قرآن مجید کا نزول مکمل ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری ذاتی صفات مٹا دی گئیں اور خدا کے اخلاق اور صفات کے سارے رنگ ان پر چڑھا دیئے گئے۔ دیکھنے میں ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی لیکن حقیقت میں ذاتِ خدا تھی۔ فَتَدَلّٰی میں اسی قربِ صفات کی طرف اشارہ ہے۔

(3) قربِ افعال و ذاتِ الہٰیہ کا رنگ

فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ کے مقام پر قربِ افعال کا رنگ نصیب ہوگیا۔ اسمائ، صفات اور افعالِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام کے تمام اسمائ، صفات اور افعالِ الٰہیہ کے رنگ میں رنگے گئے۔

او ادنٰی کے مقام پر قربِ ذات نصیب ہوگیا۔ گویا ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذاتِ خدا کی مظہر بن گئی۔ صفاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفاتِ خدا کی مظہر بن گئیں، اسمائے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسمائِ خدا کے مظہر بن گئے اور افعالِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افعالِ الہٰیہ کے مظہر بن گئے۔

مظہریتِ کاملہ اور حکمِ وحدت

جب مظہریت کامل ہوئی تو وحدت کا حکم آگیا۔ اسی لئے ہمیں قرآن مجید میں جابجا یہ اسلوب اور حکم دکھائی دیتا ہے کہ جو میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرتا ہے وہ اللہ کی بیعت ہے۔۔۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرے وہ اللہ کی اطاعت ہے۔۔۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرے وہ اللہ کی نافرمانی ہے۔۔۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی کرے وہ اللہ کا بے ادب ہے۔۔۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب کرے وہ اللہ کا ادب ہے۔۔۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرے وہ اللہ سے محبت ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا اللہ کی رضا ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا اللہ کی عطا ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب اللہ کا قرب ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم اللہ کا حکم ہے۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلال کرنا اللہ کی تعلیم۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حرام کرنا اللہ کی تعلیم۔ اس طرح مظہریت کاملہ کے نتیجہ میں حکمی وحدت آگئی۔

علامہ ابن تیمیہ اور دیگر علماء نے لکھا ہے کہ:

قَدْ أَقَامَهُ ﷲُ مَقَامَ نَفْسِهٖ فِیْ اَمْرِهِ وَنَهْیِهٖ وَأَخْبَارِہ وبَیَانِهٖ فَـلَا یَجُوْزُ اَنْ یَّفَرَّق بَیْنَ ﷲِ وَرَسُوْلِهٖ.

یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان امر و نہی، کلام اور خبر کے حوالے سے ایک رتی برابر فرق کرنا جائز نہیں۔ جو رسول نے کہا وہی خدا نے کہا۔ جس کو رسول نے بخشا، اسی کو خدا نے بخشا۔ یہ اس معراج کی انتہا تھی۔

(ابن تیمیة، الصارم المسلول: 2: 87)

ذکرِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ذکرِ خدا ہے!

وحدتِ حکمی کا عالم یہ تھا کہ رب کائنات نے فرمایا: میرے حبیب اب تیرا ذکر بھی میرا ذکر ہے۔ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک کی ایک تعبیر تو یہ ہے کہ

اِذَا ذُکِرَتُ ذُکِرَتَ مَعِیْ.

’’جہاں میرا ذکر کیا جائے وہاں تیرا ذکر کیا جائے۔‘‘

یعنی اللہ نے اپنے ذکر اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو لازم و ملزوم کردیا۔ دوسرے مقام پر فرمایا:

وَجَعَلْتُ تَمَامَ ذِکْری مَعَک تَمامَ الْاِیمانِ.

’’ایمان مکمل نہیں ہوگا اگر میرا ذکر اور تیرا ذکر اکٹھا نہیں ہوگا۔‘‘

یعنی دونوں ذکر اکٹھے ہوں تو ایمان بنتا ہے۔ اگر صرف اللہ کا ذکر ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہ ہو تو اللہ اسے رد کردیتا ہے۔

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک کی دوسری تعبیر یہ ہے کہ رب کائنات نے فرمایا: اے میرے حبیب اب تیرے ذکر کو میں نے اپنا ذکر کردیا۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے روایت کیا اور امام ابن عطاء نے اس روایت کی تصدیق کی، قاضی عیاض نے اسے الشفا میں بیان فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے:

اَیْ جَعَلْتُکَ ذِکْرًا مِنْ ذِکْرِیْ فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرَنِیْ وَلَیْسَ اَحَد یَذْکرُکَ فِی رِسَالَةِ اِلَّا ذَکَرَنِیْ فِی الرَّبُوْبِیَهُ.

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو میں نے اپنا ذکر بنا دیا، اب جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرے گا، اس میں میرا ذکر خود بخود ہوگیا۔ محبوب جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بیان کرے گا، مجھے اپنی عزت کی قسم! بیان تو آپ کی شانِ رسالت کا ہوگا مگر صرف شانِ رسالت بیان کرنے سے ہی میری ربوبیت کا ذکر خود بخود اس میں ہوگیا۔ گویا ذکرِ شان رسالتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ذکرِ ربوبیتِ خدا ہے۔

یہ الفاظ غور طلب ہیں کہ فرمایا: فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرنِیْ

حبیب جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرے اس نے میرا ذکر کردیا۔ یوں نہیں فرمایا کہ فمن ذکرنی ذکرک جو میرا ذکر کرے، اس نے آپ کا بھی ذکر کردیا۔ یہ اسلوب اس لیے اختیار نہ کیا کہ اگر ایسا ہوگیا تو لوگ ساری رات اللہ اللہ کرتے رہیں گے اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی نام نہیں لے گا۔ کہیں گے کہ خدا کے ذکر میں مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خود بخود ہوگیا۔ فرمایا: جو محض ذکر خدا کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہیں کرے گا، وہ سُن لے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہیں ہوا تو میرا بھی نہ ہوا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہ کرے اور میرے ذکر کو تنہا کرے تو میں بھی قبول نہیں کرتا بلکہ رد کردیتا ہوں ۔

لہذا حکم یہ ہے کہ فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرنِیْ حبیب جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرے اس میں میرا ذکر خود بخود ہوگیا۔ پس جو ساری رات محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتا رہے، اُس کے نامۂ اعمال میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تو لکھا ہی ہوگا مگر اجر میں اللہ، اللہ، بھی لکھا ہوگا۔ حضرت خواجہ غلام فرید نے فرمایا تھا:

محمد محمد کریندے گزر گئی

پس جس کی محمد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کریندے گزر گئی، اس کی اللہ اللہ کریندے گزر گئی اور وہ سمجھے کہ وہ اللہ اللہ کرتا رہا۔ پس ذکرِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ذکرِ خدا بھی ہے۔

معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ذات، صفات، افعال، اسمائ، ظاہر اور باطن میں ایسا مظہرِ اتم بنادیا کہ بس معبود اور عبد کا فرق باقی رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد رہے اور وہ معبود رہا۔ خالق و مخلوق کے فرق کو باقی رکھا اور باقی سارے فرق مٹا دیئے۔ پس عقیدہ یہ ہے کہ اب جو فرقِ عبدیت یعنی عبد اور معبود کا فرق مٹائے وہ مشرک ہے اور جو اس ایک فرق کے سوا اور فرق لگائے وہ کافر ہے۔

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو، نہ خدا ہو
اللہ ہی کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو

ماخوذ از ماہنامہ منہاج القرآن، مارچ 2019ء

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top