شبِ برأت میں رحمتِ الٰہی کے دروازے سب کے لیے کھول دیے جاتے ہیں: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

سچی توبہ بندے کو گناہوں کے اندھیروں سے نکال کر رحمتِ الٰہی کی روشنی میں لے آتی ہے:خطاب

شب برأت وہ مبارک رات ہے جسے اللہ ربّ العزّت نے بندوں کی مغفرت، رحمت اور ہدایت کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔ یہ وہ بابرکت رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے، دلوں کی ندامت و پشیمانی کو قبول کرتا ہے اور روحانی اصلاح کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس شب عبادت، استغفار اور دعا کی فضیلت بے حد بڑھ جاتی ہے، اور بندہ اپنے ربّ کے حضور عاجزی و انکساری کے ساتھ رجوع کر کے اپنی زندگی کے تاریک گوشوں کو روشنی سے منور کرتا ہے۔ شبِ برأت نہ صرف مادی زندگی کے لیے رحمت و بخشش کا پیغام لاتی ہے بلکہ روحانی طور پر انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے، اخلاق کو سنوارنے اور دل کو ایمان کی روشنی سے بھرنے کا سنہری موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ رات انسان کے لیے خداوندی محبت اور مغفرت کے انمول لمحے کا ذریعہ ہے، جسے غنیمت جان کر ہر مسلمان کو اپنی روحانی ترقی کے لیے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں بندے کو اپنے ربّ کے حضور رجوع اور محاسبۂ نفس کا غیر معمولی موقع عطا کیا جاتا ہے۔ گویا شبِ برأت انسان کے لیے روحانی تجدید، اخلاقی اصلاح اور عبدیت کے شعور کی بیداری کی ایک عظیم الٰہی ندا ہے، جس میں ہر گناہگار کے لیے رجوع، ہر پشیمان کے لیے مغفرت اور ہر طالبِ حق کے لیے قربِ خداوندی کی نوید پوشیدہ ہے۔

شبِ برأت رحمت اور مغفرت کی رات:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: شبِ برأت وہ مبارک رات ہے جس میں اللہ ربّ العزّت اپنی رحمت کے خزانوں کو لٹاتا اور اپنی رحمت کے سمندر کو جوش میں لے آتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس بابرکت شب میں غفلت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں سے کچھ حصہ پائیں اور اس کی رحمت کے سمندر سے اپنی جھولی بھر لیں، تاکہ ہماری زندگی ایمان، مغفرت اور قربِ الٰہی کی خوشبو سے مہک اٹھے۔

سیدنا علی المرتضی علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس رات اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ، أَلَا مِنْ مُسْتَرْزِقٍ فَأَرْزُقَهُ، أَلَا مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ، أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ۔

(بیہقی، شعب الإیمان، جلد5، ص 354، رقم: 3542)

’’کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اُس کو بخش دوں، کوئی ہے جو مجھ سے رزق کا طلبگار ہو اور میں اُس کو رزق عطا کر دوں، کیا کوئی سائل ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اُس کو عطا کر دوں۔ (یہ ندا اس رات کو بلند ہوتی رہتی ہے) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔‘‘

امام بیہقی حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ نَادَى مُنَادٍ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ، هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ۔

(بیہقی، شعب الإیمان، جلد5، ص 362، رقم: 3555)

’’جب شعبان کی نصف رات (یعنی شبِ برأت) آتی ہے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کر دوں؟‘‘

توبہ و مغفرت: بندگی کی اعلیٰ معراج:

شیخ حماد مصطفی القادری نے مزید کہا کہ: عزیزانِ محترم! اللہ ربّ العزّت انسان کی تمام خطاؤں، لغزشوں اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، بشرطیکہ بندہ اخلاص کے ساتھ اس کی چوکھٹ پر حاضر ہو، عاجزی و انکساری کے ساتھ دستِ سوال دراز کرے، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو، دل سے پشیمانی محسوس کرے اور سچے دل سے مغفرت و توبہ کی التجا کرے۔ جب بندہ ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے تو یقینًا اللہ تعالیٰ اُس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اسے اپنی رحمت و مغفرت سے نواز دیتا ہے۔ اِسی مقام کے متعلق اللہ رب العزت نے سورۃ المائدہ میں ارشاد فرمایا:

﴿فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾

[المائدة: 39]

’’پھر جو شخص اپنے (اس) ظلم کے بعد توبہ اور اصلاح کرلے تو بے شک اللہ اس پر رحمت کے ساتھ رجوع فرمانے والا ہے۔ یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے‘‘

شبِ برأت کے حوالے سے بعض مفسرین نے بیان کیا کہ یہ آیتِ کریمہ اس کی نسبت نازل ہوئی:

﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ﴾

[الدخان : 3]

’’بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں‘‘

شبِ برأت کی خصوصیات:

شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری نے خطاب کے آخر میں شبِ برأت کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ: اس مبارک شب کی چند خصوصیات ہیں جن کا ذکر آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ اس رات اللہ ربّ العزّت امورِ کائنات کے فیصلے فرماتا ہے، اس میں بطورِ خاص عبادت کی عظیم فضیلت بیان کی گئی ہے، اس شب اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت نازل فرماتا ہے، شفاعت کے اسباب مہیا کرتا ہے اور بندوں کے لیے بخشش و مغفرت کے سامان پیدا فرماتا ہے۔ گویا یہ رات رحمت، فیصلہ، شفاعت اور مغفرت کا جامع الٰہی تحفہ ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top