خوفِ الٰہی وہ کیفیت ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ اُس کے باطن کو بھی بدل دیتی ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
اللہ کی محبت اور شوقِ دیدار وہ روحانی کیفیت ہے جو انسان کو دنیا کی آسائشوں سے بے نیاز کر کے صرف یادِ الٰہی میں مشغول کر دیتی ہے: خطاب
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ میں ایسے کئی روحانی واقعات ملتے ہیں جو انسان کو بندگی کے مختلف مقامات اور کیفیات سے آشنا کرتے ہیں۔ ایک موقع پر آپ کی ملاقات تین ایسے عبادت گزار گروہوں سے ہوئی جن کی حالتیں اگرچہ ظاہرًا کمزوری اور فقر کی تصویر تھیں، مگر باطن میں وہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی طلب سے سرشار تھے۔ کسی کے دل پر خوفِ الٰہی غالب تھا جس نے اس کے ظاہر و باطن کو بدل دیا تھا، کوئی جنت کی آرزو میں عبادت و ریاضت میں مصروف تھا، اور کچھ ایسے تھے جن کے دل اللہ کی محبت اور شوقِ دیدار سے لبریز تھے۔ درحقیقت یہی وہ روحانی کیفیات ہیں جو انسان کو دنیا کی ظاہری آسائشوں سے بے نیاز کر کے اسے ذکرِ الٰہی، عبادت اور قربِ خداوندی کی حقیقی لذت سے آشنا کر دیتی ہیں۔
عبادت کی تین منازل؛ خوف، اُمید اور محبتِ الٰہی:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہاڑ کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں آپ کی ملاقات ایک عبادت گزار گروہ سے ہوئی۔ جب آپ نے اُن لوگوں کو دیکھا تو محسوس کیا کہ اُن کے چہرے زرد پڑ چکے ہیں، جسم کمزور اور نحیف ہو گئے ہیں اور اُن پر فقر و فاقہ کے آثار نمایاں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تعجب ہوا کہ اُن کی یہ حالت کیوں ہو گئی ہے۔ آپ نے اُن سے پوچھا: اے لوگو! بتاؤ، تمہاری یہ حالت کیسے ہو گئی ہے؟
انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول! اللہ تعالیٰ کی جہنم کے خوف نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ دوزخ کے ڈر نے ہمارے دلوں کو اس قدر خوف زدہ کر دیا ہے کہ ہماری یہ کیفیت ہو گئی ہے۔ یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بے شک تم جس چیز سے ڈرتے ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں اُس سے محفوظ فرمائے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ آگے چل کر آپ کی ملاقات ایک اور گروہ سے ہوتی ہے۔ جب آپ اُنہیں دیکھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ وہ پہلے گروہ سے بھی زیادہ نحیف اور کمزور ہو چکے ہیں۔ اُن کے چہرے بھی زرد پڑ گئے ہیں اور اُن کی حالت سے کمزوری صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُن سے پوچھتے ہیں: اے لوگو! میں تمہاری جو حالت دیکھ رہا ہوں، یہ کیسے پیدا ہوئی؟
وہ جواب دیتے ہیں: اے اللہ کے نبی! یہ حالت جنت کی شدید آرزو اور اُس کے شوق کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی جنت حاصل کرنے کی امید میں خود کو عبادت اور ریاضت میں مصروف رکھتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: اے لوگو! سن لو، اگر تم سچے دل سے اللہ رب العزت کی جنت کے طلب گار ہو تو بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں جنت ضرور عطا فرمائے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ آگے چل کر آپ کی ملاقات ایک اور گروہ سے ہوتی ہے۔ یہ ایک عجیب منظر تھا۔ اُن لوگوں کے جسم پہلے دونوں گروہوں سے بھی زیادہ نحیف اور کمزور ہو چکے تھے۔ اُن پر فقر و فاقہ کے آثار بھی نمایاں تھے اور اُن کے چہرے زرد پڑ چکے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اُن سے پوچھا: اے لوگو! مجھے بتاؤ کہ تمہاری یہ حالت کیسے ہو گئی ہے؟ میں تمہیں جس حال میں دیکھ رہا ہوں، یہ کیفیت کیسے پیدا ہوئی؟ انہوں نے عرض کیا:
اَلْحُبُّ لِلّٰهِ وَالشَّوْقُ إِلَيْهِ
’’یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کے دیدار کی شدید آرزو نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیا ہے۔‘‘ (غزالی، إحیاء علوم الدین، جلد 4، ص 295)
یعنی اللہ کی محبت اور اُس کی قربت و ملاقات کی تڑپ نے ہمارے دلوں کو اِس قدر بے قرار کر دیا ہے کہ ہم دنیا کی آسائشوں سے بے نیاز ہو کر صرف اسی کی یاد اور عبادت میں مشغول ہو گئے ہیں۔
آخر میں شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے کہا کہ: ہمیں بھی اپنے اندر یہی کیفیت پیدا کرنی ہے، یہی حال اور یہی وارفتگی پیدا کرنی ہے۔ وہ لوگ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیا ہے اور اُس کے دیدار کے شوق و آرزو نے ہمارے دلوں کو بے قرار کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی محبت، شوق اور عشق کے اس راستے پر چلتے ہیں اور اس راہ کے مسافر بنتے ہیں، انہیں بہت سی آزمائشوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ زندگی کا اصول ہے کہ کچھ حاصل کرنے اور کسی بڑی منزل تک پہنچنے کے لیے انسان کو کچھ نہ کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ان روحانی احوال، کیفیات اور بلند مقامات کو تو پانا چاہتے ہیں، مگر انہیں حاصل کرنے کے لیے جو محنت، صبر اور قربانیاں درکار ہوتی ہیں، انہیں دینے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم منزل کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر اس تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ